افغانستان نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا، تاہم آغاز اچھا نہ رہا۔ رحمان اللہ گرباز پہلی ہی گیند پر رن آؤٹ ہو گئے اور جلد ہی صدیق اللہ اٹل بھی پویلین لوٹ گئے، جس سے اسکور 19/2 ہو گیا۔
اس مشکل وقت میں درویش رسولی کریز پر آئے اور ابراہیم زدران کے ساتھ مل کر ویسٹ انڈیز کے گیند بازوں کی درگت بنائی۔ دونوں کے درمیان 162 رنز کی ریکارڈ شراکت داری ہوئی، جس میں 16 چوکے اور 5 چھکے شامل تھے۔ ابراہیم زدران نے 87 اور درویش رسولی نے 84 رنز کی اننگز کھیلی، جس کی بدولت افغانستان نے 20 اوورز میں 181/3 کا مجموعی اسکور ترتیب دیا۔
182 رنز کے تعاقب میں ویسٹ انڈیز کی ٹیم شروع سے ہی دباؤ کا شکار رہی۔ مجیب الرحمان نے پہلے ہی اوور میں برینڈن کنگ کو آؤٹ کر دیا، جبکہ جانسن چارلس (27 رنز) بھی زیادہ دیر مزاحمت نہ کر سکے۔ پاور پلے کے اختتام پر ویسٹ انڈیز کا اسکور 45/3 تھا جو جلد ہی راشد خان کی عمدہ بالنگ کی وجہ سے 50/5 ہو گیا۔ راشد نے شمرون ہیٹمائیر اور عامر جانگو کو لگاتار اوورز میں آؤٹ کیا۔
میچ کے آخری لمحات میں ڈیبیو کرنے والے کوئنٹن سیمپسن (30) اور میتھیو فورڈ نے 45 رنز کی شراکت سے امید جگائی، لیکن نور احمد نے 18ویں اوور میں تین گیندوں کے اندر فورڈ اور موتی کو آؤٹ کر کے ویسٹ انڈیز کی کمر توڑ دی۔ ضیاء الرحمان شریفی نے 20ویں اوور میں آخری وکٹ حاصل کر کے میچ کا خاتمہ کیا، انہوں نے 36 رنز دے کر 3 وکٹیں حاصل کیں۔
