Masarrat
Masarrat Urdu

بزمِ صدف کی خواتین کی ایک آزاد عالمی ادبی انجمن کی تشکیل بہت جلد:شہاب الدین احمد

Thumb


خواتین و حضرات!بزمِ صدف انٹرنیشنل کے کویت چیپٹر کے آغاز کے موقعے سے میں عالمی برادری کا خاص طور سے شکریہ ادا کرتا ہوں جِن کی معاونت اورمُسلسل حوصلہ افزائی کی بہ دولت یہ بات پیدا ہوئی کہ ہندستان کے ایک شہر سے نکل کر یہ ادارہ دوحہ، قطر پہنچا اور پھر دوحہ، قطر میں مقیم اردو دوستوں کی ہزار محبتوں کے طفیل رفتہ رفتہ سعودی عرب، کنیڈا، متحدہ عرب امارات، جرمنی، برطانیہ، بنگلہ دیش ہوتے ہوئے کویت کی عِلم پَرور اور خوب صورت سرزمین پر اپنے قدم رکھنے میں کامیاب ہوا۔ اِس دوران سینکڑوں نہیں، ہزاروں مُعاونین ہمارے ہم سفر ہوئے اور مختلف پروگراموں میں شامل ہوکر اس بات کا ثبوت فراہم کرتے رہے کہ بزمِ صدف نے ادبی طور پر جس مُہِم کا آغاز کیا ہے، اُس کا سلسلہ آگے بڑھنا چاہیے۔ 
اس موقعے سے یہ اعلان کرتے ہوئے مجھے بے حد خوشی ہو رہی ہے کہ بزمِ صدف بہت جلد خواتین کی ایک آزاد عالمی ادبی انجمن کی تشکیل کر رہی ہے جس میں دنیا کے مختلف ملکوں میں موجود ادبا اور شاعرات کی براہِ راست شمولیت سے ایک نیا ادبی و علمی منظر نامہ مرتَّب ہوگا۔اِس انجمن میں بزرگ لکھنے والیوں کے ساتھ نئی نسل کے ہونہار قلم کاروں کی شرکت سے اس بات کے امکانات روشن ہوں گے کہ اردو کی خواتین قلم کاروں کی ایک علمی اورادبی انجمن بھی سامنے آئے گی۔ ہماری ابتدائی کوششیں اب حتمی شکل لے رہی ہیں اور آئندہ مہینے میں انشااللہ بہ اہتمام عالمی سطح پراس کا تاسیسی پروگرام منعقد کیا جائے گا۔ 
محض چند برسوں میں دنیا کے گوشے گوشے میں کوئی ادارہ اگر پہنچتا ہے تو اِس کے دو معنی بالکل واضح ہیں۔ پہلی بات تو یہ کہ ادب کے شایقین نے اِس ادارے کو اپنے دل اور جان سے لگایا اور اپنی ادبی سرگرمیوں میں اسے مرکزیت بخشی۔مگر اِسی کے ساتھ دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ بزمِ صدف نے ادبی حصاربندی اور محدود قافلہ سازی کی بِدعت کو توڑتے ہوئے ایک خیرسگالی اور خوش اُسلوبی سے ادب لکھنے والوں اور اِس کے پڑھنے اور سننے والوں کے بیچ محبت بھرا رابطہ قائم کیا۔ یہ صرف بزمِ صدف کی کامیابی نہیں بلکہ دنیا بھر کے ادیبوں، شاعروں اور ادب کے شایقین کی وہ پیاس ہے جس میں وہ آزادی کے ساتھ پرواز کرنا چاہتے ہیں۔ بزمِ صدف نے گذشتہ عشرے میں ایسے ہی آزاد پسند اور انصاف کے طلب گار لوگوں کی ترجمانی کرنے کا فریضہ ادا کیا ہے۔ 
میں کویت کی بزمِ صدف کی ٹیم کے تمام سرپرستان اور عہدے داران کا خاص طور سے شکریہ ادا کرتا ہوں جنھوں نے بہت ساری علاقائی اور قومی انجمنوں کی موجودگی کے باوجود ایک بین الاقوامی تنظیم سے خود کو جُڑنے کی ضرورت کو سمجھا اور یکجا ہوئے۔ ہماری حقیقی طاقت اس اجتماعیت اور مِل جُل کر اپنی مادری زبان کے مستقبل کو روشن اور محفوظ کرنے کی مُہِم ہوگی۔ ہم توقّع کرتے ہیں کہ آپ بزمِ صدف سے جُڑ کر اپنی محبت اور توانائی کو اپنے ملک سے دور دنیا بھر کے اُن مقامات تک پہنچانے میں کامیاب ہوں گے جہاں جہاں اردو زبان بولی اور سمجھی جاتی ہے۔ 


