Masarrat
Masarrat Urdu

مولانا اسرار الحق قاسمی کو بہترین خراج عقیدت ان کے مشن اور ویژن پر عمل کرنے سے ہوگا۔ مقررین

Thumb

 

نئی دہلی، 7دسمبر (مسرت نیوز) سابق رکن پارلیمنٹ کشن گنج مولانا اسرار الحق قاسمی کے مشن اور ویژن کو زندہ رکھنے پر زور دیتے ہوئے مقررین نے کہاکہ مولانا نے اپنی پوری زندگی خدمت خلق، مسلمانوں کی پریشانیوں کو دور کرنے اور تعلیم کے ذریعہ تبدیلی لانے پر وقف کردی۔ یہ بات مقررین نے آل انڈیا تعلیمی و ملی فاؤنڈیشن میں مولانا دوسری برسی پر منعقدہ ایک تعزیتی میٹنگ میں کہی۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبہ اردو کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر خالد مبشر نے کہاکہ اس سے بڑھ کر مولانا قاسمی کے لئے خراج نہیں ہوسکتا کہ ان کے تعلیمی مشن کو آگے بڑھایا جائے اور جو تعلیمی پودے انہوں نے لگائے ہیں اسے سینچ کر تناور درخت بنایا جائے۔ انہوں نے کہاکہ مولانا قاسمی نہ صرف تعلیم کے میدان میں عظیم رہنما تھے بلکہ سماجی خدمات، سیاسی خدمات اور ملی خدمات کے بھی عظیم رہنما تھے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی ملت کے کاموں میں بسر کردی اور سیاست میں جب آئے وہ ایک خادم کی طرح آئے اور متاثرہ علاقہ یا سیلاب کا علاقہ وہ کیچڑ اور پانی کا پرواہ کئے بغیر ہر جگہ لوگوں کی پریشانی حل کرنے پہنچ جاتے تھے۔ وہ ہمارے لئے رول ماڈل ہیں اور ہمیں ان کے کارواں کو آگے بڑھانا چاہئے تبھی ان کے لئے سچا خراج عقیدت ہوگا۔
مولانا قاسمی کے داماد اور ہمدرد کے اعلی عہدیدار فیاض عالم نے مولانا کی ملت کے تئیں درد مندی کو یاد کرتے ہوئے کہاکہ جب بھی وہ بات کرتے تھے کہتے تھے کہ مسلمانوں کو تعلیمی ادارے قائم کرنا چاہئے کیوں کہ افراد یہیں سے دستیاب ہوں گے۔ انہوں نے کہاکہ ہمیشہ مسلمانوں، سیمانچل کے حالات اور وہاں پیدا شدہ مسائل کے بارے میں بات کرتے تھے اور لڑکیوں کی تعلیم پر خاص طور پر زور دیتے تھے۔انہوں نے کہاکہ جب مولانا کو ادارہ قائم کرنے کا موقع ملا تو انہوں نے سب سے پہلے لڑکیوں کا اسکول ’ملی گرلس اسکول‘ نام سے قائم کیا۔ اس وقت مولانا پر کافی انگلیاں بھی اٹھیں لیکن آج یہ علاقہ کا لڑکیوں کا سب سے بہترین اسکول ہے۔ 
آل انڈیا تعلیمی و ملی فاؤنڈیشن کے جنرل سکریٹری پرویز اعظمی نے مولانا قاسمی سے دیرینہ تعلقات کو یاد کرتے ہوئے انہیں خراج عقیدت پیش کیااور کہا کہ وہ سب سے الگ طرح کے عالم دین تھے اور ان میں خاکساری کوٹ کوٹ کر بھری تھی۔ 


یو این آئی کے صحافی عابد انور نے اس موقع پر کہا کہ مولانا خدمت خلق کے لئے تقریباً چار لاکھ گاؤں کا دورہ کیا جو مولانا کی عظمت، مسلمانوں اور انسانوں کے تئیں ان کی ہمدردی اور فکر مندی کو ظاہر کرتا ہے۔
مولانا کے علاقے سے تعلق رکھنے والے مولانا اسحاق عادل نے مولانا قاسمی کی تعلیمی خدمات کو یاد کرتے ہوئے کہاکہ جب انہوں نے پہلی بار ملی گرلس اسکول دیکھا تو دنگ رہ گئے تھے کہ علاقے میں بھی ایسا اسکول ہے۔ انہوں نے کہاکہ انتہائی ملنسار، خلیق اور شفقت کرنے والے انسان تھے۔ وہ سب سے اپناہیت سے ملتے تھے۔ ان کی تحریریں ہمارے لئے مشعل راہ ہیں۔
ریسرچ اسکالر منظر امام نے مولانا متعدد خوبیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ مسلمانوں کے مسائل کے تئیں بہت حساس تھے اور اس سلسلے میں وہ کبھی اپنی بیماریوں کی پرواہ نہیں کرتے تھے۔ جو بھی ان سے ملنے آتے تھے نہایت اپناہیت کے ساتھ ملتے تھے اور ملنے والوں کو یہ احساس نہیں ہوتا تھا کہ وہ ان سے پہلی بار مل رہے ہیں۔
اس کے علاوہ دیگر مقررین میں صحافی شاہ عالم اور عمار جامی اور دیگر حضرات شامل تھے۔

Ads

مضامین

Ads