Masarrat
Masarrat Urdu

سیاسی حکمت عملی،معیاری تعلیم کا فقدان اوربنیادی ڈھانچہ کی کمی سیمانچل کی پسماندگی کی اہم وجہ: پروفیسر طلعت احمد

Thumb

نئی دہلی، 4مارچ (عابد انور) سیاسی حکمت عملی،معیاری بنیادی تعلیم کا فقدان اوربنیادی ڈھانچہ کی کمی کو سیمانچل کی پسماندگی کی اہم وجہ قرار دیتے ہوئے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے وائس چانسلر پروفیسر طلعت احمد نے کہا کہ معیاری ابتدائی تعلیم پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ یہ بات انہوں نے سیمانچل میڈیا منچ اور بنیاد فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام ’سیمانچل کے مسائل اور حل ‘ کے موضوع پر منعقدہ سیمنار سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
انہوں نے کہاکہ جب تک معیاری ابتدائی تعلیم پر توجہ نہیں دی جائے گی اس وقت تک یونیورسٹی میں بچوں کی تعداد میں اضافہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے کیرالہ کی مثال پیش کرتے ہوئے کہاکہ کیرالہ کے مسلمانوں نے دین کے ساتھ عصری تعلیم پر یکساں توجہ دی یہاں تک کے مدارس میں بھی عصری تعلیم کا معقول انتظام ہے۔انہوں نے تعلیمی اداروں کے معیار تعلیم بلند کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جو ادارے میں اس میں معیاراور بہتر انتظام پر توجہ دی جائے۔ 
انہوں نے ذاتی مفاد ات سے اوپر اٹھ کرسوچنے کی اپیل کرتے ہوئے کہاکہ اگر سرسید اپنے مفادات کے بارے میں سوچتے تو کبھی بھی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی قائم نہیں کرپاتے۔ انہوں نے کہاکہ سیمانچل کے لوگوں میں
صلاحیت کی کوئی کمی نہیں ہے صرف ان کی رہنمائی کی ضرورت ہے۔

