اس سے قبل رات کے وقت جزیرہ قشم پر دھماکوں کی آوازیں سنی گئی تھیں۔ وال اسٹریٹ جرنل نے دعویٰ کیا کہ ان حملوں کے پیچھے امریکی مسلح افواج کا ہاتھ تھا۔ اخبار کے مطابق امریکی فوج گزشتہ چند ہفتوں سے ایران کے خلاف محدود پیمانے پر خفیہ حملے کر رہی تھی۔
نیوز نیشن کی صحافی کیلی میئر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک نامعلوم امریکی عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ یہ امریکی فوجی اڈوں پر زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل استعمال کرنے والے ایرانیوں کے خلاف دفاعی کارروائی تھی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی لڑاکا طیاروں نے آبنائے ہرمز کے اوپر پرواز کرنے والے ایک امریکی طیارے کو ایران کی جانب سے مبینہ طور پر نشانہ بنانے کی کوشش کے جواب میں جزیرہ قشم پر میزائل داغنے کے نظام کو نشانہ بنایا۔ یہ کارروائی ایران کے اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) کی مبینہ کوشش کے ردعمل میں کی گئی۔
پیر کو امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کے فیصلے میں کوئی جلدبازی نہیں کرنا چاہتے۔ اسی روز وائٹ ہاؤس کے پریس پول نے بتایا کہ صدر ٹرمپ نے ان میڈیا رپورٹس کو مسترد کردیا، جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ وہ 3 نومبر کو ہونے والے امریکی وسط مدتی کانگریسی انتخابات کے فوراً بعد ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی شروع کرنے پر غور کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ رواں سال 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران میں مختلف ٹھکانوں کو نشانہ بناتے ہوئے حملے شروع کیے تھے، جس کے جواب میں ایران نے بھی کارروائیاں کی تھیں۔ جون کے وسط میں تہران اور واشنگٹن نے دشمنی ختم کرنے کے لیے مفاہمت کی ایک یادداشت پر دستخط کیے تھے، تاہم اس کے باوجود دونوں فریق ایک دوسرے کے خلاف حملے کرتے رہے ہیں۔
