Masarrat
Masarrat Urdu

دم توڑتی اردو زبان کے ہم سب گِدھ........!

  • 21 Dec 2020
  • عبدالستار، مظفرپور
  • مضامین
Thumb

یہ بات بہت پرانی نہیں ہے جب ہم سب مل کر عربی،سنسکرت،فارسی اور اردو زبان ایک ہی اسکول میں پڑھتے تھے۔چکبست،فراق،نارنگ،پریم چند وغیرہ تو ہمارے ہی زمانے کے ہیں لیکن پتہ نہیں کیا سوچ کر اِن زبانوں کو پہلے الگ الگ کیا گیا پھر ختم کیاگیا۔سب سے پہلے عربی زبان کی زبان بندی کی گئی۔فارسی کے ساتھ بھی ایسا ہی کیا گیا۔ اب باری اردو کی ہے۔پرائمری اسکولوں میں اردو کا پڑھایا جانا ختم نہیں کیا گیا ہے جب کہ عربی اور فارسی کو اختیاری مضمون بنایا ہوا ہے۔اِس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کوئی بھی اردو داں طالب علم اپنے نصاب میں اب عربی یا فارسی نہیں رکھتا کیوں کہ اِس زبان کے علم سے اُسے مستقبل میں کوئی فائدہ حاصل ہونے کی امید قطعی نہیں ہے لہٰذا طلبا کمپیوٹر، اسٹیٹکس، اکانومکس وغیرہ کی طرف مائل ہو نے لگے اور یہ زبان دائرہئ استعمال سے خارج ہوتی چلی گئی۔ہم سب چپ رہے۔کھلی آنکھوں سے دیکھتے رہے لیکن کچھ نہ کر سکے۔میں کسی احتجاج کی طرف اشارہ نہیں کر رہا بلکہ جو لوگ جہاں بھی اس شعبے میں تھے خاموش رہے کہ اِس سے اُن کا کوئی نقصان ہوتا ہوا نظر نہیں آیا لیکن کچھ ہی سالوں میں یہ زبان صرف مدرسوں کی چہار دیواری میں مقید ہو گئی۔وہاں بھی گیرائی و گہرائی سے درس و تدریس کا نظم نہیں کیا گیا بلکہ MONOPOLY (اجارہ داری)سمجھ کر کیا گیا۔نتیجہ سامنے ہے۔ابھی حال ہی میں 15 مئی 2020  کو صوبہ بہار کی محکمہ تعلیم نے ایک مکتوب جس کا نمبر 799 ہے جاری کر کے درجہ میٹرک یعنی 10ویں اور 2+ یعنی12ویں میں صرف6  ٹیچروں کی تقرری کا حکم نامہ جاری کر کے اردو زبان کو جو قبل تک لازمی حیثیت سے پڑھائی جاتی تھی اور امتحان لئے جاتے تھے اُسے اختیاری کر دیا گیایعنی کسی بھی اردو داں طلبا کے لئے اس زبان کا پڑھنا اب اُس کے اختیار میں شامل ہوگیا جس طرح عربی اور فارسی زبان کو کیا گیا تھا۔حکومت کی منشا سامنے آگئی کہ نہ رادھے کو نو من تیل ہوگا نہ رادھے ناچے گی۔جب ارد و پڑھائی ہی نہیں جائے گی پھر حکومت کو اس زبان کے لئے ہزاروں کی تعداد میں معلم بحال کرنے کی ضرورت ہی نہیں رہے گی۔نہ رہے بانس نہ بجے بانسری۔اردو داں طالب علم،اس کے نگراں (ٹیچر/پروفیسر)  و دیگرکے کانوں پہ جوں بھی نہ رینگ سکی کیوں کہ انہیں کوئی نقصان نہیں ہو رہا تھا بلکہ ان کی عزت میں مزید اضافہ ہو نے والا تھا کہ اب وہ تنہاں رہیں گے۔اچھی طرح ان کی پوجا ہوگی۔بند لفافے تنہاں ہی حاصل کیاکریں گے۔دیو ناگری میں لکھ کر نثر و نظمیں مجمع کو سنایا کریں گے۔خوب شور مچایا جائے گا جسے وہ اپنے لئے داد تصور کریں گے لیکن یہ بھول گئے ہیں کہ اُن کے بعد کون ہوگا جنہیں اس طرح بھی انعام و اکرام سے نوا زا جائے گا۔