روبیو نے کہا کہ مذاکرات کے لیے سفارتی کوششوں کے درمیان صدر ٹرمپ نے نئے حملوں سے متعلق فیصلہ روک رکھا ہے۔ صدر نے ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کیا کہ ایران پر نئے حملے کب کیے جائیں گے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ امریکہ 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر نئے اور شدید حملے کرسکتا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ نے کہا، ’’آج میں آپ کے سامنے کوئی نیا اعلان نہیں کرنے جا رہا اور نہ ہی میں اس معاملے کو ہلکا لینے کی طرف مائل ہوں۔‘‘ انہوں نے ایران پر آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو کھلے عام اور سرگرمی کے ساتھ نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا۔
روبیو نے کہا کہ صدر ٹرمپ سفارتی کوششوں کے ذریعے مسئلے کو حل کرنے کو ترجیح دیتے ہیں، تاہم وہ اس حوالے سے کوئی ٹائم لائن نہیں دے سکتے۔ انہوں نے کہا، ’’اگر سفارتی حل موجود ہے تو ہم اس کے لیے تیار ہیں۔‘‘
دوسری جانب ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے ہفتہ ہی کو امریکہ اور اسرائیل کو ایران پر نئے حملوں سے باز رہنے کی خبردار کیا۔ ان کا یہ انتباہ وسط مدتی انتخابات کے بعد امریکہ کی جانب سے ایران پر ممکنہ حملوں کی اطلاعات کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔
اس سے قبل صدر ٹرمپ بھی کہہ چکے ہیں کہ امریکہ وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے حوالے سے اپنے اقدامات کا جائزہ لے رہا ہے۔ نئے امریکی حملوں کے خدشے نے امریکہ کے اتحادیوں میں بھی تشویش بڑھا دی ہے۔
یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کایا کالاس نے منگل کو ’اے ایف پی‘ سے گفتگو میں کہا تھا کہ یورپی یونین تنازع کا سفارتی حل چاہتی ہے، کیونکہ کشیدگی اور جنگ کسی کے مفاد میں نہیں ہوسکتی۔
