Masarrat
Masarrat Urdu

تشدد اور جنسی استحصال کے شکار بچے

قدرتی آفات و بلیات, تشدد, لڑائی جھگڑے,خانہ جنگی اور نقل مکانی وغیرہ قدرتی ہو یا انسان کے پیدا کردہ اس سے سب سے زیادہ متاثر خواتین اور بچے ہوتے ہیں۔ یہ بات کسی ایک ملک کے ساتھ خاص نہیں ہے خواہ ترقی یافتہ ملک یا ترقی پذیر، یا تیسری دنیا کے ممالک ہوں ہر جگہ ان کے ساتھ یکساں طور اسی طرح کا گھناؤنا سلوک کیا جاتا ہے اس کی سب سے بڑی وجہ ان کا ’’سافٹ ٹارگیٹ ‘‘ہونا بھی ہوتی ہے۔ آج بچے سب سے زیادہ مہذب ممالک کے ان درندوں کی فہرست میں سب سے اوپر ہیں جنہیں جنسی بے راہ روی کی تمام حدوں کو پار کرنے کے بعد بھی جب تسلی اور اطمینان نہیں ہوا تو وہ اب کمسن بچوں اور بچیوں کی طرف مائل ہوچکے ہیں۔ ان کے ساتھ جنسی زیادتی کی تصاویر اور ویڈیوفوٹیج انٹرنیٹ پر موجود ہیں اور مختلف گروپوں کے ذریعہ ایک دوسرے کو ای میل کے ذریعہ یہ تصاویر اور فوٹیج بھیجے جاتے ہیں۔ان فوٹیج اور تصاویر میں ان طالبات کے بھی ہوتے ہیں جنہوں نے اپنے ہم جماعت یا دوست لڑکے پر اعتماد کرکے ان کے سامنے برہنہ ہوگئیں۔ بچے بچیوں کے ساتھ جنسی استحصال کے بے شمار فوٹو یا ویڈیو فوٹیج مختلف ویب سائٹ اور گروپس پر موجود ہیں جنہیں دیکھ کر آپ کے رونگھٹے کھڑے ہوجائیں گے۔ اس کے بعد آپ یہ سوچنے پر مجبور ہوجائیں گے کہ اگلا نشانہ آپ کا بچہ تو نہیں۔بچوں کی گمشدگی اور اغوا ہونا آج عام بات ہو گئی ہے۔ اسپتالوں سے بچوں کی چوری بھی روزہ مرہ کے معمول میں شامل ہے۔ ظاہر سی بات ہے کہ ان تمام مغویہ بچوں کی ناز و نعم سے پرورش نہیں کی جاتی ہوگی اور ان کا کسی نہ کسی صوت میں جنسی استحصال بھی ہوتا ہے۔ 
افسوس کا مقام تو یہ ہے کہ جن لوگوں کے کندھوں پر ان بچوں کی دیکھ بھال اور پرورش کی ذمہ داری ہوتی ہے انہی میں سے بیشتران بچوں کا جنسی استحصال کرتے ہیں۔ جرمن حکام نے اپنے یہاں ان رضاکاروں تنظیموں کے ۱۲ ہزار ورکروں پربچوں جنسی استحصال کرنے اور کروانے کے الزام کی تفتیش کررہی ہے۔ ان تنظیموں پر الزام ہے کہ بچوں کی تصاویر استعمال کرکے ان سے فحاشی کرواتے تھے۔ بچوں پر تشدد کے بارے میں اقوام متحدہ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ بہت سے بچے ایسے ماحول میں رہتے ہیں جہاں ان پر ہونے والا تشدد نظروں سے اوجھل رہتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایک ارب سے زیادہ بچے ایسے ممالک میں رہتے ہیں جہاں استاذ کے ہاتھوں بچوں کی پٹائی جائز سمجھی جاتی ہے ۔ اسی رپورٹ میں آگے کہا گیا ہے ان میں سے دس لاکھ بچوں کو کام پر لگادیا جاتا ہے اور ان میں سے بہت سوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی جاتی ہے۔ عالمی ادارہ انجمن بہبود اطفال نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے دنیا بھر میں دس لاکھ بچے زیر حراست ہیں ان میں سے نوے فیصد تعداد ان بچوں کی ہے جو چھوٹے موٹے جرائم اور معمولی چوریوں میں ملوث تھے۔ اسی رپورٹ میں برطانیہ کے بارے میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ تیرہ سال میں یہاں زیر حراست بچوں کی تعداد دوگنی سے زائد ہوگئی ہے۔ 