کچھ ذی ہوش لوگوں نے جب حکومت کو اِس بات کی طرف توجہ دلائی تو حکومت نے اُسی سرکولر کو قایم رکھتے ہوئے 40 طالب علم کی شرط لگا دی کہ جس اسکول میں اردو پڑھنے والے 40 بچے ہوں گے وہاں ایک ٹیچر دئے جائیں گے یعنی ہر صورت میں اردو کے خاتمے کا انتظام کیا گیا ہے۔ نئی حکومت کے بن جانے کے بعد اب تک نئے وزیر محکمہ تعلیم کی طرف سے نہ کوئی وضاحت سامنے آئی ہے نہ اُس سرکولر کو منجمد کر دیا گیا ہے اور نہ کسی ذی وقار و ذی ہوش نے اِس ضمن میں سرکار سے رجوع کیا ہے۔ممکن ہے کچھ لوگ اِس فراق میں ہوں کہ ابھی کچھ بول کر یا اردو زبان کے جائز حق کی مانگ کر اپنی عاقبت کیوں خراب کریں۔ شاید کوئی وزارت ہی مل جائے۔کہیں کا چیئر پرسن ہی بنا دیا جائے لیکن کوئی اللہ کا بندہ محکمہ سے اور سرکار سے اپنے مکتوبات اور میمورینڈم کے حشر کے بارے میں RTI کے ذریعہ تو معلوم کر سکتا ہے لیکن کوئی نقل و حرکت دکھائی نہیں دے رہی ہے۔
ایک اخبار کی خبر سے اندازہ ہوا کہ بہار یونی ور سیٹی میں  بی اے میں فارسی نصاب کے لئے ایک بھی درخواست نہیں موصول ہوئی ہے۔ظاہر ہے اِس شعبے کے بند ہو جانے میں اب کچھ بھی دیر نہیں۔آخر ایسے شعبے میں طعینات پروفیسروں اور گیسٹ ٹیچروں پرحکومت لاکھوں روپئے فی پروفیسر کے حساب سے کیوں خرچ کرے جب کوئی طالب علم فارسی پڑھنا نہیں چاہتا۔کچھ فارسی پڑھنے والوں سے گفتگو کرنے سے معلوم ہوا ہے کہ انہیں کبھی ٹھیک سے پڑھایا بھی نہیں گیا اور غلط طریقہئ کار اپنا کر انہیں لوٹا گیا۔پٹنہ /مگدھ یونیورسیٹی کی خبر کے مطابق ایک کالج میں اردو شعبہ میں صرف ایک طالب علم ہی تعلیم حاصل کر رہا ہے۔اِس طرح عنقریب ہی فارسی شعبہ کی طرح اردو کا شعبہ بھی بند ہوتا ہوا نظر آنے والا ہے۔ تعلیم کا معیار اتنا فرسودہ ہو گیا ہے کہ طلبا کہیں کا نہیں رہ جاتا۔یہی وجہ ہے کہ ہماری زبان اردو مردہ ہو رہی ہے۔کسی کو پتہ نہیں ہے کہ کالج کا نصاب کیا ہے۔حتیٰ کہ یونیورسیٹی ہیڈ کو بھی علم نہیں کہ سلیبس کیا ہے۔جسے جو جی میں آرہا ہے پڑھا رہا ہے بلکہ پڑھانے کا ڈھونگ رچ رہا ہے۔طلبا جو ذرا ہوش مند ہیں وہ مارے مارے پھر رہے ہیں لیکن کسی کو کوئی غرض نہیں کہ طلبا کا مستقبل تاریک سے تاریک تر ہوتا جا رہا ہے۔انہیں ہر مہینے ان کے بینک اکاؤنٹ میں تنخواہ پہنچ رہی ہے۔دوسری طرف یہی سارے لوگ ہر قسم کے کام میں موٹی رقم وصول کرنے میں مشغول ہیں۔اگر کوئی صدر شعبہ ہے تو اسے پرو وی سی بننا ہے۔اگر وی سی ہے تو کسی ایوان کا ممبر بننے کی خواہش میں اس کی نیندیں حرام ہے۔ اس کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں لیکن یہ بھول چکے ہیں کہ جس زبان کی بدولت وہ کسی اونچی کرسی پر بیٹھ گئے ہیں اُس کا حق بھی ادا کرنا ہے۔اگر کوئی شاعری کرنے لگا ہے تو اپنی واہ واہ کرنے والوں کی ٹولی بنانے میں مشغول ہے     ؎
