Masarrat
Masarrat Urdu

محمد رفیع کی 45 ویں برسی پر خراج عقیدت ،چارعشرہ بعد بھی یاد برقرار

Thumb

ممبئی 30،جولائی (مسرت ڈاٹ کام) ہندوستانی فلمی دنیا کے مشہور گلوکاراور آواز کی دنیا کے بے تاج بادشاہ محمد رفیع کے انتقال 45 سال ہوچکے ہیں،لیکن آج تقریباً چار عشرے گزر جانے کے باوجود ان کی یاد برقرار ہے اور ان کے شیدائی جوہو قبرستان اور باندرہ میں ان کے نام سے منسوب چوک پر گلہائے عقیدت پیش کرتے ہیں ۔

محمد رفیع کا انتقال رمضان المبارک کی شب جمعہ اور نماز جمعہ کے وقت تیز بارش کے باوجود باندرہ سے سانتا کروز کےجوہو قبرستان تک پانچ چھ کلومیٹر کے فاصلے میں لاکھوں افرادکی  جنازے کے جلوس میں شرکت دیکھ کر مشہور صحافی حسن کمال  نے ہفتہ روزہ اُردو بلٹز کے صفحہ اول  پر لکھا کہ "ماہ مقدس اور جمعہ کادن محمد رفیع جیسے نیک اور مخلص انسان کے لیے ہےاور یقیناً وہ جنت الفردوس میں جگہ پانے والوں میں ہوں گے۔"آج 45 سال بعد بھی اُن کے نغمےعمررسیدہ ہی نہیں بلکہ نوجوان بھی گنگناتے ہیں۔
محمد رفیع پنجاب کے کوٹلہ سلطان سنگھ گاؤں میں 24دسمبر 1924 کو ایک متوسط مسلم خاندان میں پیدا ہوئے محمد رفیع ایک فقیر کے نغموں کو سنا کرتے تھے،جس سے ان کے دل میں موسیقی کے تئیں ایک لگاؤ پیدا ہوگیا۔رفیع کے بڑے بھائی حمید نے محمد رفیع کے دل میں موسیقی کے تئیں رجحان دیکھ لیاتھا اور انہیں اس راہ پر آگے بڑھانے میں ان کی حوصلہ افزائی کی۔
آج چار دہائی سے زیادہ کا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی ان کے نغموں سے لگاؤ اور ان کی آواز سے محبت کرنے والے لاکھوں لوگ دنیا بھر میں پائے جاتے ہیں ،اس سلسلہ میں کئی سروے اور جائزوں میں پایا گیا کہ درد بھرے،عشق ومحبت یے نغموں کے ساتھ ساتھ محمد رفیع کے بھجن اور نعت اور مذہبی نغمے کافی پسندیدہ ہیں۔
محمد رفیع نے 25 ہزار نغمے گائے ، کپور خاندان کی تین نسلوں کو زبان دی۔ پرتھوی راج کپور ، راج کپور، رندھیر اور رشی کپور سبھی کے لئے گانے گائے ہیں، شمی کپور نے ان کے انتقال پر کہا تھا کہ ” میری آواز چلی گئی ۔ "رفیع۔ صاحب کے نغمے ’تیری پیاری پیاری صورت کو کسی کی نظر نہ لگے‘، ’دل کے جھرکوں پہ تجھ کو بٹھا کے ‘، ’چاہے مجھے کوئی جنگلی کہے‘، ’چودھویں کا چاند ہو‘، ’بابل کی دعائیں لیتی جا‘، ’تعریف کروں کیا اس کی‘، ’چاہوں گا میں تمھیں سانجھ سویرے‘، ’یہ دنیا یہ محفل میرے کام کی نہیں‘، ’تیری آنکھوں کے سوا‘، ’چھپ گئے سارے نظارے ‘، ’پردہ ہے پردہ ‘، ’او میری محبوبہ‘، ’یہ ریشمی زلفیں‘، ’آنکھوں ہی آنکھوں میں ‘، ’اٹھرا برس کی تو‘، ’یہ میرا پریم پتر پڑھ کر‘، ’تجھے جیون کی ڈور سے ‘، ’یونہی تم مجھ سے بات کرتی ہو‘، ’مجھے تیری محبت کا سہارا‘، ’بھری دنیا میں آخر دل کو سمجھانے ‘، ’آدمی مسافر ہے‘، ’میرے دشمن تو میری دوستی کو ترسے‘، ’رم جھم کے گیت ساون گائے‘، ’یہ دل تم بن کہیں لگتا نہیں‘، ’آجا تجھ کو پکارے میرے گیت‘، ’سہانی رات ڈھل چکی‘، ’زندہ باد زندہ باد اے محبت‘، ’تمھاری نظر کیوں خفا ہو گئی‘، ’تیری دنیا سے دور‘، ’جو وعدہ کیا وہ نبھانا پڑے گا‘، ’میرے متوا میرے میت رے‘، ’میرے پیار کی آواز پے چلی آنا‘، ’وعدہ کرلے ساجنا‘، ’یہ چاند سا روشن چہرہ‘، ’اکیلے اکیلے کہاں جا رہے ہو‘، ’ایسا موقع پھر کہاں ملے گا‘، ’آنے سے اس کے آئے بہار‘، ’خوش رہے تو سدا‘، ’بار بار دیکھو‘،’باغوں میں بہار ہے‘، ’ہوئے ہم عشق میں برباد ہیں برباد رہیں گے‘، ’میرے دوست قصہ یہ ‘، ’سلامت رہے دوستانہ‘، وغیرہ شامل ہیں۔

