Masarrat
Masarrat Urdu

تبارک اللہ احسن الخالقین

  • 17 Jan 2019
  • ترتیب۔ریاض فردوسی
  • مذہب

 

۔

جب بچی کو جنا توکہنے لگیں اے پروردگار! مجھے تو لڑکی ہوئی ہے اللہ تعالیٰ کو خوب معلوم ہے کہ کیا اولاد ہوئی ہے اور لڑکا لڑکی جیسا نہیں میں نے اس کا نام مریم رکھا میں اسے اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتی ہوں۔(سورہ آل عمران آیت۔36)

اسلام میں مرد اور عورت کو پوری برابری حاصل ہے، میراث میں حصے سے لے کر شرعی سزائیں تک دونوں کے لئے ایک جیسی ہیں۔لیکن جسمانی اعتبار سے کچھ فرق موجود ہے۔عورت کا جسم مرد کے مقابلے میں انتہائی کمزور اور نازک ہے اور عورت کی اسی نزاکت کو سامنے رکھتے ہو ئے اسلام نے اْس کو گھر تک محدود کر دیا ہے اور مرد کے اوپر اْس کی کفا لت فرض کر دی گئی ہے، اگر عورت غیر شادی شدہ ہے تو اس کی کفا لت باپ اور بھائی پر فرض ہے اور اگر اْس کی شادی ہو ئی ہے تو اْ س کی کفا لت شوہر اور بیٹوں پرفرض ہے۔''''
مردعورتوں پرنگران ہیں اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کے بعض کوبعض پرفضیلت دی ہے اوراس وجہ سے کہ انہوں نے اپنے اموال میں سے خرچ کیاہے۔پس نیک عورتیں فرماں بردارہیں،وہ عدم موجودگی میں بھی حفاظت کرنے والی ہیں اس وجہ سے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں محفوظ رکھا،اوروہ عورتیں جن کی سرکشی سے تم ڈرتے ہوتوتم ان کوسمجھاؤاوران کوبستروں میں چھوڑدواوران کومارو،چنانچہ اگروہ تمہاری اطاعت کریں توان کو(ستانے کی)کوئی راہ تلاش نہ کرو،بلا شبہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے ہی بے حدبلند،بہت بڑاہے۔(سورہ النساء۔۔آیت۔34)
مُذکّر اُس لفظ (فاعل، مفعول یا فعل) کو کہاجاتا ہے جس کا استعمال بصورتِ تذکیر ہو یا جس میں تذکیر کا صیغہ استعمال ہو۔مذکر نر ہوتا ہے۔دادا،باپ، بھائی،بیٹا،پوتا۔
مُؤنّث اُس لفظ (فاعل، مفعول یا فعل) کو کہاجاتا ہے جس کا استعمال بصورتِ تانیث ہو یا جس میں تانیث یا مادہ جنس کا صیغہ استعمال ہو۔مؤنث مادہ کو کہا جاتاہے۔دادی،ماں،بیٹی،بہن،پوتی۔
حیاتیات میں، جنس ایک عمل کا نام ہے جو جینیاتی خصوصیات کے ملنے سے تعبیر کیا جاتا ہے، اس جینیاتی عمل کے نتیجے میں نئے بننے والے نامیے (organismm) کی جنس کا تعین نر یا مادہ کے طور پر ہو جاتا ہے اور اس نر و مادہ کی کیفیت کو بھی عرف عام میں اس نامیے کی جنس ہی کہا جاتا ہے ۔جنسی نوپیداوار میں خصوصی خلیات کو عِرس (gamete) کہا جاتا ہے۔ تولیدی اعضاء میں بننے والے اعراس (عرس یعنی gametee کی جمع) دواقسام ہوتے ہیں ایک جو مادہ (female) کے جسم میں پیدا ہوتے ہیں،انکو بیضہ (ova) کہا جاتا ہے جب کہ دوسرے وہ جو نر (male) کے جسم میں پیدا ہوتے ہیں جنکو نطفہ (sperm) کہا جاتا ہے۔ پھر جب بالغ جاندار (مادہ اور نر) میں اعراس (یعنی تولیدی خلیات) بن جاتے ہیں تو اس کے بعد نر اور مادہ کے جماع (intercourse) کرنے پر نر کا نطفہ، مادہ کے بیضہ سے مل جاتا ہے اور اس طرح ان دو خلیات کے ملاپ سے ایک نیا خلیہ بنتا ہے جسے لاقحہ (Zygote) کہا جاتا ہے اور یہی نیا بننے والا خلیہ رحم میں پرورش پاکر اس جاندار کا (جس نے جماع کی ہو) ایک نیا بچہ بنا دیتا ہے۔
