الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، اگرچہ اسلاموفوبیا کا معاملہ قومی سطح پر زیر بحث ہے، لیکن ٹیکساس میں مسلم برادری کئی برسوں سے اس کا سامنا کر رہی ہے۔ یہاں ریپبلکن سیاست دانوں کی جانب سے ایسے بیانات اور پالیسیاں سامنے آئی ہیں جنہیں مسلم ووٹر اپنی شناخت اور وجود کو نشانہ بنانے کی کوشش قرار دیتے ہیں۔
ہیوسٹن کے وکیل سمیر نجم نے کہا کہ اس صورت حال کا سب سے زیادہ اثر بچوں پر پڑ رہا ہے، کیونکہ اسکولوں میں مختلف خاندانوں کے بچے ایک ساتھ تعلیم حاصل کرتے ہیں اور انہیں اپنے والدین کے زیر اثر بعض اوقات مسلمانوں کے خلاف نامناسب باتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ٹیکساس کی آبادی میں مسلمانوں کا تناسب دو فیصد سے بھی کم ہے، تاہم برادری کے رہنماؤں کو امید ہے کہ ووٹنگ میں نمایاں اضافے سے وہ اپنی انتخابی اہمیت کا احساس دلا سکیں گے۔ مختلف سیاسی جماعتوں سے وابستہ مسلم ووٹروں کا کہنا ہے کہ وہ یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ انہیں کسی بھی سیاسی جماعت کے لیے خوف کی علامت بنا کر پیش نہ کیا جائے۔
اسلامک سوسائٹی آف گریٹر ہیوسٹن کے صدر عمران غازی نے کہا کہ مسلمانوں کو ہر جگہ امتیازی سلوک اور محرومی کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق تنظیم نے اس سال ووٹر رجسٹریشن مہم میں توسیع کی ہے اور مساجد میں جمعہ کے خطبات کے دوران بھی ووٹ ڈالنے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔ تنظیم کسی مخصوص امیدوار کی حمایت نہیں کرتی بلکہ لوگوں کو اپنے ضمیر کے مطابق ووٹ دینے کی اپیل کرتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، ریپبلکن گورنر گریگ ایبٹ اور ریاستی ریپبلکن پارٹی کی بیان بازی کا مرکزی نکتہ اسلامی شریعت کو ٹیکساس کے لیے خطرہ قرار دینا ہے۔ ایبٹ نے گزشتہ ماہ ڈلاس میں ریپبلکن وسط مدتی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ریاست میں شریعت کے قانون پر مکمل پابندی عائد کی جائے گی۔
اسی تقریب میں سینیٹر ٹیڈ کروز نے بھی شریعت کو امریکی آئین سے متصادم قرار دیتے ہوئے اسے روکنے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔
جون میں ٹیکساس کی ریپبلکن پارٹی نے ’ڈونٹ شریعت مائی ٹیکساس‘ کے عنوان سے ایک قرارداد پر مبنی سیاسی پلیٹ فارم منظور کیا، جس میں شریعت کے حامیوں کے خلاف مجرمانہ کارروائی، سرکاری اور فوجی خدمات سے نااہلی، شہریت کی منسوخی اور ملک بدری جیسے اقدامات کی حمایت کی گئی۔
اس سے قبل مارچ میں ریاستی قانون سازوں نے ’شریعت فری ٹیکساس کاکس‘ قائم کیا تھا، جس کے ارکان کی تعداد 150 رکنی ایوان میں 38 ہو چکی ہے۔ ٹیکساس کے دو ریپبلکن ارکان کانگریس چپ رائے اور کیتھ سیلف نے بھی کانگریس میں ’شریعت فری امریکہ کاکس‘ قائم کیا، جس کے ارکان کی تعداد 68 بتائی گئی ہے۔
تاہم حقوق انسانی کے کارکنوں اور مسلم برادری کے افراد کا کہنا ہے کہ ٹیکساس یا امریکہ کی کسی بھی ریاست میں اسلامی قانون نافذ نہیں ہے۔ ہیوسٹن کی معالج سارہ دباس نے کہا کہ امریکہ کی تاریخ میں مسلمانوں نے کبھی حکومت پر اسلامی قانون مسلط کرنے کی کوشش نہیں کی، بلکہ یہ ان کے مذہبی طرز عمل اور عبادات کا معاملہ ہے۔