محمد رفیع کو ان کے گیتوں پر 6 فلم فیئر ایوارڈ ملے تھے۔ حکومت نے انھیں پدم شری کے ایوارڈ سے بھی نوازا۔ 36000 سے زیادہ نغمے گائے اور وہ سارے گیت آج بھی کروڑوں لوگوں کی زبان پر ہیں۔ اس سے بڑا کوئی اور اعزاز نہیں ہو سکتا۔ رفیع ایسے فنکار تھے جنھوں نے درجنوں فنکاروں کی زندگی بنا دی۔ فلم دوستی میں موسیقار لکشمی کانت پیارے لال کے نغموں کو اپنی آواز دینے کے بعد وہ نغمے بہت مقبول ہوئے اور دنیا نے اس جوڑی کو پہچانا۔
' تم مجھے یوں بھلا نہ پاؤ گے،
جب کبھی سنو گے گیت میرے
سنگ سنگ تم بھی گنگناؤ گے '
ہاں واقعی رفیع جیسے لافانی گلوکار کو بھلانا کسی کے بس کی بات نہیں ہے اور برسوں گزرنے کے بعد اب یہ ثابت ہو گیا کہ ان جیسا فنکار بھارتی فلم انڈسٹری کو نہیں مل سکتا۔ان کے پرستار کا مطالبہ ہے کہ محمد رفیع کو بھارت رتن سے نوازا جائے۔
محمد رفیع کے ان لاکھوں چاہنے والوں میں سے ایسے ہی ایک چاہنے والے افغان نژاد شخص امان اللّٰہ نظامی سعودی عرب کے جدہ شہر میں مقیم تھے ،اور یہ اتفاق کی بات ہے کہ محمد رفیع کی برسی محض پانچ روز 25 جولائی کو انہوں نے داری اجل کو لبیک کہا۔یہ بھی اتفاق کیا بات ہے کہ 31 جولائی 1980 کو انتقال کے دن ہی ان کے سب سے بڑے بیٹے کی پیدائش ہوئی اور انہوں نے اس کا نام بھی محمد رفیع رکھنے کا فیصلہ کیا ۔
مشہور گلو کار محمد رفیع کی شخصیت ایسی ہے کہ 45،سال کا طویل عرصہ گزر جانے کے بعد بھی ان کی یاد موسیقی کے ہر شیدائی کے دل میں برقرار ہے ۔ آج بھی ایف ایم کے دور میں جب ان کی آواز رات کے سناٹے میں گونجتی ہے تو ایک عجیب سماں پیدا ہو جاتا ہے۔
ہندوستان میں ہی نہیں بلکہ بر صغیر ہند اور خلیجی ممالک میں ان کے چاہنے والوں کی تعداد لاکھوں میں ہے اور ان کے درد بھر نغمے ہوں یا عشق ومحبت اورخوشی کے گیتوں کو بھی پسند کیا جاتا ہے۔ محمد رفیع کے ان چاہنے والوں میں ایک شخص سعودی عرب کے شہر  جدہ میں مقیم ہے۔ افغان نسل امان اللہ نظامی کی ہندی فلموں اور اس کے نغموں سے لگاؤ اور پھرمحمد رفیع سے ان کی قربت بے مثال ہے۔ ان کے مکان میں ایک فلمی میوزیم ہے اور یہاں  35-1930 سے لیکر حال کی فلموں کے ویڈیو اورسی ڈی کا ذخیرہ موجود ہے۔ جو کہ ان کے فلمی تھیٹرنمامیوزیم  کی زینت بنی ہوئی ہیں۔دراصل ان کے بڑے صاحبزادے کی اسی دن پیدائش ہوئی جس روز 31 جولائی 1980 کو محمد رفیع کا انتقال ہوا، امان اللہ نے بیٹے کا نام محمد رفیع رکھ دیا۔ حالانکہ خاندان میں اس کی سخت مخالفت ہوئی، لیکن امان صاحب اپنے فیصلے پر اٹل رہے۔
امان اللہ نظامی ہندی فلموں کو اس حد تک پسند کرتے ہیں کہ انہوں اپنے مکان میں ایکنی تھیٹر بنادیا ہے ۔ انہیں پرانی فلموں سے کافی لگاؤ ہے۔ ایک اشارے  پر امان اللہ نظامی کسی بھی اداکار ، اسکی فلموں اور اس کی ہیروئنوں کے بارے میں تفصیل پیش کردیتے  ہیں ۔ محمد رفیع کا ہر ایک مشہور نغمہ انہیں زبانی یادہے اور وہ یہ بھی بتا سکتے ہیں کہ رفیع صاحب نے ابتدائی دور میں کس فلم میں اداکاری کے جوہر دکھائے اور انہیں کندن لال سہگل کی علالت کے سبب گانے کا موقع ملا۔ پھر انہوں نے پلٹ کر نہیں دیکھا۔
 

Ads