تل ابیب،30 مارچ (مسرت ڈاٹ کام) اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر نے اعلان کیا کہ اسرائیل نے امریکا کی مکمل ہم آہنگی کے ساتھ ثالثوں کو ایک نئی تجویز پیش کی ہے
نیتن یاہو کے دفتر نے کہا ہے کہ وزیر اعظم نے ثالثوں کی طرف سے موصول ہونے والی تجویز کے بعد کل مشاورت کی۔ ہم نے ایک جوابی تجویز پیش کی ہے۔ یہ پیش رفت ان اطلاعات کے پس منظر میں ہوئی ہے کہ حماس نے ایک نئی ڈیل سکیم پر رضامندی ظاہر کی ہے جس کے تحت جنگ میں طویل مدتی جنگ بندی کے بدلے پانچ مغویوں کو رہا کیا جائے گا۔ یہ جنگ بندی ممکنہ طور پر 50 دن تک جاری رہے گی۔
اسرائیلی چینل ’’کان‘‘نے باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ امکان ہے کہ حماس عید الفطر کی چھٹیوں کے دوران غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کو یقینی بنانے کے لیے متعدد یرغمالیوں کو رہا کر دے گی۔ ’’کان ‘‘ کے مطابق حماس عید الفطر کی چھٹیوں کے دوران جنگ بندی کے بدلے کئی یرغمالیوں کو رہا کرنے کی تیاری کر رہی ہے جن میں وہ اسرائیلی فوجی ایڈان الیگزینڈر بھی شامل ہے جس کے پاس امریکی شہریت بھی ہے۔
وزیر اعظم نیتن یاہو اب بھی جنگ روکنے سے انکار کر رہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ جب تک حماس کی عسکری اور حکومتی صلاحیتوں کو ختم نہیں کر دیا جاتا تو جنگ بندی کے دوسرے مرحلے میں داخل نہیں ہوا جائے گا۔ انہوں نے دوسرے مرحلے میں جانے کے بجائے پہلے مرحلے میں توسیع کی کوشش کی ہے۔
دو ہفتوں سے زائد تعطل کے بعد اسرائیل نے رواں سال 19 جنوری میں طے پانے والی جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے 18 مارچ کو غزہ بھر میں اپنی فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کر دی ہیں۔ دوبارہ شروع ہونے والے قتل عام میں 921 فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔ مجموعی طور پر اسرائیل نے سات اکتوبر 2023 کے بعد سے غزہ کی پٹی میں 50277 فلسطینیوں کو شہید کردیا ہے۔ شہدا میں 60 فیصد بچے اور خواتین شامل ہیں۔