بموں 249 میزائلوں اور راکٹوں سے کھیلنا سپر پاور وں کا پرلطف اور ذہن کو تسکین پہنچانے والا مشغلہ ہوسکتا ہے لیکن اس کا سب سے زیادہ اثر بچوں اور عورتوں پر پڑتا ہے ۔ ۱۹۹۰ کے خلیجی جنگ اور پھر ۲۰۰۳ میں جمہوریت بحال کرنے کے نام پر پورے عراق کو تخت و تاراج کیا گیا۔ عراق پر امریکی حملہ نے عراقی بچوں کے سر سے باپ کا سایہ اور ماں کی شفقت کو چھین لیا۔ جو ملک ترقی یافتہ ملک کے قطار میں تھا وہ تیسری دنیا کے ملکوں سے بھی بدتر صورت حال سے دوچار ہے ۔ جہاں غربت نے اس قدر قہر ڈھایا ہے کہ وہاں کی باحیا غیرت مند خواتین چند سکوں کے لئے جسم فروشی کرنے پر مجبور ہوگئی ہیں۔عراق آج بیواؤں کا ملک بن گیا ہے۔ یقیناً اس کا سہرا وزیر اعظم نور المالکی اور ان کے حامیوں کے سر جاتا ہے۔ انہوں نے امریکی نوازی میں عراق کو تباہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ وہاں صورت حال اس قدر بھیانک ہے کہ اس کا صحیح طریقے سے اندازہ بھی نہیں لگایا جاسکتا۔ اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف کی ایک رپورٹ کے مطابق عراق میں ۲۰ لاکھ بچے خوراک249 تعلیم 249 تشدد 249 بیماریوں اور جنسی استحصال جیسے مسائل سے دوچار ہیں۔ اس کی رپورٹ کے مطابق عراقی بچے اپنے ملک میں جاری خانہ جنگی249عدم استحکام اور ہنگامہ آرائی کی قیمت ادا کر رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ۲۰۰۷ میں سینکڑوں بچے ہلاک ہوئے جب کہ امریکی حمایت یافتہ عراقی حکام نے ایک ہزار تین سو پچاس بچوں کو حراست میں لیا۔ اس تشدد کے خوف سے ہر ماہ پچیس ہزار سے زائد بچے اور ان کے خاندان اپنا گھر و بار چھوڑ عراق کے دوسرے علاقے یا دوسرے ملک میں ہجرت کرجاتے ہیں۔ اس کے علاوہ عراق میں خواتین اور بچوں کی صورت حال اتنی خراب ہوگئی ہے کہ عراقی لڑکیاں جسم فروشی جیسے مخرب اخلاق پیشہ اختیار کرنے پر مجبور ہیں اور عراقی بچے سیاحوں کے ہوس کا شکار ہورہے ہیں۔
یونیسیف کی ایک رپورٹ کے مطابق خانہ جنگی اور امریکی فوجی کے ذریعہ تمام بنیادی سہولتوں کے انہدام کی وجہ سے بچوں کی تعلیم بری طرح متاثر ہورہی ہے ۔ دو لاکھ بیس ہزار بے گھر بچوں میں سے زیادہ تر پرائمری اسکول جانے کی عمر کے بچے ہیں ان کو چھت بھی میسر نہیں ہے تو تعلیم تو دور کی بات ہے۔ یہ صورت حال عراق کے دور دراز علاقوں میں اور بھی بھیانک شکل اختیار کئے ہوئے ہے۔ بغداد کو چھوڑ کر ملک کے ۲۰ فیصد بچوں کو سیوریج نظام میسر ہے جبکہ پینے کا صاف پانی کے فراہمی کا مسئلہ کا منہہ پھاڑے کھڑا ہے۔ یہی عراق ہے جہاں امریکہ کروڑوں ڈالر جنگ پر خرچ کرتا ہے جس سے بنیادی سہولیات ڈھانچہ تباہ ہوتا ہے۔ بچوں سے اسکول چھینا جاتا ہے، لوگوں سے چھت، روزی روٹی اور ماؤں کی گود یں سونی کی جاتی ہیں۔ یہ مہذب ممالک امریکہ اور مغرب کی نئی طرز زندگی ہے جہاں تخریب کو تعمیر کا نام دیا جاتا ہے۔ انسانی خون سے ہولی اور حملہ کرکے ملک کو تخت و تاراج کرنے کو جمہوریت کی بحالی کا نام دیا جاتاہے۔ اس غیر انسانی سلوک پر پوری دنیا خاموش تماشائی بنی رہتی ہے۔ ان پر جنگی جرائم کا مقدمہ بھی نہیں چلتا بلکہ انہیں امن کا انعام دیا جاتا ہے۔ 
