Masarrat
Masarrat Urdu

رضوان اور بابر کی جوڑی ٹی ٹوئنٹی کے فارمیٹ میں فٹ نہیں بیٹھتی : مکی آرتھر

Thumb

اسلام آباد، 27 اگست (مسرت ڈاٹ کام) پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق ہیڈکوچ مکی آرتھر نے کہا ہے کہ محمد رضوان اور بابراعظم کی جوڑی ٹی ٹوئنٹی کے فارمیٹ میں فٹ نہیں بیٹھتی ۔

سابق کوچ نے کہا کہ آج کی ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں تیز شروعات، بے خوف بلے بازی اور پہلی گیند سے ہی جارحانہ ارادے کی ضرورت ہوتی ہے۔ آرتھر نے کہا کہ بابر اعظم اور محمد رضوان اچھے کھلاڑی ہیں، لیکن کرکٹ بدل گئی ہے، وہ ٹی ٹوئنٹی کے لیے موزوں نہیں ہیں۔ آج کی ٹی ٹوئنٹی کرکٹ بالکل مختلف سوچ کا تقاضا کرتی ہے۔ بابر اور رضوان جس طرح کا کھیل کھیلنا چاہتے ہیں، اس کے لیے ایسے کھلاڑیوں کی ضرورت ہے جو ان کے وژن کو مکمل طور پر نافذ کر سکیں، لیکن اس وقت پاکستان کو مختلف انداز کی ضرورت ہے۔

پاکستان کی سب سے قابلِ اعتماد بیٹنگ جوڑی، بابر اعظم اور محمد رضوان کا مستقبل ایشیا کپ 2025 کی ٹیم سے باہر ہونے کے بعد سنجیدہ سوالات کے گھیرے میں ہے۔ایک وقت تھا جب بابر اور رضوان کو پاکستان کی سب سے مضبوط بیٹنگ جوڑی سمجھا جاتا تھا، لیکن اپنی سست بیٹنگ کی وجہ سے وہ تنقید کا نشانہ بن رہے ہیں۔ کئی لوگوں کا ماننا ہے کہ بابر اور رضوان کا بیٹنگ انداز ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کی رفتار سے میل نہیں کھاتا، کیونکہ ٹیمیں پہلے 6 اوورز میں 50 سے 60 رنز بنانے کی کوشش کرتی ہیں۔تفصیلات کے مطابق ایک نجی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں مکی آرتھر نے کہا کہ دونوں اچھے کھلاڑی ہیں لیکن کرکٹ اب تبدیل ہو چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ ہیڈ کوچ مائیک ہیسن اور کپتان سلمان علی آغا اپنے پلان کے مطابق کرکٹ کھیلنا چاہتے ہیں۔ مکی آرتھر نے کہا کہ ہمارے دور میں پاکستان ٹیم نمبر ون بنی جس کے لیے میں نے اور سابق کپتان سرفراز احمد نے پلاننگ کی تھی۔

اے آر وائی نیوز کے ساتھ ایک مقامی ٹی وی شو میں گفتگو کرتے ہوئے پاکستان کے سابق ہیڈ کوچ مکی آرتھر نے تسلیم کیا کہ بابر اعظم اور محمد رضوان اچھے کرکٹر ہیں، لیکن جدید ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ ان کے قدرتی کھیل سے آگے نکل گیا ہے۔

سرفراز احمد کی کپتانی میں پاکستان کو نمبر 1 ٹی ٹوئنٹی رینکنگ تک پہنچانے والے آرتھر نے اشارہ دیا کہ مائیک ہیسن کی قیادت میں ٹیم مینجمنٹ نئے آپشنز تلاش کرنے میں درست ہے۔ ہیسن کے ذمہ داری سنبھالنے کے بعد سے بابر اور رضوان ہر ٹیم سے باہر رہے ہیں۔ ان کی جگہ صائم ایوب، فخر زمان اور صاحبزادہ فرحان جیسے نوجوان اور زیادہ جارحانہ اوپنرز کو موقع دیا گیا ہے۔

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سامنے اگلے مہینے 9 ستمبر سے شروع ہونے والے ایشیا کپ 2025 کا چیلنج ہے۔ اس ٹورنامنٹ کے لیے پاکستان اپنی ٹیم کا اعلان کر چکا ہے اور سلمان آغا کو ٹیم کی قیادت سونپی گئی ہے۔ پاکستان اور ہندوستان دونوں کو ایک ہی گروپ میں رکھا گیا ہے۔

 

Ads