جُنینی مراحل (embryonic stages) میں مردانہ وزنانہ تولیدی اعضاء یعنی فوطے (testiclee) اور بیضہ دان(Ovary) گردوں کے پاس سے ریڑھ کی ہڈی اور گیارہوں اور بارہویں پسلیوں کے درمیان سے نموپذیر ہونا شروع کرتے ہیں۔ بعد ازاں وہ کچھ نیچھے اُترآتے ہیں، زنا تولیدی غدود (gonads) یعنی بیضہ دانیاں پیڑو(pelvis) میں رُک جاتی ہے جبکہ مردانہ اعضائے تولید(inguinal canal) کے راستے خصیہ دانی (scrotum) تک جاپہنچتے ہیں۔ حتٰی کہ بلوغت میں بھی جبکہ تولیدی غدود کے نیچے جانے کا عمل رک چکا ہوتا ہے ان غدود میں دھڑوالی بڑی رگ (Abdominal aorta) کے ذریعے خون اور اعصاب کی رسانی کا سلسلہ جاری رہتاہے۔ واضح رہے کہ دھڑ والی بڑی رگ اس علاقے میں ہوتی ہے جو ریڑھ کی ہڈی اور پسلیوں کے درمیان ہوتا ہے۔ لمفی نکاس (Lymphetic drainage) اور خون کا وریدی بہاؤ بھی اس سمت ہوتاہے۔اس مرحلے کو اللہ تعالی نے اس طرح واضح کیا ہے۔
چنانچہ انسان کو چاہیے کہ وہ دیکھے کہ وہ کس چیزسے پیدا کیا گیا۔وہ ایک اچھلتے پانی سے پیدا کیا گیا ہے۔جو پیٹھ اور سینے کے درمیان سے نکلتا ہے۔(سورہ۔الطارق۔آیت۔5.6.7)
پھر نطفہ کو ہم نے جما ہوا خون بنا دیا پھراس خون کے لوتھڑے کو گوشت کا ٹکڑا کر دیا پھر گوشت کے ٹکڑے کو ہڈیاں بنا دیں پھر ہڈیوں کو ہم نے گوشت پہنا دیا، پھر دوسری بناوٹ میں اس کو پیدا کر دیا۔ برکتوں والا ہے وہ اللہ جو سب سے بہترین پیدا کرنے والا ہے۔(سورہ۔المومنون۔آیت۔14)
چند سوالات اہم ہیں۔کون ہے جو باپ کے جسم سے خارج ہونے والے اربوں جرثوموں میں سے ایک جرثومے اور ماں کے اندر سے نکلنے والے بکثرت بیضوں میں سے ایک بیضے کا انتخاب کر کے دونوں کو کسی وقت جوڑ دیتا ہے اور اس سے ا یک خاص انسان کا استقرار حمل واقع ہو جاتا ہے؟ پھر کون ہے جو استقرار حمل کے بعد ماں کے پیٹ میں درجہ بدرجہ اسے نشو ونما دے کر اسے اس حد کو پہنچاتا ہے کہ وہ ایک زندہ بچے کی شکل میں پیدا ہوتا، پھر کون ہے جو رحم مادر ہی میں اس کے جسم کی ساخت اور اس کی جسمانی و ذہنی صلاحیتوں کا تناسب قائم کرتا ہے؟ پھر کون ہے جو پیدائش سے لے کر موت کے وقت تک اس کی مسلسل نگہبانی کرتا رہتا ہے؟ اسے بیماریوں سے بچاتا ہے۔ حادثات سے بچاتا ہے۔ طرح طرح کی آفات سے بچاتا ہے۔ اس کے لیے زندگی کے اتنے ذرائع بہم پہنچاتا ہے جن کا شمار نہیں ہو سکتا۔ اور اس کے لیے ہر قدم پر دنیا میں باقی رہنے کے وہ مواقع فراہم کرتا ہے جن میں سے اکثر کا اسے شعور تک نہیں ہو تا کجا کہ وہ انہیں خود فراہم کرنے پر قادر ہو۔ کیا یہ سب کچھ ایک اللہ کی تدبیر اور نگرانی کے بغیر ممکن ہے؟تبارک اللہ احسن الخالقین۔۔