Masarrat
Masarrat Urdu

جامعہ ملیہ اسلامیہ میں مصنوعی ذہانت کے دور میں سائبر دھوکہ دہی،ڈیجیٹل ہراسانی اور ڈیپ فیکس کے موضوع پر سائبر سیفٹی اور بیداری پروگرام کا انعقاد

Thumb

نئی دہلی، 6 اکتوبر (مسرت ڈاٹ کام) جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سائبر کلب نے،’ڈین، اسٹوڈنٹس ویلفیئر‘ کے دفتر کے زیرِ اہتمام سائبر دور کے موجودہ اور ابھرتے ہوئے خدشات سے نمٹنے کے لیے ’بیونڈ دی اسکرین: سائبر فراڈ، ڈیجیٹل ہراسانی اور اے آئی کے دور میں ڈیپ فیکس‘کے عنوان سے سائبر تحفظ اور بیداری پروگرام منعقد کیا۔جاری ریلیز کے مطابق اس موقع پر دہلی پولیس کی جنوبی رینج کے جوائنٹ کمشنر آف پولیس، شری وجے کمار (آئی پی ایس) مہمانِ خصوصی تھے، جب کہ دہلی پولیس کے اے سی پی منوج کمار نے کلیدی خطبہ دیا، جو جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سائبر کلب کے بیرونی رکن بھی ہیں۔ پروگرام میں اعزازی مہمانان کے طور پر محترمہ ایشوریہ شرما(آئی پی ایس)، ڈی سی پی لائسنسنگ، دہلی اور محترمہ ایشوریہ سنگھ(آئی پی ایس، ایڈیشنل ڈی سی پی، جنوبی ضلع، دہلی کی شرکت سے تقریب کی رونق میں چار چاند لگ گئے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے مسجل پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی تقریب کے سرپرست تھے۔ تقریب کی صدارت پروفیسر مظہر آصف،شیخ الجامعہ،جامعہ ملیہ اسلامیہ نے کی۔

اپنے استقبالیہ خطاب میں، جامعہ ملیہ اسلامیہ میں طلبہ بہبود کی ڈین اور سائبر کلب کی مشیر پروفیسر نیلوفر افضل نے علم کو بااختیار بنانے کا سب سے بڑا ذریعہ قرار دیا، اس کے ساتھ ہی حاضرین کی توجہ دھوکہ دہی کی تاریکی کی جانب بھی مبذول کرائی، جس کا مقابلہ ٹیکنالوجی اور اے آئی کے ذمہ دارانہ استعمال کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔ سائبر دنیا کے ساتھ تعامل کے حوالے سے ان کے تین نکاتی اصول ’کلک کرنے سے پہلے توقف کریں‘، ”یقین کرنے سے پہلے تصدیق کریں‘، اور”اگر کچھ غلط ہو تو آواز بلند کریں‘نے تقریب کے لیے بنیادی سمت متعین کی۔

محترمہ ایشوریہ شرما نے ان تین اہم طریقوں پر روشنی ڈالی جن کے ذریعے دھوکہ باز صارفین کے ڈیجیٹل اعتماد کا غلط فائدہ اٹھاتے ہیں: سائبر فراڈ، ڈیجیٹل ہراسانی، اور ڈیپ فیکس۔ انھوں نے حاضرین کو آگاہ کیا کہ وہ اپنی آن لائن سرگرمیوں کے نشانات چھوڑنے کے معاملے میں محتاط رہیں، کیونکہ ایک بار بن جانے کے بعد انہیں مٹانا مشکل ہوتا ہے۔

محترمہ ایشوریہ سنگھ نے سائبر تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ضروری اہم پہلوؤں کی وضاحت کی۔ انھوں نے خوف اور اضطراب کے جذبات میں مبتلا ہونے سے بچنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انھوں نے مزید ان عام طریقوں کا ذکر کیا جنہیں دھوکہ باز سادہ لوح لوگوں کو پھنسانے کے لیے استعمال کرتے ہیں جیسے کہ ڈیجیٹل گرفتاری، مالی سائبر فراڈ، ڈیپ فیکس، پاس ورڈ ہیکنگ، سائبر بدمعاشی و دھمکی، اور شناخت کی چوری۔

