راہل گاندھی نے کہا کہ جن پارٹیوں کو بھاری رقم چندے کے طور پر ملی ہے، نہ کوئی انہیں جانتا ہے اور نہ ہی انہوں نے زیادہ انتخابات لڑے ہیں۔ ان پارٹیوں کو جتنا چندہ ملا ہے، اس کا کہیں کوئی حساب کتاب موجود نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان جماعتوں سے بھی الیکشن کمیشن کو حلف نامہ طلب کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا، ’گجرات میں کچھ ایسی گمنام پارٹیاں ہیں جن کا نام کسی نے نہیں سنا، لیکن انہیں 4300 کروڑ روپے کا چندہ ملا۔ ان پارٹیوں نے بہت ہی کم مواقع پر الیکشن لڑا ہے یا ان پر خرچ کیا ہے۔‘
کانگریس لیڈر نے سوال اٹھایا کہ ان گمنام پارٹیوں کے کھاتوں میں یہ ہزاروں کروڑ روپے کہاں سے آئے، ان پارٹیوں کو چلا کون رہا ہے اور چندے کا جو پیسہ ان کے کھاتوں میں گیا وہ کہاں ہے۔
انہوں نے الیکشن کمیشن سے پوچھا، ’کیا الیکشن کمیشن اس کی جانچ کرے گا؟ یا پھر یہاں بھی پہلے حلف نامہ مانگے گا، یا قانون ہی بدل دے گا تاکہ یہ ڈیٹا بھی چھپایا جا سکے؟‘