کانگریس کے شعبہ مواصلات کے انچارج جئے رام رمیش نے پیر کے روز ایک پریس بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کے بجٹ سیشن کا شیڈول سامنے آ چکا ہے اور تقریباً 20 دنوں کے بعد نیا بجٹ پیش کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ بجٹ 16 ویں مالیاتی کمیشن کی سفارشات پر مبنی ہوگا، جس کی رپورٹ گزشتہ 17 نومبر کو پیش کی جا چکی ہے۔ یہ سفارشات 2026 سے 2031 تک مرکز اور ریاستوں کے درمیان ٹیکسوں کی تقسیم کے طریقہ کار کو طے کریں گی۔
جئے رام رمیش نے مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اگر ان بنیادی مسائل کا حل نہ نکالا گیا تو جی ڈی پی کی بلند شرح نمو اور روزگار کے مواقع پیدا کرنا محض ایک خواب بن کر رہ جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ
کارپوریٹ ٹیکس میں چھوٹ اور بھاری منافع کے باوجود نجی شعبہ سرمایہ کاری سے کترارہا ہے۔عوامی سطح پر گھریلو بچتوں میں ہونے والی نمایاں کمی نے ملکی سرمایہ کاری کی صلاحیت کو محدود کر دیا ہے اور ملک میں آمدنی، اثاثوں اور قوتِ خرید کے لحاظ سے امیر اور غریب کے درمیان فرق تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
کانگریس رہنما نے منریگا (MGNREGA) کے نئے قانون میں 60:40 کے فارمولے پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلے سے پہلے سے مالی دباؤ کا شکار ریاستی حکومتوں پر بوجھ مزید بڑھ جائے گا، جو وفاقی ڈھانچے کے لیے نقصان دہ ہے۔
اپنے بیان کے آخر میں انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا آنے والا بجٹ صرف اعداد و شمار کی جادوگری تک محدود رہے گا یا حکومت زمینی حقائق کو تسلیم کرتے ہوئے کوئی ٹھوس اور معنی خیز قدم اٹھائے گی؟