ہمارا یہ بھی مقصد ہے کہ ایک سرگرم رابطے کی صورت پیدا ہو۔ بزمِ صدف نے اردو کی بین الاقوامی حیثیت کے پیش نظر ہی اپنے بین الاقوامی پروگراموں کی داغ بیل رکھی۔ پہلے دن سے ہی اِس بات کی کوشش ہوئی کہ کوئی بھی پروگرام صرف ایک ملک کے نمایندوں کا نہیں ہو بلکہ اردو زبان کی بین الاقوامیت کا پورے طور پر مظاہرہ ہو۔ اِس سے ہماری زبان کا معیار اور وقار دونوں بڑھا اور دنیا بھر کے ادیبوں شاعروں کے درمیان سرگرم رابطے کا آغاز ہوا۔ اردو اگر تہذیب کا نام ہے اور اِسے رنگا رنگی اور کثیر معاشرتی آئینے میں دیکھنے کی ضرورت ہے تو بزمِ صدف نے اپنے پروگراموں میں اِس ماحول کی عکاسی کرنے کی ذمہ داری بھی اٹھائی۔ 
ہمارا معاشرہ اور سماج دنیا کے ہر گوشے کی طرح نشیب و فراز سے گزرتا رہا ہے۔ ادب اِس معاشرے کی عکّاسی کرتا ہے، اس لیے وہاں بھی مختلف طرح کی پیچیدگیاں اور زندگی کے مسائل اپنے آپ سامنے آتے ہیں۔ جس طرح ہماری آبادیوں نے محلّوں، شہر اور ملکوں سے لے کر برّ اعظم تک کا سفر طے کیا، اُسی طرح سے ادیبوں اور شاعروں نے بھی کبھی عادت کے تحت اور کبھی ضرورت کے تحت اِن حِصاروں کو اپنایا۔ جو فطری گھیرے ہیں، وہ تو ہمیں سمجھ میں آتے ہیں مگر ہم نے جگہ جگہ ڈیڑھ اینٹ کی مسجدیں بنارکھی ہیں۔ اِس سے ادب اور سماج دونوں کا بڑا نقصان ہُوا ہے۔ بزمِ صدف اِس حصار بندی کے خلاف اپنا وجود پیش کرتی ہے۔ آپ سب سے ہماری یہ گزارش ہے کہ ادب اور سماج کی وُسعت اور ہَمہ گیری میں جو طاقتیں رُکاوٹ بن رہی ہوں، آپ ا ُن سے انکار کیجیے اور کوشش کیجیے کہ ہم ایک پورے طور پر کھُلی فضا میں رہ سکیں۔ 
بزمِ صدف ایسی ادبی اِجارہ داری کے خلاف ادیبوں شاعروں کی آواز بن کر دنیا کے سامنے ایک آزاد پسند معاشرے کی تشکیل کے لیے کمر بستہ ہے۔ آپ اِس ادارے سے جُڑ کر اگر عالمِ انسانیت کے اس خواب کی تسخیر کرلیتے ہیں تب ہمیں اِس بات کا اطمینان ہوگا کہ اس ادارے کے معاونین نے اپنے تجربوں کی روشنی میں جو پیغام آپ تک پہنچایا،اُسے آپ دوسروں تک اور بہت دور تک پہنچانے میں کامیاب ہوئے۔ بزمِ صدف ایک گھر اور خاندان ہے اور اِس سے جُڑے افراد اپنے ادب اور اپنی زندگی میں ایک دوسرے سے مُتعلّق ہوکر سب کی معاونت کرتے ہیں اور خدا کے فضل سے سب آگے بڑھ رہے ہیں۔اِس دوران ہمارے معاونین کی سینکڑوں کی تعداد میں کتابیں شایع ہوئی ہیں اور ہم نے انھیں بین الاقوامی سطح پر تشہیر دینے کی کوشش کی ہے۔ رسالہ صدف بھی آپ کی خدمت کے لیے موجود ہے۔ ہم اپنے ہر نئے رکن کی وابستگی اور اُس کی ادبی و علمی ضرورت پر لبّیک کہتے ہیں۔
ہمیں یقین ہے کہ آنے والے وقت میں کویت کی شاخ اپنی ادبی اور علمی کارکردگی سے نئے سنگ ہاے میل قائم کرے گی۔ اِس ادارے میں نئے اور پُرانے،تجربہ کار اور کم تجربہ کار، شاعر اور نثر نگار، تجارت پیشہ اور قانون داں؛ ہر طرح کے افراد موجود ہیں یعنی ہمارے گلدستے میں ہر طرح کے پھول،رنگ اور خوشبوؤں کی دنیا آباد کررہے ہیں۔ خدا کرے بزمِ صدف کی کویت شاخ اپنی اعلا علمی اور ادبی سرگرمیوں کی وجہ سے مینارہئ نور بن کر اُبھرے اور دوسرے اِداروں اور دوسری شاخوں کو اِس سے ترغیب مل سکے۔ ہمیں یقین ہے کہ آپ اِن کوششوں میں کامیاب ہوں گے۔ 

Ads