Masarrat
Masarrat Urdu

عالمی یوم مہاجرین

  • 18 Dec 2020
  • ڈاکٹر سیّد احمد قادری
  • مضامین
Thumb

                                                                                                                                                   
     اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 4/ دسمبر 2000 ء میں اپنی قرارداد نمبر 55/93 کے ذریعہ ہر سال دنیا بھر میں مختلف وجوہات کی بنا پر مہاجرین بڑھتی تعداد کو دیکھتے ہوئے ہر سال  18 دسمبر کو عالمی سطح پر یوم مہاجرین کے انعقاد کا فیصلہ کیا تھا، تاکہ ان مہاجرین کے تحفظ، ان کی بنیادی ضرورتوں اور ان سے انسانی سلوک کے شعور کی اہمیت کو سمجھا جا سکے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے ذریعہ جاری جون 2020ء کی رپورٹ کے بموجب دنیا کے مختلف ممالک میں اس وقت 8 کروڑ سے زیادہ مہاجروں کی تعداد ہے۔ صرف اس سال مہاجروں کی تعداد میں ایک کروڑ کا اضافہ درج کیا گیا ہے اور میرا خیال ہے کہ اگلے سال کی رپورٹ جب آئے گی تودنیا کے مختلف ممالک میں کووڈ 19 کے باعث مہاجرین کی تعداد میں کہیں زیادہ اضافہ کی توقع ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مہاجروں کی بڑھتی تعداد اور ان کی بے بس زندگی سے متاثر ہوکر 1077ء سے ہی فلپائن مہاجرین اور دیگر ایشیائی مہاجرین کی تنظیموں نے مہاجروں کی زبوں حالی کے تدارک کی شروعات کر دی تھی اور اقوام متحدہ سے مسلسل عالمی سطح پر یوم مہاجرین کے انعقاد کئے جانے کی گزارش کی جا رہی تھی تاکہ اس عالمی مسئلہ سے دنیا کی توجہ مبذول ہو اور وہ سب مل کر اس انسانی مسئلہ کے خاتمے کے لئے لائحہ عمل تیار کریں۔ لیکن افسوس کہ اس اہم اور انسانیت سے جڑے مسئلہ پر اب تک بہت سنجیدگی سے غور و فکر نہیں کیا جا رہا ہے، بلکہ عالمی سطح پر یوم مہاجرین کے موقع پر چند ممالک بس رسم ادایگی کیا کرتے ہیں۔   
    اب ہم ذرا اپنے ملک اور ملک کے ارد گرد یعنی اپنے پڑوسی ممالک میں پناہ گزیں مہاجروں کے حالات پر ایک نظر ڈالیں تو ہمیں بہت ہی المناک صورت حال دیکھنے کو ملتی ہے۔ ہم اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتے ہیں کہ ہر شخص کوخواہ وہ کسی بھی ملک کا باشندہ ہو، اسے اپنے وطن سے فطری طور پرمحبت،وابستگی، والہانہ لگاؤ اور جذباتی رشتہ ہوتا ہے۔وطن کی اہمیت اور اس سے انسیت کا اندازہ اپنے وطن سے بے وطن ہونے یا دور جانے  جانے کے بعد ہوتا ہے۔ اپنی خوشی سے کوئی بھی فرد اپنا وطن نہیں چھوڑتا۔ کچھ تو مجبوریاں رہی ہونگی، یوں کوئی (اپنے وطن سے) بے وفا نہیں ہوتا۔  ایسے حالات بن جاتے ہیں کہ انسان ہجرت کرنے پرخود کو مجبور پاتا ہے۔  میں نے اپنی آنکھوں سے امریکہ میں بسے -80 75سال سے تجاوز کئے جانے والے بزرگوں کو اپنے ملک بھارت کی یاد میں روتے، بلکتے دیکھا ہے۔ جن لوگوں نے تقسیم ہند کے وقت بڑے پیمانہ پر اپنے ملک میں قتل و غارت گری دیکھی، اپنی نظروں کے سامنے اپنے بچوں کو ذبح ہوتے اور اپنی ماں، بہنوں کی رسوائیاں دیکھیں، ایسے  بدترین حالات میں ان لوگوں کے سامنے ہجرت مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلہ دیش)کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔ لیکن وہاں پہنچے کے بعدیہاں کی آب وہوا میں ابھی پوری طرح رچ بچ بھی نہیں سکے تھے کہ1971  کے سقوط بنگلہ دیش نے ایک بار پھر انھیں در بدری پر مجبور کر دیا اور لوگ بڑی مشکلوں سے اپنی جان و مال اور عزّت وآبرو بچا کر پاکستان اس توقع کے ساتھ پہنچے کہ اپنے اسلامی ملک میں مسلم ہم وطن کے ساتھ بہتر زندگی گزارینگے۔ لیکن الم ناک پہلو یہ تھا کہ انھیں یہاں بڑی مشکلوں سے شہریت تو مل گئی، لیکن یہ ہمیشہ مہاجر کے مہاجر ہی رہے۔ کئی نسل جوان ہو گئی، لیکن وہ پاکستانی کے بجائے مہاجر ہی کہلا رہے ہیں۔ ایسے کچھ لوگوں کے بچے  بڑے ہو کراپنے بہتر مسقبل کے لئے اپنے والدین کے ساتھ دنیا کے مختلف ممالک مثلاََ امریکہ، کناڈا، لندن، جرمنی اور آسٹریلیا وغیرہ میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔ بظاہر ان کی زندگی عیش و آرام سے گزر رہی ہے، لیکن ان پرانے لوگوں کو روحانی سکون اب تک نصیب نہیں۔ امریکہ میں بسے ایسے کئی لوگ چند دنوں کے لئے سہی اپنے آبائی وطن کی مٹّی کو آنکھوں سے لگانا چاہتے ہیں، جس جگہ ان کا بچپن گزرا، پلے بڑھے، کھیلتے کودتے سِن بلوغت کو پہنچے،ان جگہوں کو عمر کی آخری دہلیز پر کھڑے لوگ ایک بار صرف ایک بار دیکھنے کے لئے بے چین ہیں۔ لیکن ان کا المیہ یہ ہے کہ امریکہ کی شہریت حاصل کرتے وقت ان لوگوں نے چونکہ پاکستان کا پاسپورٹ سرینڈر کیا تھا۔ اس لئے ایسے لوگوں کو بھارت کی ایمبیسی بھارت کا ویزا نہیں دیتی ہے۔ اس لئے ایسے لوگ اپنے آبائی وطن کو دیکھنے، اپنے رشتہ داروں سے ملنے اور اپنے آباو اجداد کی قبروں پر فاتحہ پڑھنے کے ارمان دل میں لئے درد وکرب میں جی رہے ہیں۔ ایسی بات کبھی نکلتی ہے تو آنسوؤں کے ساتھ یہ لوگ ہجرت در ہجرت  کے کرب کو بیان کرتے ہیں،ایسے بعض لوگوں کو تو امریکہ میں، میں نے زار و قطار روتے ہوئے دیکھا ہے۔ اس سلسلے میں بس یہی کہا جا سکتا ہے کہ   ؎
          یہ دور بھی دیکھا ہے تاریخ کی آنکھوں نے     لمحوں نے خطا کی تھی، صدیوں نے سزا پائی۔ 
       اس وقت سب سے بد تر حالت تقسیم ہند کے بعد مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلہ دیش)جانے والے، بہار اور اتر پردیش کے ان اردو بولنے والوں کی ہے، جنھوں نے خانہ جنگی کے وقت پاکستان کی حمایت کی تھی، اس محبت اور حب الوطنی کی انھیں سقوط بنگلہ دیش کے وقت سے یہ سزا دی گئی ہے کہ ان کی شہریت چھین لی گئی، گھر بار، ملازمت، تعلیم، پاسپورٹ، سماج میں عزت و احترام سے بے دخل کر دیا گیا۔ ایسے لوگوں کی مجموئی تعداد دو لاکھ سے بھی زیادہ ہے اور یہ لوگ بنگلہ دیش کے مختلف دیہی علاقوں میں لگا ئے گئے ایک سو سے بھی زائد کیمپوں میں جانوروں سے بھی بد تر زندگی اس امید پر گزار رہے ہیں کہ جلد ہی ان کا اپناملک پاکستان انھیں اپنی پناہ میں لے کر ساری سہولیات دے گا۔ لیکن حکومت پاکستان اپنے ان شہریوں کو زبردست احتجاج اور مطالبات کے باوجود قبول کرنے کو تیار نہیں ہے۔ ایسے لوگوں کی زندگی ان لوگوں کے رحم و کرم پر ہے، جو کسی نہ کسی طرح سقوط بنگلہ دیش کے بعد یہاں سے نکل جانے میں کامیاب ہوئے اور پاکستان میں ٹھوکریں کھانے کے بعد امریکہ، کناڈا، لندن، جرمنی وغیرہ میں سکونت اختیار کر چکے ہیں اور معاشی طور پر خود کفیل ہیں۔ یہ لوگ اور ان کے قائم کردہ فلاحی ادارے ہر سال لاکھوں، کروڑوں ڈالروں سے ان کی مدد کر ان کے جینے کا سہارا بنے ہوئے ہیں۔حکومت بنگلہ دیش ایسے لوگوں کو کسی بھی طرح کے تعاون کرنے پر رضا مند نہیں ہے۔ حالانکہ یہی پاکستان لاکھوں افغانی مہاجروں کو اپنے یہاں پناہ دئے ہوئے ہے۔ 
      ان سے بھی بد تر حالت تو اس وقت میانمار(قدیم نام برما) کے  روہینگیائی مسلمانوں کی ہے، جنھوں نے کبھی اس ملک برماپر ساڑھے تین صدی تک حکومت کی تھی اور ان کا سکّہ جس کے ایک جانب  لاالٰہَ اِلّااللہ کندہ ہوتا، وہ چلتا تھا۔لیکن جب  1784 میں برطانیہ نے مسلمانوں کے تسلط والے اس ملک پر اپنا قبضہ جمایا تو یہاں کے مسلمانوں کوکمزور اور بے وقعت کرنے کے لئے یہاں بھی Divide and Rule  کی پالیسی اپناتے ہوئے یہاں کے بدھسٹوں کے اندر مسلمانوں کے خلاف نفرت کا بیج بودیا۔ جس سے ظلم و بربریت کی کھیتی پوری لہلہا اٹھی۔ 1947  کے آتے آتے ان روہیگائی مسلمانوں کی زندگی تنگ کر دی گئی۔ 1949  میں چودہ فوجی آپریشن ہوئے، جس میں بیس ہزار سے زائد مسلمانوں کو بڑی بے دردی سے ہلاک کر دیا گیا اور یہ سلسلہ دراز ہوتا گیا۔ لاکھوں کی تعداد میں روہنگیائی مسلمان اپنی زندگی اور عزّت و آبرو بچانے کے لئے ہجرت پر مجبور ہوئے۔ ایسے ہجرت کرنے والوں میں تقریباََ تین لاکھ لوگ بنگلہ دیش میں، دو لاکھ کی تعداد میں پاکستان میں اور چوبیس ہزار کے آس پاس ملیشیأمیں پناہ لئے ہوئے ہیں۔ واضح رہے کہ بنگلہ دیش میں ایسے پناہ گزینوں کے کیمپوں  میں ہونے والے خرچ کی ذمّہ داری UNHCR  اور دیگر این جی اوز نے لے رکھی ہے۔ ان کے علاوہ کئی لاکھ لوگ جو کسی وجہ کر ہجرت نہیں کر سکے وہ اپنے ہی ملک میں مہاجر بن کر مختلف کیمپوں میں تمام تر بنیادی سہولیات کے بغیر زندگی گزار نے پر مجبور ہیں۔ ان کے ساتھ جو ظالمانہ رویہئ اختیارکیا گیا ہے۔ ان پر برقی، پرنٹ اور سوشل میڈیا پر امن کے پیامبر مہاتما بدھ کے پیروں کاروں کے ذریعہ ظلم و بربریت اورجبر و استبداد کی خبریں چھائی رہتی ہیں۔ لاکھوں کی تعداد میں روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ جو انسانیت سوز اور وحشیانہ سلوک ہو رہا ہے، اس کی مذّمت کی جا رہی ہے۔ بعض مسلم ممالک نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ تشویش کا اظہار کئے جانے کے بجائے ان مہاجروں کے بنیادی مسائل کو دور کئے جانے کی عملی کوشش کی جائے۔ 
  رابطہ:  9934839110

 

Ads

علاقائی

Ads