تخلیق انسانی کے مراتب بیان کرنے کے بعد فَتَبَارَکَ اللہُ کا فقرہ محض ایک تعریفی فقرہ ہی نہیں ہے بلکہ یہ دلیل کے بعد نتیجہ دلیل بھی ہے۔ اس میں گویا یہ کہا جا رہا ہے کہ جو خدا مٹی کے ست کو ترقی دے کر ایک پورے انسان کے مرتبے تک پہنچا دیتا ہے وہ اس سے بدرجہا زیادہ منزہ ہے کہ خدائی میں کوئی اس کا شریک ہو سکے، اور اس سے بدرجہا مقدس ہے اسی انسان کو پھر پیدا نہ کر سکے، اور اس کی خیرات کا یہ بڑا ہی گھٹیا اندازہ ہے کہ بس ایک دفعہ انسان بنا دینے ہی پر اس کے کمالات ختم ہو جائیں، اس سے آگے وہ کچھ نہ بنا سکے۔معاذاللہ صد بار معاذاللہ۔۔سائنسی تحقیق کے مطابق بیضے (Ovum) کو بارآور کرنے کے لیے اوسطاً تیس لاکھ خلیات نطفہ (sperms) میں سے صرف ایک کی ضرورت ہوتی ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ خارج ہونے والے نطفے کی مقدار تیس لاکھواں حصّہ یا 0.00003 فیصد مقدار ہی بارآوری (حمل ٹھہرانے) کے لیے کافی ہوتی ہے۔
ہم نے انسان کوبلاشبہ ایک مخلوط نطفے سے پیداکیاتاکہ ہم اسے آزمائیں،سو ہم نے اُس کو خوب سننے والا،خوب دیکھنے والابنایا۔(سورہ۔الدھر۔آیت۔2)
مرد اور عورت کے ملے جلے اجزا سے پیدا کیا۔رحم مادر میں ٹھہرے والے حمل سے لڑکا پیدا ہو گا یا لڑکی اس کا انحصار کروموسوم کے 32 ویں جوڑے میں بالترتیب xx / xy کروموسومز کی موجودگی پرہوتاہے۔ ابتدائی طورپر جنس کا تعین بارآوری کے موقع پر ہی ہو جاتاہے اور اس کا انحصار خلوی نطفے (sperm) کے صنفی کروموسوم chromosomes) sex) پر ہوتا ہے۔ جو بیضے کو بارآور کرتا ہے۔ اگر بیضے کو بارآورکرنے والے سپرم (sperm) میں x صنفی کروموسوم ہے تو ٹھہرنے والے حمل سے لڑکی پیدا ہوگی۔ اس کے برعکس، اگر اسپرم (sperm) میں صنفی کروموسوم y ہے تو حمل کے نتیجے میں لڑکا پیدا ہوگا۔1677ء میں ہیم اور لیون ہک (hamm& leewenhoek) وہ پہلے سائنس دان تھے جنہوں نے ایک خوردبین کے ذریعے اسانی تولیدی خلیوں کا مشاہدہ کیا۔ ان کا خیال تھا کہ سپرم کے اندر انسان کا ایک مختصر نمونہ ہوتاہے۔ جو ایک نوزائیدہ بچے کی شکل پانے کے لیے رحم کے اندر نشو و نما پاتا ہے۔ یہ پرفوریشن تھیوری (perforation theory) کے نام سے جانی جاتی ہے۔پروفیسر مارشل جانسن (Marshal Johnson) جو امریکا کے سرکردہ سائنس دان تھا۔ ان سے علم الجنین (embroyology) سے متعلق قرآنی آیات پر تبصرہ کرنے کے لیے کہا گیا۔ ابتدا ء میں انہوں نے کہا کہ جنین کے مراحل سے تعلق رکھنے والی قرآنی آیات محض اتفاق نہیں ہو سکتی۔ ممکن ہے کہ محمد ﷺکے پاس کوئی طاقت ورخوردبین ہو۔ یہ یاد دلانے پرکہ کہ قرآن چودہ سو سال پہلے نازل ہوا اور خوردبینیں پیغمبر محمدﷺ کے زمانے سے کئی صدیاں بعد ایجاد کی گئیں۔ پروفیسر جانسن مسکرائیں اور یہ تسیلم کیا کہ ایجاد ہونے والی اولین خوردبین بھی دس گنا سے زیادہ بڑی شبیہ (image) دکھانے کے قابل نہیں تھی اور اس کی مدد سے واضح (خردبینی) منظر بھی دیکھا نہیں جا سکتا تھا۔ بعد ازاں انہوں نے کہا: سردست مجھے اس تصوّرمیں کوئی تنازع د کھائی نہیں دیتا کہ جب محمد ﷺنے قرآن پاک کی آیات پڑھیں تو اُس وقت یقیناًکوئی آسمانی (الہامی) قوت بھی ساتھ میں کارفرما تھی۔ تبارک اللہ احسن الخالقین۔۔جنینیات کا لفظ جنین (بننے والا بچہ) اور یات (مطالعہ) کا مرکب ہے اس کو انگریزی میں Embryologyy کہا جاتا ہے، عربی میں اس کے لیے علم الجنین کا لفظ بھی استعمال ہوتا ہے۔ جیسا کہ نام سے ظاہر ہے کہ اس شعبہ علم میں جانداروں (نباتات و حیوانات) کے نئے بننے والے بچوں کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔ یعنی یوں بھی کہ سکتے ہیں کہ؛ علم الجنین، اس علم کو کہتے ہیں کہ جسمیں انسان سمیت تمام جانداروں کے جسم کی ابتدا ء اور اس کی انتہائی شروعات کے مراحل کی نشو و نما سے آگہی حاصل کی جاتی ہے۔جنین (یعنی ایک نئے جاندار) کی اس زندگی کی ابتدا، مؤنث یا مادہ اور مذکر یا نرکے مَشيجوں (gametess) کے آپس میں ملنے سے ہوتی ہے (مشیج دراصل بالغ مؤنث اور مذکر کے جسم میں پیدا ہونے والے ایسے خلیات ہوتے ہیں جن کے زریعئے جنسی تولید یا sexual reproduction کی جاسکتی ہے)مرد اورعورت معاشرے کے اہم ستون ہیں اور معاشرے کی بقاء کیلئے دونوں کا کردار بہت اہم ہے۔لیکن لڑکا ان بہت سی فطری کمزوریوں اور تمدنی پابندیوں سے آزاد ہوتا ہے، جو لڑکی کے ساتھ لگی ہوئی ہوتی ہیں۔مرد اور عورت کے دماغ کا وزن کریں، مرد کا دماغ عورت کے دماغ سے کم از کم 10فیصد زیادہ وزنی ہوتا ہے۔بعض اوقات 20فیصد تک وزنی ہوتاہے۔جدید سائنسی تحقیقات سے یہ بات واضح ہے کہ حمل کے دوران اور اسکے بعد ایک برس تک عورت کی یادداشت دیگر ایام کے مقابلے میں قدرے ماند پڑ جاتی ہے۔ اسی طرح یہ بات بھی ثابت ہوچکی ہے کہ واقعات اور حالات کا اثر مرد کے مقابلے میں عورت پرزیادہ ہوتاہے۔ تمام اسباب کے پیش نظر اسلامی شریعت کا یہ فیصلہ صد فیصد سہی ہے کہ قانون الہی نے شارح عدالت میں عورت کی شہادت کو مرد کی شہادت کے مقابلے میں نصف درجہ کیوں دیا ہے۔
مشہور ماہر طبیعیات البرٹ آئن سٹائن (Albert Einstein) نے کہا تھا کہ
''سائنس مذہب کے بغیر لنگڑی ہے اور مذہب سائنس کے بغیر اندھا ہے۔''
مشہور ڈاکٹر لیری کحیل نے انکشاف کیا ہے کہ مرد کا دماغ آرام کے عالم میں بھی عورت کے دماغ سے بیحد مختلف انداز میں معلومات سے نمٹتا ہے۔انہوں نے 36مردوں اور 36خواتین پر پی ای ٹی تجربہ کیا۔ پی ای ٹی (Positron Emission Tomography) کا مخفف ہے۔ لیری کحیل پر یہ بات منکشف ہوئی کہ آرام کے دوران عورت کے دماغ کے فعال حصے مرد کے دماغ کے فعال حصوں سے مختلف ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے مرد کو عورت پر فضیلت اسلئے نہیں دی کہ اللہ تعالیٰ مرد کو عورت کے مقابلے میں زیادہ پسندکررہا ہو۔ فضیلت اسلئے عطا نہیں کی کہ اللہ تعالیٰ دونوں کے درمیان کوئی امتیاز پیدا کرنا چاہتا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے یہ فضلیت اسلئے دی ہے تاکہ مرد زندگی کے مختلف فرائض مطلوبہ شکل میں انجام دے سکے۔ دوسری جانب اللہ تعالیٰ نے خواتین کو کچھ ایسی خوبیوں سے نوازا ہے جو مرد کو نصیب نہیں۔ مثال کے طور پر خواتین کے دماغ میں ایسے خلیے ودیعت کئے گئے ہیں جنکی بدولت خواتین دکھ، درد، تکلیف، بوجھ اور مشقت مرد کے مقابلے میں زیادہ برداشت کرپاتی ہیں,بی بی کے انتقال کے بعد شوہر بہت مشکل سے زندگی گزارتا ہے،اس کے بر عکس ایک عورت پوتا پوتی میں،ناتی نتنی میں، اور دیگر رشتوں میں آسانی سے زندگی بسر کرلیتی ہے۔مرد بڑھاپے میں بہت سے کام زوجہ کے نہ رہنے سے باحالت شرم کبھی کبھی اپنے بیٹوں سے بھی کہ نہیں پاتا، وہیں عورت عورت کی دکت سمجھتے ہوئے آسانی کے ساتھ معاملات حل ہوجاتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے تمام مردوں کا سرچشمہ عورت کی ذات کو بنایا ہے۔یہ عورتیں ہی ہیں جن کے پیٹ میں بچہ اوربچی دونوں کی شروعات ہوتی ہے اور کوئی مرد کتنا بھی ذہین، عظیم اور کتناہی بڑا انسان کیوں نہ بن جائے اسکا پہلا استاد،اسکول،مدرسہ اور طربیت گاہ اسکی ماں ہی ہوتی ہے۔قرآن کریم کے علاوہ دنیا کی کوئی کتاب ایسی نہیں ہے جس میں یہ حقیقت اتنی وضاحت کے ساتھ بیان کی گئی ہو۔
پس آپ یک سو ہو کر اپنا منہ دین کی طرف متوجہ کر دیں اللہ تعالیٰ کی وہ فطرت جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے، اللہ تعالیٰ کے بنائے کو بدلنا نہیں یہی سیدھا دین ہے لیکن اکثر لوگ نہیں سمجھتے۔(سورہ روم۔آیت۔30)
فطری صلاحیتیں جو اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو عطا فرمائی ہے، اس صلاحیت کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔انسانوں میں مردوعورت دونوں شامل ہے۔خواتین کے خون میں پانی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔ان میں بیس فی صد سرخ خلیے کم ہوتے ہیں یہ خلیے جسم کو آکسیجن فراہم کرتے ہیں،یہی وجہ ہے کہ خواتین جلدی تھک جاتی ہیں۔خواتین میں کروموسومز کی منفرد ترتیب کی وجہ سے ان کی ساخت اور مضبوطی مردوں کے مقابلے میں زیادہ ہے،اسی لیے یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ امریکا سمیت زیادہ تر ممالک میں خواتین مردوں کے مقابلے میں تین سے چار سال زیادہ عمر پاتی ہیں اور زندگی کے معاملات میں مردوں کے مقابلے میں خواتین میں زیادہ قابو ہوتا ہے۔خواتین کے ہارمونز کا پیٹرن زیادہ پیچیدہ اور مختلف ہیں۔ جسم کا ہر خلیہ کے لحاظ سے مرد اور خواتین میں اختلاف ہے۔ پہلوانہ یاوحشیانہ طاقت کے لحاظ سے مرد 50فی صد زیادہ مضبوط ہیں۔ مرد کے مقابلے میں عورت کا دل تیزی سے دھڑکتا ہے جو فی منٹ 80بیٹس ہیں جبکہ مردوں میں 72بیٹس ہے۔خواتین کا بلڈ پریشر دس پوائنٹس کم ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ خواتین میں بلڈ پریشر کا عارضہ مردوں کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ پھیپھڑوں کی صلاحیت مردوں کے مقابلے میں خواتین میں تقریباً 30 فیصد کم ہے۔ میٹا بولزم کے خاص عمل کی وجہ سے خواتین درجہ حرارت کو زیادہ برداشت کرسکتی ہیں۔
