کانگریس اقلیتی شعبہ کے چیئر مین اور کن پارلیمنٹ عمران پرتاپ گڑھی نے کہا کہ ہم سب جامعہ میں بھوک ہڑتال پر بیٹھے طلبہ کے ساتھ کھڑے ہیں۔ جامعہ انتظامیہ لاٹھی کے زور سے طلبہ کی آواز کو نہیں دباسکتی۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ جامعہ میں یونین کی بحالی ہونے تک یہ لڑائی جاری رہے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ جامعہ کے طلبہ تقریباً10دنوں سے بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہوئے ہیں اور طلبہ یونین کی بحالی کا مطالبہ کررہے ہیں ،لیکن افسوس جامعہ انتظامیہ کو اپنے طلبہ کی کوئی فکر نہیں ہے،البتہ احتجاج کررہے طلبہ کو ڈرااوردھمکاکر احتجاج کو ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ طاقت کے دم پر احتجاج کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے جامعہ انتظامیہ سے جلد سے جلد طلبہ کے مطالبات کومان کرہڑتال کو ختم کرانے کی اپیل کی۔
ان کی آمد کو احتجاجی طلبہ کے لیے حوصلہ افزا قدم قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ طلبہ طویل عرصے سے جامعہ میں جمہوری نمائندگی کی بحالی کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں۔طلبہ کا کہنا ہے کہ جامعہ میں طلبہ یونین کی عدم موجودگی کے باعث انہیں اپنے مسائل اور مطالبات انتظامیہ تک پہنچانے کے لیے ایک موثر پلیٹ فارم میسر نہیں ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ طلبہ یونین کی بحالی کے لیے جلد از جلد ٹھوس اقدامات کیے جائیں تاکہ طلبہ جمہوری طریقے سے اپنی نمائندگی کر سکیں۔ طلبہ کا موقف ہے کہ ان کے جمہوری مطالبات کو تسلیم کیا جانا چاہیے اور ان کے ساتھ بات چیت کے ذریعے مسئلے کا حل نکالا جانا چاہیے۔اس موقع پر کانگریس کے اقلیتی شعبے کے چیئرمین عبدالواحد قریشی،میڈیا انچارج عدنان اشرف سمیت کئی کانگریس کے رہنما بھی موجود تھے۔
