جدہ، 26 اگست (مسرت ڈاٹ کام) ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے او آئی سی کے ہنگامی اجلاس کے دوران غزہ میں اسرائیلی مظالم کے پیش نظر اسلامی ممالک کی جانب سے فوری اور مربوط اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جدہ میں او آئی سی وزرائے خارجہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے غزہ میں اسرائیلی مظالم اور انسانی بحران کے تدارک کے لیے اسلامی ممالک کی طرف سے چار اقدامات کی تجویز پیش کی۔
عراقچی نے کہا کہ یاد رکھیں کہ غزہ کا المیہ صرف مسلمانوں کا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ یہ عالمی ضمیر کے لیے ایک امتحان ہے۔ لہذا ہم تمام اقوام سے، خواہ ان کا مذہب یا جغرافیہ کچھ بھی ہو، اپیل کرتے ہیں کہ وہ انسانیت اور انصاف کے حق میں کھڑے ہوں۔
انہوں نے مزید کہا کہ تاریخ تاخیر کو معاف نہیں کرے گی۔ غزہ مزید انتظار نہیں کرسکتا۔ عمل کا وقت اب ہے۔
اپنے خطاب میں انہوں نے چار ایسے طریقے تجویز کیے جن کے ذریعے صہیونی حکومت کو روکا جاسکتا ہے اور غزہ کے عوام کے دکھ درد کو کم کیا جا سکتا ہے۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ قابض اسرائیل کے ساتھ تمام تعلقات ختم کئے جائیں اور تل ابیب پر سیاسی، اقتصادی اور قانونی پابندیاں عائد کی جائیں۔
انہوں نے مزید تجویز دیتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی عدالتوں میں جنگی جرائم کے مرتکب افراد کا قانونی تعاقب کیا جائے اور عالمی سطح پر ان حکومتوں کا مقابلہ کیا جائے جو اسرائیل کو ہتھیار فراہم کرتی ہیں اور انصاف پر اعتراض کرتی ہیں۔
عراقچی نے مزید کہا کہ غزہ صرف ایک جگہ نہیں، بلکہ مزاحمت اور انسانی وقار کی علامت ہے۔ آج صرف بات کرنے یا وعدے کرنے کا نہیں، بلکہ فیصلہ کن کارروائی کا وقت ہے۔