اسٹیٹ آف دی ورلڈ چلڈرن کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا میں مجموعی بچوں کی ۴۵ فیصد یعنی ایک ارب بچے مفلسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ جنگ ، خانہ جنگی اور مسلح تنازعات کی وجہ سے ۱۹۹۰ سے ۲۰۰۳ کے دوران تقریباً ۱۶ لاکھ ۲۰ ہزار سے زائدبچے لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان تنازعات یا جنگ کے ۵۹ واقعات میں سے ۵۵ واقعات اندرون ملک کے ہیں اس میں دو ممالک شامل نہیں تھے۔ اقوام متحدہ کاادارہ بہبود اطفال کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا میں ۱۸ کروڑ بچوں سے سخت قسم کی مزدوری کرائی جاتی ہے جس سے ان بچوں کی جسمانی اور دماغی نشوونما پر مضر اثر پڑتا ہے اور صحت بھی خراب ہوجاتی ہے۔اسی طرح ہر سال ۳ لاکھ اسمگل کرکے مختلف مغربی ممالک میں فروخت کردئے جاتے ہیں۔ ۲۰ لاکھ بچے جن میں اکثریت لڑکیوں کی ہوتی ہے جبری جنسی کاروبار میں دھکیل دیے جاتے ہیں۔ 
بچوں کے استحصال کا سلسلہ صرف ترقی پذیر ملکوں تک محدود نہیں ہے صنعتی اعتبار سے مالا مال اور دولت کے معاملے میں خوشحال ممالک میں بھی بچوں کے ساتھ اسی طرح کا سلوک کیا جاتا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں بچے اور بچیوں کے ساتھ جنسی فعل اور غیر فطری عمل روا رکھا جاتا ہے خاص طور پر سیاحتی مقامات پر غریب اور بے بس بچوں کے ساتھ سیاح اور خاص کر مہذب اور انسانی حقوق کے علمبردار ممالک سے تعلق رکھنے والے سیاح جنسی بے راہ روی میں اس قدربھٹک چکے ہیں کہ وہ غیر فطری عمل کو ہی پسند کرتے ہیں۔ ایک ایسیا ہی ویڈیو فوٹیج میرے ای میل پر آیا جسے دیکھ کر رونگھٹا کھڑا ہوجاتا ہے۔ جس میں ایک چار پانچ سالہ بچی کے ساتھ ایک مغربی سیاح کو غیر فطری عمل کرتے اور بچی سے جبراً جنسی عمل کراتے دکھایا گیا ہے۔ معاشرے کا سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے آج کل سب سے آسان نشانہ بچے اور بچیاں ہوتے ہیں جسے آسانی سے بہلا پھسلاکر یا اس کی غربت کا فائدہ اٹھاکر ان کا جنسی و جسمانی استحصال کیا جاتا ہے۔ جس ملک میں سیاحوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے اسی حساب کے جنسی زیادتیوں کے واقعات کثیر تعداد میں پیش آتے ہیں۔ اب تک اس معاملے میں جو مقام تھائی لینڈ کو حاصل تھا وہ اب ممبئی اور گوا کو حاصل ہوگیا ہے۔ جہاں مغربی سیاح اپنی جنسی بھوک مٹانے کے لئے سیاحت کاسہارا لیتے ہیں اور غربت کے دلدل میں پھنسی کچھ لڑکیاں تو کچھ اپنی غیر ضروری ضرورتوں کو پوری کرنے کے لئے جسم فروشی کا سہارا لیتی ہیں۔اس طرح کے واقعات کی خبریں ہم آئے دن اخبارات میں پڑھتے رہتے ہیں۔ 
اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا میں بھوکے پیٹ سونے والوں کی تعداد جہاں ۱۹۹۰ میں ۸۲۵ میلین تھی وہیں ۲۰۰۹ میں بڑھ کر ایک بلیین ہوگئی ہے۔ اقوام متحدہ کو ایک بیلین افراد کے پیٹ بھرنے کے لئے ایک یبلین ڈالر کی ضرورت ہے۔ انسانی نظریے سے سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ دنیا میں ہر پانچ سکینڈ میں ایک بچے کی بھوک سے موت ہوتی ہے۔اس طرح دنیا میں ہر روز ۱۸ ہزار سے زائد بچے بھوک کی وجہ سے لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔ دنیا کے ترقی پذیر ممالک میں ناقص تغذیہ کی وجہ سے ۵ سال سے کم عمر بچوں میں سے ۵ ۲ فیصد بچوں کا وزن ان عمر کے بچوں کے معمول کے وزن سے کم ہوتا ہے اور یہ مختلف مہلک بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں۔ اقوام متحدہ بہبود اطفال فنڈ (یونیسیف) کی ایک رپورٹ کے مطابق نِقص تغذیہ کے شکار ممالک میں اس سے نمٹنے کے لئے مختلف پروگرام چلائے جاتے ہیں لیکن نوکر شاہوں کی وجہ سے ان منصوبوں پر ایمانداری سے عمل نہیں ہوتا ورنہ بھوکوں کی اتنی بڑی تعداد نہیں ہوتی۔ 
