Masarrat
Masarrat Urdu

ہندوستان نے شکسگام وادی میں چین کے تعمیراتی کام پر سخت احتجاج کیا، کہا کہ یہ ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے: وزارت خارجہ

Thumb

نئی دہلی، 9 جنوری (مسرت ڈاٹ کام) ہندوستان نے پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر میں شکسگام وادی میں چین کے تعمیراتی کام پر سخت احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے اور وہ اس علاقے کے حوالے سے 1963 کے چین پاکستان معاہدے کو تسلیم نہیں کرتا ہے۔ جمعہ کو یہاں ہفتہ وار بریفنگ میں شکسگام وادی میں چین کے تعمیراتی کام کے حوالے سے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ ہندوستان نام ونہاد چین پاکستان اقتصادی راہداری کو بھی تسلیم نہیں کرتا، کیونکہ یہ پاکستان کے غیر قانونی طور پر مقبوضہ ہندوستانی علاقے سے گزرتا ہے۔ ہندوستان اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ "ہندوستان شکسگام وادی میں چین کی طرف سے کی جا رہی کسی بھی تعمیر کی سختی سے مخالفت کرتا ہے، کیونکہ یہ ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے۔ بھارت نے کبھی بھی نام نہاد 1963 کے چین-پاکستان سرحدی معاہدے کو تسلیم نہیں کیا ہے اور مسلسل کہا ہے کہ یہ معاہدہ غیر قانونی اور غلط ہے۔"

انہوں نے کہا کہ ہندوستان نام ونہاد چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور کو بھی تسلیم نہیں کرتا کیونکہ یہ پاکستان کے غیر قانونی طور پر قابض ہندوستانی علاقے سے گزرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر اور لداخ کا پورا خطہ ہندوستان کا اٹوٹ انگ ہے۔

ترجمان نے کہا کہ اس موقف سے چین اور پاکستان کے حکام کو بارہا واضح طور پر آگاہ کیا جا چکا ہے۔ ہندوستان نے چین کی طرف سے شکسگام وادی میں جمود کو تبدیل کرنے کی کوششوں کے خلاف مسلسل سخت احتجاج درج کرایا ہے۔ ہندوستان اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

وزارت خارجہ کا یہ ردعمل ان اطلاعات کے بعد آیا ہے کہ چین نے 4,805 میٹر کی بلندی پر واقع درہ اگل کے پار ایک سڑک تعمیر کی ہے، جو وادی شکسگام کی طرف لے جاتی ہے۔

 

Ads