سائنسی جریدے 'جرنل ریڈیولوجی' میں کہا گیا ہے کہ مرد اور عورت کا دل مختلف طرح سے بڑھتا ہے یا یہ کہا جاسکتا ہے کہ عورت اور مرد کا دل مختلف طریقے سے عمر رسیدہ ہوتا ہے۔تحقیق کاروں نے اپنے مشاہدے کے دوران دل کے بائیں بطین کی ساخت اور افعال کا جائزہ لینے کے لیے ایم آر آئی اسکین کا استعمال کیا جبکہ دوسرے محققین نے دل کی جانچ پڑتال کے لیے الٹرا ساونڈ اسکین استعمال کیا تاہم نئی تحقیق کے مطابق آیم آر آئی اسکین کے نتائج جدا جدا تھے۔مطالعے کی مدت کے دوران مردوں میں بائیں بطین کے پٹھوں میں 0.3 اونس یا 8 گرام اوسط اضافہ ہوا اس کے برعکس عورتوں کے دل کے عضلات میں 0.06 یا 16 گرام کا نقصان ہوا۔ عورتوں میں یہ واضح تھی یعنی عورتوں میں 0.4 سیال اونس یا 13 ملی لیٹر کمی واقع ہوئی تھی اس کے مقابلے میں مردوں میں یہ کمی 0.3 سیال اونس یا 10 ملی لیٹر تھی۔جان ہاپکنز اسکول آف میڈیسن کے پروفیسر جوواؤ لیما کے مطابق یہ اختلافات دونوں کے جسم کے وزن،بلڈ پریشر،کولیسٹرول کی سطح،ورزش کی سطح، جیسے عوامل کو شامل کرنے کے بعد بھی واضح تھے،اور حقیقی طور پر جو قرآن نے فرق کیا وہی آخرکار درست ہے۔تبارک اللہ احسن الخالقین۔عورتوں کا معدہ مرد کے مقابلے میں چھوٹا ہوتا ہے بلکہ اس میں خوراک کو ہضم کرنے کے لیے بننے والے اجزاء بھی کم پیدا ہوتے ہیں۔ سست ہاضمے کی ایک وجہ وہ ہارمون اوسٹروجن بھی ہے جو ہاضمے سمیت عورتوں کے کئی جسمانی افعال میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ امریکن کلینکل کلائمٹولوجیکل ایسوسی ایشن کی تحقیق کے مطابق یہ ہارمون ہاضمے کے لیے بننے والے سیال مادوں کی بناوٹ پر بھی اثر انداز ہوتا ہے، جس کی وجہ سے کھانے کو ہضم کرنے والی نمکیات کم ہوجاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عورتوں کا کھانا مردوں کے مقابلے میں 20 فیصد زیادہ سست روی سے ہضم ہوتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں چبانے سے لے کر ہاضمے اور خارج ہونے تک مرد کو 24 جبکہ عورتوں کو 28 گھنٹے لگتے ہیں۔عورتیں مردوں کے مقابلے میں پلکیں بھی زیادہ تیزی سے جھپکتی ہیں۔ قریباً 9 سے 14 مرتبہ فی منٹ جبکہ مردوں میں یہ شرح 5 سے 14 مرتبہ کی ہے۔ اس کی وجہ ہے ہارمونز، جس کی وجہ سے عورتوں کی آنکھوں کا زیادہ خشک ہونا، یعنی عورتوں کی آنکھ مرد کے مقابلے میں زیادہ جلدی خشک ہو جاتی ہے۔خواتین جذبات کے ذریعے جبکہ مرد اقدامات کے ذریعے مسائل کو حل کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ مرد کسی ایک مخصوص کام یا سرگرمی میں بغیر تھکاوٹ کے طویل مدت تک توجہ مرکوز کر سکتے ہیں جبکہ خواتین کئی کاموں اور سرگرمیوں پر ایک ہی وقت میں بہتر توجہ مرکوز کرسکتی ہیں۔