نقص تغذیہ کے شکار بچوں میں سب سے زیادہ تعداد ہندوستان میں ہے یہاں تقریباً دس (۱۰) کروڑ سے زائد بچے بھوکے سوتے ہیں۔ چین کا نمبر دوسرا ہے ۔ چین میں بھوکے سونے والے بچوں کی تعداد چار (۴) کروڑ ہے یعنی ہندوستان سے چھ کروڑ کم ، جب کہ چین آبادی کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے۔ لاطینی امریکہ میں ایسے بچوں کی تعداد تین (۳) کروڑ ہے۔ اس کے علاوہ دیگر ایشَیائی ممالک میں بھوکے بچوں کی تعداد ۱۰ (دس) کروڑ ہے۔ 
اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق ایک ارب بچوں کی تعداد ان ممالک میں رہتی ہے جہاں ان کے ساتھ جنسی زیادتی، اساتذہ کے ہاتھوں پٹائی کو جائز سمجھا جاتا ہے اور دس لاکھ سے زائد بچوں کو کام پر لگادیا جاتا ہے۔ ان میں سے زیادہ تر بچے جنسی زیادتی کے شکار ہوتے ہیں۔ اسی طرح اقوام متحدہ کا ادارہ انجمن بہبود اطفال کی ایک رپورٹ میں کہا گیاہے کہ دنیا بھر میں کروڑوں بچے انتہائی خستہ حالی کے شکار ہیں۔ ترقی پذیر جو گوناگوں مسائل کے شکار ہوتے ہیں بچوں کے معاملہ میں اس کا ریکارڈ بہتر نہیں ہے ۔ رپورٹ کے مطابق ترقی پذیر ممالک میں ایک کروڑ ۷۱ لاکھ بچوں سے جبری مشقت اور مزدوری کرائی جاتی ہے جب کہ ۸ کروڑ لڑکیوں کی شادی ۱۸ سال کی عمر تک پہنچنے سے پہلے کردی جاتی ہے ۔ اپنی رپورٹ میں یونیسیف نے کہا کہ کروڑوں بچوں کو جبری مشقت اور لاکھوں کو بچوں کو گھریلو کام کاج کے لئے فروخت کردیا جاتا ہے ۔ مختلف حصوں میں جاری تنازعات اور خانہ جنگی کے نتیجے میں بچے اس کی بھینٹ سب سے زیادہ چڑ ھ رہے ہیں ۔ رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ ۲۰ لاکھ بچوں کو جنسی کاروبار میں دھکیلا گیا ہے اور ان بچوں کو ہر وقت تشدد کا خطرہ منڈالاتا رہا ہے۔ اسی رپورٹ میں آگے کہا گیا ہے کہ مختلف اسباب سے ۱۵ کروڑ بچے مستقل معذوری کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ۔ 
بچوں کی تجارت ایک سنگین شکل میں سامنے آرہی ہے انسان جس قدر ترقی کر رہا ہے اسی طرح ان میں اخلاًقی گراوٹیں آرہی ہیں اخلاقیات کے معاملے جانوروں سے بھی گیا گزرا ثابت ہورہا ہے۔ بچوں کی تجارت کے تار تمام غریب ممالک سے جڑے ہوئے ہیں جہاں سے بڑی تعداد میں بچے ترقی یافتہ ممالک میں اسمگل کئے جاتے ہیں ۔ جہاں ان بچوں سے گھریلو نوکر کے طور پر کام کرایا جاتا ہے اورساتھ ہی ساتھ وہ جنسی زیادتی کے شکار بھی ہوتے ہیں ۔ انسانی بے راہ روی نے انسانی معاشرہ کو اس قدر آلودہ کردیا ہے یہاں صحت مند بچوں کے لئے سانس لینا بھی دشوار ہے۔ ہندوستان میں جس طرح ترقی کی رفتار نے زور پکڑا ہے اسی طرح بچوں اور خواتین کے ساتھ جنسی استحصال اور جرائم کے نت نئے طریقے وجود میںآرہے ہیں۔ حالات کچھ اس قدر خراب ہوگئے ہیں کہ بچے اور خواتین کہیں بھی محفوظ نہیں ہیں خواہ وہ اسکول ہو یا کالج، دفتر ہو یا گھر کسی نہ کسی صورت میں انہیں استحصال کا شکار ہونا پڑتا ہے۔ 
ڈی۔۶۴، فلیٹ نمبر۔ ۱۰ ،ابوالفضل انکلیو، جامعہ نگر، اوکھلا، نئی دہلی۔ ۲۵
9810372335 
abidanwaruni@gmail.com

Ads