تہران، 28 اگست (مسرت ڈاٹ کام) ایران نے یورپی ٹرائیکا کی جانب سے اسنیپ بیک میکانزم فعال کرنے کی صورت میں مناسب ردعمل دکھانے کا عندیہ دیا ہے۔
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران اور یورپی ممالک کے درمیان جوہری پروگرام کے بارے میں تنازع شدت اختیار کررہا ہے۔
تفصیلات کے مطابق وزارت خارجہ کے معاون برائے قانونی و بین الاقوامی امور کاظم غریبآبادی نے کہا ہے کہ ایران نے حالیہ مذاکرات میں یورپی ممالک کو واضح طور پر بتایا ہے کہ وہ قانونی طور پر اسنپ بیک میکانزم فعال کرنے کے اہل نہیں اور اس کے لیے کوئی قانونی بنیاد موجود نہیں۔
غریبآبادی نے کہا کہ اگرچہ یورپی ممالک کا نقطہ نظر مختلف ہے، حقیقت یہ ہے کہ وہ سالوں سے جوہری معاہدے پر عمل نہیں کر رہے، لیکن دعوی کرتے ہیں کہ اس پر عمل جاری ہے۔ ایران نے ان سے کہا کہ اگر واقعی جوہری معاہدے پر عمل ہو رہا ہے تو اس کی تفصیلات فراہم کریں، کیونکہ موجودہ معلومات اور شواہد اس دعوے کی تردید کرتے ہیں۔
معاون وزارت خارجه نے مزید کہا کہ یورپ نے نہ صرف معاہدے پر عمل نہیں کیا بلکہ حالیہ مہینوں میں ایران کے بحری اور فضائی شعبوں پر نئی پابندیاں بھی عائد کی ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یورپی ممالک اسنپ بیک کو فعال کرنے کی کوشش کریں، تو ایران مناسب ردعمل ظاہر کرے گا اور موجودہ تعاون عملی طور پر معطل ہوجائے گا۔
غریبآبادی نے واضح کیا کہ اگر یورپ نے یہ اقدام کیا تو وہ عملی طور پر خود کو ڈپلومیسی سے الگ کر لے گا، اور اس کے بعد مذاکرات صرف سیکورٹی کونسل اور اس کے اراکین کے دائرہ کار میں جاری ہوں گے۔ ایران اب اس سلسلے میں یورپی ممالک سے براہ راست بات چیت نہیں کرے گا۔ تاہم، ایران نے اپنے موقف کے ساتھ ساتھ سفارتی رابطے جاری رکھنے کی آمادگی بھی ظاہر کی ہے۔