Masarrat
Masarrat Urdu

کرنل صوفیہ پر قابل اعتراض تبصرہ کرنے والے وزیر کے خلاف مقدمہ چلانے کا فیصلہ لے مدھیہ پردیش حکومت: سپریم کورٹ

Thumb

نئی دہلی، 19 جنوری (مسرت ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے پیر کے روز مدھیہ پردیش حکومت کو ہدایت دی کہ کرنل صوفیہ قریشی کے خلاف مبینہ قابل اعتراض تبصرہ کرنے والے وزیر کنور وجے شاہ کے خلاف مقدمہ چلانے کی منظوری دینے سے متعلق فیصلہ دو ہفتوں کے اندر کرے۔

چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس دیپانکر دتہ اور جسٹس جوئے مالیہ باگچی پر مشتمل بنچ نے کہا کہ عدالت کی جانب سے تشکیل دی گئی خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) نے اپنی جانچ مکمل کر لی ہے اور حتمی رپورٹ پیش کر دی ہے۔

عدالت نے نوٹ کیا کہ آگے کی کارروائی اس لیے رکی ہوئی ہے کیوں کہ بھارتیہ نیائے سنہتا کی دفعہ 196 کے تحت مبینہ جرم کا نوٹس لینے کے لیے ریاستی حکومت کی منظوری درکار ہے۔ یہ دفعہ فرقہ وارانہ نفرت یا دشمنی کو فروغ دینے سے متعلق ہے۔

بنچ نے ایس آئی ٹی کی جانب سے پیش کی گئی ان دیگر مثالوں پر بھی غور کیا جن میں مبینہ طور پر مسٹر شاہ کے ذریعے قابل اعتراض بیانات دیے گئے تھے۔ عدالت نے ایس آئی ٹی کو ہدایت دی کہ ان اضافی معاملات پر ایک الگ رپورٹ پیش کی جائے۔

یہ معاملہ ’آپریشن سندور‘ کے بعد مسٹر شاہ کے دیے گئے بیانات سے سامنے آیا جن میں مبینہ طور پر کرنل صوفیہ قریشی کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ ان بیانات کے بعد مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے ازخود نوٹس لیتے ہوئے مسٹر شاہ کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا تھا۔

مسٹر شاہ نے ہائی کورٹ کے حکم کو چیلنج کرتے ہوئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ اس معاملے کی سابقہ سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے مسٹر شاہ کے بیانات کی مذمت کی تھی اور الزامات کی جانچ کے لیے ایک ایس آئی ٹی تشکیل دی تھی۔ تاہم عدالت نے جانچ مکمل ہونے تک ان کی گرفتاری پر روک لگا دی تھی۔

پیر کو سماعت کے دوران مسٹر شاہ کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر وکیل منیندر سنگھ نے دلیل دی کہ وزیر اپنی معافی ریکارڈ پر رکھ چکے ہیں اور وہ جانچ میں تعاون کر رہے ہیں۔ تاہم بنچ نے کہا کہ عدالت کے سامنے کوئی معافی نامہ داخل نہیں کیا گیا ہے۔

چیف جسٹس نے تبصرہ کیا، ’’اب معافی مانگنے کے لیے بہت دیر ہو چکی ہے، ہم پہلے ہی اس بات پر تبصرہ کر چکے ہیں کہ کس نوعیت کی معافی پیش کی گئی تھی۔‘‘ عدالت اس سے قبل مسٹر شاہ کی عوامی معافی کو ’قانونی ذمہ داری سے بچنے‘ کے لیے ’مگرمچھ کے آنسو‘ قرار دے کر مسترد کر چکی ہے اور بعد میں ایک ’آن لائن معافی‘ پر بھی عدم اطمینان ظاہر کیا تھا۔

مسٹر شاہ پر الزام ہے کہ انہوں نے ایک عوامی اجتماع میں کہا تھا کہ پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد ملک نے دہشت گردوں کو ختم کرنے کے لیے ’دہشت گردوں کی بہن‘ کو بھیج کر بدلہ لیا۔ ان کے اس بیان پر نہ صرف شدید تنقید ہوئی بلکہ اس کے خلاف قانونی کارروائی بھی شروع کی گئی۔

 

Ads