Priority
31UDF15
واشنگٹن، 31 مارچ (مسرت ڈاٹ کام) امریکی صدر ٹرمپ نے اتوار کے روز ایران کو دھمکی دی تھی کہ اگر تہران نے اپنے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے واشنگٹن کے ساتھ معاہدہ نہ کیا تو ایران کو بے مثال بمباری کا نشانہ بنایا جائے گا اور اس پر کسٹم ڈیوٹی عائد کر دی جائے گی۔
ٹرمپ نے این بی سی کے ساتھ ایک فون انٹرویو میں کہا کہ اگر وہ معاہدے پر نہیں پہنچتے ہیں تو بمباری ہو گی، لیکن ایک امکان ہے اگر وہ معاہدے پر نہیں پہنچتے ہیں تو میں ان پر اسی طرح ٹیرف لگا دوں گا جیسا میں نے چار سال پہلے کیا تھا۔
یاد رہے 2017 اور 2021 کے درمیان اپنی پہلی صدارتی مدت کے دوران ٹرمپ ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان 2015 کے ایٹمی معاہدے سے دستبردار ہو گئے تھے۔ اس معاہدے نے نے پابندیوں میں نرمی کے بدلے تہران کی ایٹمی سرگرمیوں پر سخت پابندیاں عائد کر دی تھیں۔ ٹرمپ نے جامع امریکی پابندیاں بھی دوبارہ لگا دیں۔ اس کے بعد سے ایران نے اپنے یورینیم کی افزودگی کے پروگرام میں طے شدہ حد سے تجاوز کرنا شروع کردیا تھا۔
تہران نے اب تک ٹرمپ کی جانب سے معاہدے تک پہنچنے یا فوجی نتائج کا سامنا کرنے کے انتباہ کو مسترد کر دیا ہے۔ دریں اثنا ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے اتوار کو کابینہ کے اجلاس کے دوران کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیغام پر امریکی فریق کو سلطنت عمان کے ذریعے ایران کا ردعمل موصول ہوا ہے۔
مسعود پیزیشکیان نے مزید کہا کہ اس جواب میں دونوں فریقوں کے درمیان براہ راست مذاکرات کے خیال کو مسترد کیے جانے کے باوجود اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ بالواسطہ مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے کبھی بھی مذاکرات کے آپشن سے گریز نہیں کیا ہے بلکہ دوسرے فریق کی طرف سے معاہدوں کی خلاف ورزی اس راستے کی خرابی کی وجہ رہی ہے جس کا ازالہ اور اعتماد بحال کرنا ضروری ہے۔ ایرانی صدر نے عندیہ دیا ہے کہ امریکیوں کا طرز عمل اس مذاکراتی راستے کے مستقبل کا تعین کرے گا۔
عرب سینٹر فار ایرانی اسٹڈیز کے ڈائریکٹر محمد صالح صدیقیان نے ہفتے کے روز ایکس پلیٹ فارم پر اپنے اکاؤنٹ کے ذریعے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا پیغام شائع کیا تھا۔