جناب منوج کمار نے ڈیجیٹل رسائی میں اضافے کے ساتھ پیدا ہونے والے مصنوعی ذہانت پر مبنی کچھ عام خطرات سے متعلق گفتگو کی۔ انھوں نے ’ڈیجیٹل غلامی’کو خاص طور پر فوری تشویش کا باعث قرار دیا۔ انھوں نے محفوظ رہنے کے لیے چند مفید اور عملی حفاظتی اقدامات تجویز کیے جیسے موبائل سافٹ ویئر کو اپ ڈیٹ رکھنا، دھوکہ دہی کی صورت میں ثبوت محفوظ کرنا، اور فوری رپورٹنگ اور کاروائی کے لیے انیس سو تیس نمبر پر فون کرنا۔ انھوں نے شرکا کو چوکس اور باخبر رہنے اور خود کو واقف کار بنانے کی تلقین کی، کیونکہ محض بے گناہی کا دعویٰ قانون کی گرفت سے استثنیٰ نہیں دلا سکتا۔ انھوں نے شرکا کو سائبر تحفظ اور بہتری کو فروغ دینے والے اہم اقدامات جیسے کہ سنچار ساتھی، ’ایم-کواچ دو، اور ’ڈیجی کواچ‘ کے بارے میں آگاہ کیا۔ انھوں نے مشکوک ویب سائٹس پر جانے اور میلویئر (جیسے اے پی کے فائلیں) ڈاؤن لوڈ کرنے کے خطرناک نتائج کی تفصیل سے وضاحت کی۔

پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی نے محفوظ آن لائن رویے اور ممکنہ سائبر حملوں کے خلاف چوکنا رہنے سے متعلق اہم نکات کو اجاگر کرنے کے لیے کچھ ذاتی واقعات کا حوالہ دیا۔ انھوں نے حاضرین کو مشورہ دیا کہ وہ محفوظ رہیں اور سائبر کرائم کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اپنی عقل اور فہم پر انحصار کریں، اور ایسا صرف اپنی ذات کی خاطر نہیں کریں بلکہ پوری کمیونٹی کے فائدے کے لیے بھی کریں۔

مسٹر وجے کمار نے اپنے ذاتی تجربے کی بنیاد پر انتہائی دلچسپ انداز میں حاضرین کو بتایا کہ دھوکہ باز مختلف گروہوں کو نشانہ بنانے کے لیے مختلف حربے استعمال کرتے ہیں۔ انھوں نے آگاہ کیا کہ سماجی و اقتصادی حیثیت سے قطع نظر، لوگ سائبر کرائم کا یکساں شکار ہو سکتے ہیں اور بتایا کہ سائبر کرائم کے واقعات تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ خاص طور پر نوجوانوں کے لیے ان کے مشوروں میں کچھ ایسے اہم اقدامات شامل تھے جو ان چیلنجز سے نمٹنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں جیسے کہ آن لائن او ٹی پیز اور ذاتی تفصیلات شیئر کرنے سے گریز کرنا، نامعلوم ویڈیو کالز کا جواب نہ دینا، ملازمت کی پرکشش پیشکشوں کے معاملے میں محتاط رہنا، اور فحش مواد کو محفوظ کرنے یا شیئر کرنے سے سختی سے اجتناب کرنا۔ انھوں نے شرکا کو’میوٹ اکاؤنٹس‘ کے بارے میں بھی آگاہ کیا جو لوگوں کو پھنسانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔

پروفیسر مظہر آصف نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ سائبر کی دنیا میں مالی جرائم کا ارتکاب کرنے والے افراد اپنے شکار بننے والوں کی ہوس یا لالچ کا فائدہ اٹھاتے ہیں، لہٰذا محتاط اور باخبر رہنا انتہائی ضروری ہے۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ یونیورسٹی برادری کے درمیان اعلیٰ عہدیداران کی موجودگی بذاتِ خود ایک متاثر کن عمل ہے اور یہ آگاہی و تعلیم کا ایک مضبوط پیغام دیتی ہے۔ انھوں نے طلبہ سے پرزور اپیل کی کہ وہ موبائل فون جیسی ٹیکنالوجیز کے استعمال میں احتیاط برتیں اور خود کو ان ٹیکنالوجیز کے زیرِ اثر نہ آنے دیں۔

پروگرام کی نظامت جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سائبر کلب کی کنوینر ڈاکٹر عمیمہ نے کی۔ سائبر کلب کے وژن کی وضاحت کرتے ہوئے انھوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ کلب، کوئز، مذاکراتی اجلاس، ورکشاپ اور سیمینار جیسے مختلف اقدامات کے ذریعے متعلقہ افراد میں آگاہی پیدا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انھوں نے مزید بتایا کہ کلب کی جانب سے ’سائبر جاگرکتا دیوس‘منانے کا بھی منصوبہ ہے۔

ڈاکٹر عصمت جہاں،ڈپٹی ڈی ایس ڈبلیو نے تمام مہمانان اور حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔ تقریب کا اختتام قومی ترانے کی نغمہ سرائی پر ہوا۔

Ads