Masarrat
Masarrat Urdu

دہلی فساد متاثرین معاوضہ کے لیئے رد ہوئی درخواستوں پر وقف بورڈ نے سونپی پروگریس رپورٹ

Thumb


دہلی اسمبلی کی اقلیتی فلاحی کمیٹی نے 748لوگوں کی لسٹ حوالے کی تھی۔فی الحال 160لوگوں کی تصدیق کا کام مکمل،متاثرین میں معاوضہ کے لئے جاگی امید

نئی دہلی،17ستمبر()سال کے شروع میں دہلی میں ہونے والے فساد میں متاثرین کی راحت رسانی میں دہلی وقف بورڈ اول دن سے ہی سرگرم رہاہے۔وقف بورڈ نے نہ صرف ایسے تمام متاثرین کے لیئے عیدگاہ مصطفی آباد میں راحت رسانی کیمپ لگایا تھابلکہ اپنی سطح سے متاثرین کا ہر ممکن تعاون کرنے کی کوشش کی تھی۔فساد متاثرین کی راحت رسانی کے کام میں وقف بورڈ کے عملہ نے سابق چیئرمین امانت اللہ خان کی ہدایت پر کافی محنت اور لگن کے ساتھ دن رات کام کیا تھااور کئی ٹیمیں بناکر متاثرہ علاقوں میں جاکر متاثرین کا سروے بھی کیا گیا تھا جن میں سے کافی لوگوں کو راشن کٹ کے علاوہ نقد معاوضہ بھی دیا گیا۔اب دہلی اسمبلی کی اقلیتی فلاحی کمیٹی نے ایک مرتبہ پھر دہلی وقف بورڈ کوان فساد متاثرین کا سروے اور تصدیق کرنے کاکام حوالے کیا ہے جن کے معاوضہ کی درخواستیں مختلف وجوہات کی بناپر رد ہوگئی ہیں۔اسمبلی کی اقلیتی فلاحی کمیٹی نے 2ستمبر کو اقلیتی فلاحی کمیٹی کی ہونے والی میٹنگ میں وقف بورڈ کے سی ای اوتنویر احمد کو ایسے تمام متاثرین کی درخواستوں کی تصدیق کرنے اور حقیقت حال کا پتہ لگانے کاکام حوالے کیا تھا جن کے معاوضہ کی درخواستوں کو انتظامیہ نے نامعلوم وجوہات کی بناپر رد کردیا۔تفصیل کے مطابق وقف بورڈ کو کل 748ایسے متاثرین کی لسٹ حوالے کی گئی ہے جن کے معاوضہ کی درخواستیں رد ہوچکی ہیں اور انھیں معاوضہ کے نام پر ایک پائی بھی نہیں ملی ہے۔اس سلسلہ میں سرگرمی دکھاتے ہوئے دہلی وقف بورڈ کے عملہ نے سی ای او تنویر احمد کی ہدایت پر سیکشن آفیسر حافظ محفوظ محمد کی نگرانی میں رد ہونے والی درخواستوں کی باریکی سے چھان بین اور تصدیق کاکام شروع کیااور اب تک کل 160ایسے متاثرین کی نشاندہی کی جن کی درخواستیں رد ہوچکی تھیں۔وقف بورڈ کی ٹیم نے آئی ٹی انچارج محمدعمران کی قیادت میں متاثرین کو فون کرکے معاوضہ کے سلسلہ میں ان کے ذریعہ دیئے گئے دستاویز طلب کیئے جس کے بعدان کا باریکی سے مطالعہ کیااور صحیح صورت حال سے واقفیت کے بعد دوبارہ سے ان سے درخواستیں حاصل کیں جس کے بعد انھیں 16ستمبر کو ہونے والی اقلیتی فلاحی کمیٹی کی میٹنگ میں ٹیبل پر رکھا گیاجبکہ باقی لوگوں کی تصدیق کاکام ابھی جاری ہے۔وقف بورڈ کے ذریعہ تصدیق کے بعد پیش کی گئی نئی لسٹ پر کمیٹی کے چیئرمین امانت اللہ خان نے میٹنگ میں موجود افسران کو ایسے تمام لوگوں کا دوبارہ سروے کرنے اور معاوضہ کے لئے ازسر نو غور کرنے کی ہدایت دی ہے۔معلوم ہو کہ سال کے شروع میں دہلی کے شمال مشرقی علاقہ میں ہونے والے فسادات میں لوگوں کا کافی جان و مال کا نقصان ہوا تھا جسکی تلافی کے لیئے دہلی حکومت نے معاوضہ کا اعلان کیا تھا۔حکومت نے متاثرین کو معاوضہ کی تقسیم اور سروے کاکام متاثرہ علاقوں کے ضلع مجسٹریٹ اور نائب ضلع مجسٹریٹوں کے ذریعہ انجام پایا تھا جس میں کافی لوگوں کو معاوضہ ملا مگر ایک بڑی تعداد ایسے متاثرین کی سامنے آئی جنکی درخواستوں کو انتظامیہ نے رد کردیا۔رد ہوئی درخواستوں اور معاوضہ کی تقسیم میں خامیوں کی نشاندہی دہلی اسمبلی کی اقلیتی فلاحی کمیٹی کے علم میں بھی آئی جس کے چیئرمین دہلی وقف بورڈ کے سابق چیئرمین امانت اللہ خان ہیں۔کمیٹی نے گزشتہ 2ستمبر کو انتظامیہ اور اعلی افسران کے ساتھ ہونے والی میٹنگ میں اس معاملہ پر بحث کی اور معاوضہ کی تقسیم میں اتنی بڑی تعداد کی درخواستیں رد ہونے کی وجہ جاننا چاہی۔میٹنگ میں موجود افسران نے اس معاملہ میں سروے کرنے والے پی ڈبلیوڈی افسران پر ذمہ داری ڈالتے ہوئے پلہ جھاڑنے کی کوشش کی تب کمیٹی کے چیئرمین امانت اللہ خان نے رد ہوئی درخواستوں کی ازسر نو تصدیق کرنے اور درخواستوں کے رد ہونے کے اسباب کا پتہ لگانے کام دہلی وقف بورڈ کے حوالے کیا۔دراصل میٹنگ میں دہلی وقف بورڈ کے سی ای او تنویر احمد کو بھی طلب کیا گیا تھاجنھیں ایسی تمام درخواستوں پر کام کرکے حقیقت حال جاننے کاکام سونپا گیاتھا جبکہ متاثرین کی ایک بڑی تعداد ایسی بھی ہے جن کا نقصان لاکھوں میں ہوا ہے مگر معاوضہ کے نام پر انھیں محض چند ہزار روپئے ہی انتظامیہ نے دیئے ہیں۔ایسے تمام لوگوں کی شکایات دور کرنے اور حقیقت حال کا پتہ لگانے کاکام دہلی اقلیتی کمیشن کے حوالے کیا گیا ہے۔ 

Ads