” ہوتا  ہے  شب  و  روز  تماشا  میرے  آگے  “
ایسی ایسی تنظیمیں منظر عام پر نمودار ہو چکی ہیں جن کا کام ہے اپنے لوگوں کی شکم پروری کرنا۔ہر محفل میں، ہر مشاعرے میں وہ ضرور نظر آتے ہیں۔ابھی حال ہی میں 4,638 /اسسٹنٹ پروفیسر کی بحالی کا نوٹیفیکیشن جاری ہوا ہے جس کی رو سے عربی زبان کے لئے 2 سیٹیں،فارسی زبان کے لئے  14سیٹیں اور اردو زبان کے لئے  100سیٹوں  کے لئے درخواستیں طلب کی گئی ہیں۔اگر اِن تین زبانوں کو یکجا کر دیا جائے تو کل ملاکر اردو داں طبقہ کے لئے صرف 116تقرری ہی ہیں جن میں قانون کے مطابق ریزرویشن زمرے کو اسی 116پوسٹس میں سے دیا جائے گا۔کمال کی بات یہ ہے کہ اِن زبانوں میں بہار و جھارکھنڈ میں کوئی ایس سی ایس ٹی کا امیدوار آج تک نہیں ملا ہے پھر بھی ان کے لئے کچھ سیٹوں کو مخصوص کر دیا گیا ہے۔کئی بار محکمہ کی توجہ اِس طرف دلوائی جا چکی ہے لیکن آج تک یہ فیصلہ نہ ہو سکا کہ امیدوار نہ ملنے کی صورت میں ایس سی ایس ٹی  کے لئے مختص سیٹوں کو عام سیٹ تصور کیا جائے گا۔حال یہ ہے کہ ہر دفعہ ایسی سیٹیں خالی رہ جاتی ہیں جس کی وجہ سے تعلیم و تدریس کا عمل متاثر ہوتا ہے کیوں کہ ضرورت سے کم امیدواروں کی تقرری عمل میں آتی ہے۔اِس کے لئے چاہئے کہ ایسے اشخاص جو صاحب مسند ہیں خواہ وہ مشاورتی کمیٹی میں ہوں،کسی انجمن کے سربراہ ہوں،ڈائریکٹوریٹ میں ہوں یا کسی جگہ شعبہ کے صدر ہوں،پرو وی سی ہوں،رجسٹرار ہوں یا عام شہری ہوں انہیں چاہئے کہ وہ ان تمام باتوں کی طرف پالیسی بنانے والے ادارے یا محکمہ کے اعلیٰ افسران کی توجہ حاصل کی جائے ورنہ ان کی حالت اسی مر رہے جانور جیسی بن کر رہے گی جسے گِدھ اُس کے مرنے سے پہلے ہی نوچنا شروع کر دیتا ہے اور مرنے سے قبل ہی مار ڈالتا ہے۔ اندازہ کر سکتے ہیں کہ اُس مر رہے جانور کو کتنی تکلیف و اذیت پہنچتی ہوگی۔ہم سب عربی وفارسی زبان کے ساتھ ایسا سلوک کر چکے اب اردو زبان کوبھی گِدھ نوچنے لگے ہیں۔ اپنے زندہ ہونے کا ثبوت پیش کریں اور اردو زبان جو صرف زبان ہی نہیں ہماری تہذیب بھی ہے کو مٹنے سے بچائیں۔ گِدھ کی طرح اردو زبان کو نوچنے والے نہ بنیں بلکہ ایک ماں کی طرح بیمار ہوتی جارہی اردو زبان کو اُس کی ماں بن کر پرورش کریں۔ آپ سب جانتے ہوں گے کہ اِسپین سے مسلمانوں کا خاتمہ کس طرح کیا گیا تھا لیکن اسی اسپین میں اردو ڈائجیسٹ ہر ماہ نکل رہا ہے جسے دنیا بھر کے قارئین و ناظرین اسے اپنی تخالیق ارسال کر رہے ہیں۔ہم اپنی اردو زبان کو اِس ملک میں اور اِس صوبے میں پھر سے بلندیوں تک پہنچا سکتے ہیں اگر ٹھان لیں۔(ان شا  ء اللہ)۔
ولی مَینشن،سعدپورہ قلعہ،مظفرپور
9835666622                           

 

Ads

علاقائی

Ads