مرد انفرادی معاملات کو دماغ کے کچھ حصوں سے دیکھتا ہے جب کہ عورت کئی معاملات کو پورے دماغ سے لیتی ہے۔ تقریباً چالیس فی صد مرد پہلی بار کسی عورت سے ملاقات پر اعتماد محسوس نہیں کرتے۔ ماہرین کے مطابق ایک عورت دو پیغامات کے بعد اگرجواباً فون نہیں کرتی تو وہ عورت اس مرد میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتی ہے۔
تحقیق سے یہ بات واضح ہے کہ مرد ان خواتین کی طرف کھینچے چلے جاتے ہیں جو سرخ لباس میں ہوں جبکہ خواتین کو وہ مرد دلکش لگتے ہیں جو نیلے رنگ میں ملبوس ہوں۔
بخاری و مسلم میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا.ترجمہ۔ ہر بچہ جو کسی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوتا ہے، اصل انسانی فطرت پر پیدا ہوتا ہے، یہ ماں باپ ہیں جو اسے بعد میں عیسائی یا یہودی یا مجوسی وغیرہ بنا ڈالتے ہیں، اس کی مثال ایسی ہے جیسے ہر جانور کے پیٹ سے پورا کا پورا صحیح و سالم جانور بر آمد ہوتا ہے، کوئی بچہ بھی کٹے ہوئے کان لے کر نہیں آتا، بعد میں مشرکین اپنے اوہام جاہلیت کی بنا پر اس کے کان کاٹتے ہیں۔مسند احمد میں ہے حضرت اسود بن سریع رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا آپ کے ساتھ مل کر کفار سے جہاد کیا وہاں ہم بفضل اللہ غالب آگئے اس دن لوگوں نے بہت سے کفار کو قتل کیا یہاں تک کہ چھوٹے بچوں کو بھی قتل کرڈالا حضور ﷺکو پتہ چلا تو آپﷺ بہت ناراض ہوئے اور فرمانے لگے یہ کیا بات ہے لوگ حد سے آگے نکل جاتے ہیں آج بچوں کو بھی قتل کردیا ہے۔ کسی نے کہا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آخر وہ بھی تو مشرکین کی ہی اولاد تھی آپﷺ نے فرمایا نہیں نہیں۔ یاد رکھو تم میں سے بہترین لوگ مشرکین کے بچے ہیں۔ خبردار بچوں کو کبھی قتل نہ کرنا نابالغوں کے قتل سے رک جانا۔ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے یہاں تک کہ اپنی زبان سے کچھ کہے پھر اسکے ماں باپ اسے یہود نصرانی بنالیتے ہیں۔ جابر بن عبداللہ کی روایت سے مسند شریف میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے یہاں تک کہ اسے زبان آجائے۔ اب یا تو شاکر بنتا ہے یا کافر۔

(حوالہ جات۔۔تفسیر کبیر۔تفسیر ابن کثیر۔تفسیر بیضاوی۔جلالین۔تفہیم القرآن۔ڈاکٹر کیتھ مور (Keith L. Moore):,دی ڈیویلوپنگ ہیومن (The Developing Human)۔
Muzaffar Iqbal (2007). Science & Islam. Greenwood Press۔
قرآن اور جدید سائنس، مصنّف: ڈاکٹرذاکر نائیک، صفحات 34۔
قرآن، بائبل اور جدید سائنس، مصنّف: ڈاکٹرمارس بوکائے، صفحہ 125۔
اسلام اور جدید سائنس، مصنّف: ڈاکٹر طاہرالقادری، صفحہ 152۔
انٹروڈکٹری او شنوگرافی، ازتھر میں صفحہ 300 تا301۔
اوشنوگرافی، صفحہ244۔
پرنسپلز آف او شو گرافی از ڈیوس صفحہ 92تا93۔
اوشنز از ایلڈ اور پرنیٹا صفحہ 27)

9968012976

Ads