تہران، 27 اگست (مسرت ڈاٹ کام) ایرانی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ آئی اے ای اے انسپکٹرز کی واپسی پارلیمنٹ کے قانون کی خلاف ورزی نہیں، تعاون صرف قومی مفاد اور قانونی دائرے میں ہوگا
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے انسپکٹرز بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ میں ایندھن کی تبدیلی کے عمل کی نگرانی کے لیے ایران واپس آگئے ہیں۔
عراقچی کے مطابق، یہ اقدام ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے فیصلے کے تحت کیا گیا ہے تاکہ ایندھن کی تبدیلی کا عمل ایجنسی کی نگرانی میں مکمل ہو۔
انہوں نے واضح کیا کہ یہ واپسی ایران کی پارلیمنٹ کے اس قانون کی خلاف ورزی نہیں ہے جو امریکہ کی جانب سے جون میں تین بڑے ایٹمی مراکز پر حملے کے بعد منظور کیا گیا تھا۔ اس قانون کے مطابق ایران نے آئی اے ای اے کے ساتھ تعاون کو محدود کرنے کا اعلان کیا تھا اور ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل پر جھوٹے دعووں کے ذریعے ایران کے پرامن پروگرام کو نشانہ بنانے کا الزام لگایا تھا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے زور دیا کہ انسپکٹرز کی واپسی کا مطلب یہ نہیں کہ دونوں فریقین کے درمیان تعاون کا کوئی حتمی معاہدہ ہوا ہے بلکہ آئی اے ای اے کے ساتھ ہر طرح کا تعاون پارلیمنٹ کے قانون کے فریم ورک میں ہوگا، جو ایرانی قوم کے مفاد میں ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ نئے تعاون کے فریم ورک پر کوئی حتمی متن ابھی تک طے نہیں پایا۔
دوسری جانب آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل رافائل گروسی نے کہا ہے کہ ان کے معائنہ کاروں کا پہلا گروپ ایران پہنچ چکا ہے اور وہ ایران کی جوہری تنصیبات میں کام دوبارہ شروع کرنے کی تیاری کررہا ہے۔
گروسی نے کہا کہ جب بات ایران کی آتی ہے تو بہت سی تنصیبات موجود ہیں، کچھ پر حملے ہوئے، کچھ محفوظ ہیں۔ اب ہم اس بات پر بات چیت کر رہے ہیں کہ کن عملی اقدامات کے ذریعے اپنا کام دوبارہ شروع کرسکتے ہیں۔
بین الاقوامی ذرائع کے مطابق، یہ اب تک واضح نہیں ہے کہ گروسی کے بیانات ایران اور ایجنسی کے درمیان باضابطہ معاہدے کی عکاسی کرتے ہیں یا محض ایک پیش گوئی ہیں۔