قومی کونسل فروغ اردوزبان کے ڈائرکٹر پروفیسر ارتضی کریم نے ملک کے موجودہ تناظر میں جذبات کے بجائے ہوش سے کام لینے کی اپیل کرتے ہوئے کہاکہ ہمیں مثبت سوچ کے ساتھ آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ اسی کے ساتھ ہمیں اس پر غور کرنے کی ضروت ہے کہ ہماری پسماندگی اور پچھڑے پن کا ذمہ دار کون ہے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت کس کی ہے اور کس کی نہیں اس پر غور کرنے کے بجائے ساری توجہ اس پر مبذول کرنا چاہئے کہ ہم اپنا حق کیسے لیں اور حکومت سے فائدہ کس طرح اٹھائیں۔ 
انہوں نے کہاکہ کشمیر اور شمال مشرق میں خصوصی انتظام ہے کیا ممکن نہیں ہے کہ سیمانچل کے خطے کے لئے یہی درجہ مانگیں کہ وزارت فروغ انسانی وسائل اپنے بجٹ کا حصہ سیمانچل میں خرچ کریں۔ انہوں قومی کونسل فروغ اردو زبان کا کتاب میلہ سیمانچل میں منعقد ہورہا ہے اور اس سے علاقے میں تعلیمی بیداری آئے گی۔ انہوں نے کہاکہ وہی قوم ترقی کرتی ہے جو تعلیم اور صحت پر توجہ دیتی ہے ہمیں بھی اس فارمولہ کو اختیار کرنا چاہئے۔
کٹیہار میڈیکل کالج کے چیرمین ڈاکٹر احمد اشفاق کریم نے مسلمانوں کو یہودیوں اور عیسائی سے سبق لینے کا مشورہ دیتے ہوئے کہاکہ ہمیں تعلیمی اداروں کی بھیک مانگنے کی بجائے تعلیمی ادارے کھولنے پر اپنی قوت صرف کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ آج ملک کے تمام طبقے مشنری اسکولو ں اپنے بچوں کو داخل کرانا چاہتے ہیں۔مشنری کے لوگوں نے تعلیم اور صحت پر سب سے زیادہ توجہ دی اور وہ آج کامیاب ہیں۔
انہوں نے کہاکہ جب بھی کسی قوم میں تعلیم آتی ہے تو برائیاں خود بخود ختم ہوجاتی ہیں۔
انہوں نے کہاکہ اگر دفعہ 30 کے تحت قلیتی اسکول کھولنے کا اختیار نہیں ہوتا تواقلیتیں اپنے تعلیمی ادارے نہیں کھول پاتی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کوئی اقلیتی ادارے نہیں کھولتی بلکہ اقلیتوں کے ادارے کو اقلیتی درجہ دیتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ سیمانچل کا علاقہ تمام بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں ، ضرورت اس بات کی اس کے لئے مہم چلائی جائے۔ 
بنیاد فاؤنڈیشن کے چیرمین انجینئر محمد اسلم علیگ نے سیمانچل کے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ ہر سال آنے والا سیلاب کی وجہ سے وہ خطہ تباہی کا شکار ہے اور اس کے نتیجے میں ہر سال ہزاروں ہیکٹر فصلیں تباہ ہوجاتی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ وہاں ہر ضلع میں نوودے ودیالیہ ہے جہاں وہاں مقامی بچے بہت کم ہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے وہاں بنیادی معیاری تعلیم کا فقدان ہے جس کی وجہ سے بچے نوودے ودیالیہ کے لئے کوالیفائی نہیں کرپاتے۔ 
انہوں نے کہاکہ پورے خطے میں صنعت کی کمی ہے جب کہ وہاں فوڈ پروسیسنگ کے بے پناہ امکانات ہیں. فوڈ انڈسٹری لگائی جاسکتی ہے۔ جوٹ فیکٹری قائم کی جاسکتی ہے۔جس سے روزگار کے مسائل پر بہت حد تک کم ہوں گے اور لوگوں کو روزگار کے لئے دوسری ریاستوں کا تکلیف دہ سفر نہیں کرنا پڑے گا۔
الحفیظ ایجوکیشنل اکیڈمی کے چیرمین کلیم الحفیظ عرف ہلال نے مسلمانوں کی مجموعی حالت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ پوری قوم بیمار ہے اور اس بیماری کی وجہ جہالت ہے اور اس کا علاج تعلیم ہے۔ انہوں نے کہاکہ سرسید نے اس وقت حل پیش کیا تھا جب پوری قوم مایوسی کا شکار تھی۔ انہوں نے کہاکہ اسی قوم کا دین پروان چڑھتا ہے جب وہ دنیا میں غالب آجاتی ہے۔ اس لئے اس وقت تک ہمار ا دین بھی غالب نہیں آئے گا جب تک ہم دنیا پر غالب نہیں آئیں گے۔ 
انہوں نے کہاکہ یہ اچھی بات ہے کہ ہمارے مذہبی رہنماؤں کو بھی یہ بات سمجھ آگئی ہے کہ عصری تعلیم کے بغیر ہم آگے نہیں بڑھ سکتے۔ انہوں نے شمالی ہند کے مسلمانوں پرکیرالہ اور کرناٹک تعلیمی ماڈل اختیار کرنے پر زور دیتے ہوئے کہاکہ وہاں انہیں دیگر ادارے کی طرف رخ کرنے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔کیرالہ اور کرناٹک میں آسام اور بنگال کے مقابلے میں کم آبادی کے باوجود وہ اچھی حالت میں ہیں۔ تلنگانہ میں بین الاقوامی معیار کے اقلیتی علاقے میں اسکول کھولے گئے ہیں۔ آپ کوشش کریں گے بہار حکومت اسی طرح کے سیمانچل کے خطے میں بھی کھولے۔
سیمانچل میڈیا منچ کے صدر اورصحافی عابد انور نے ملک کی سیاسی ، سماجی اورتعلیمی حالت کی طر اشارو کرتے ہوئے کہاکہ ان تمام مسائل کا حل لیڈر شپ پیدا کرنے میں مضمر ہے۔ انہوں نے کہاکہ کوئی فرد ایک ادارہ کھول سکتا ہے لیکن جب وہی لیڈر اور وزیر بنتا ہے تو وہ سیکڑوں ادارے قائم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے مسلم لیڈر شپ پیدا کرنے کے لئے سیاسی سرمایہ کاری کی وکالت کرتے ہوئے کہاکہ جب تک ہم اپنے اندر سے لیڈر پیدا نہیں کریں گے اس وقت تک ہمارے مسائل حل نہیں ہوں گے ہمیں اپنے پیسے سے لیڈر شپ پیدا کرنا ہوگی۔
سیمانچل میڈیا کے نائب صدر اور صحافی عبدالقادر شمس نے پروگرام کا آغاز کرتے ہوئے مہمانوں کا تعارف کرایا اور ساتھ ہی سیمانچل میڈیا منچ کے اغراض و مقاصد پر تفصیل سے روشنی ڈالی اور اس بات کا اعادہ کیا کہ میڈیا منچ سیمانچل کے مسائل کو نمائندوں تک پہنچانے اور ان سے حل کرانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گا۔
سیمانچل میڈیا منچ کے رکن اور صحافی منہاج احمدقاسمی نے سیمانچل کے سیاسی،سماجی اور سیلاب کے مسائل پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ وہاں ہر سال سیلاب عوام کا مقدر بن چکا ہے اور کوئی بھی دیرینہ مسئلہ کو حل کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ دیگر مقررین میں انڈین انفارمیشن سروس کے افسر عبدالمنان، جے این یو کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر اجمل قاسمی، نعمان قیصر، منظرم امام اور افتخارالزماں، مفتی اطہر عالم قاسمی، و دیگر شامل تھے۔ اس سے قبل افتخارالزماں کی کتاب ’اقبال کے فکری اور فنی آفاق‘ کا اجرا بھی عمل آیا۔ اسی کے ساتھ بنیاد فاؤنڈیشن کی طرف سے مشہور نقاد حقانی القاسمی کو ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ ملنے پر مومنٹو پیش کیا گیا اور سیمانچل میڈیا منچ کی جانب سے انجینئر محمد اسلم علیگ کو مومنٹو پیش کیا گیا۔ نظامت کے فرائض میڈیا منچ کے جنرل سکریٹری ابصار صدیقی نے انجام دئے۔ 

Ads