Masarrat
Masarrat Urdu

رضوان شوکت کی کامیابی صرف ایک نوجوان کی کامیابی نہیں کشمیر کی کامیابی ہے

Thumb

رضوان شوکت کی کامیابی صرف ایک نوجوان کی کامیابی نہیںاس بات میں کوئی شک نہیں کہ آج ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کا سورج پوری دنیا پر اپنی روشنی بکھیر رہا ہے، مگر جموں و کشمیر کے ضلع راجوری اور پونچھ جیسے خطے، جنہیں خطۂ پیر پنجال بھی کہا جاتا ہے، آج بھی زندگی کی کئی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ جب بنیادی تعلیم کی حالت ہی تسلی بخش نہ ہو تو ایسے علاقوں میں مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کی بات کرنا کسی خواب سے کم محسوس نہیں ہوتا۔ لیکن انہی حالات کے درمیان تحصیل نوشہرہ، لمبیری کے ایک چھوٹے سے گاؤں اسر آباد سے رضوان شوکت کی صورت میں ایک ایسی لو سامنے آئی ہے، جو آج نہ صرف جموں و کشمیر اور ہندوستان بلکہ عالمی سطح پر آفتاب بن کر چمکا ہے۔
رضوان شوکت کی کامیابی صرف ایک نوجوان کی کامیابی نہیں، بلکہ یہ اس علاقے کے ہر اس بچے کے لیے امید کی ایک کرن ہے جو محدود وسائل کے باوجود بڑے خواب دیکھتا ہے۔ بکروال قبیلے سے تعلق رکھنے والے رضوان نے اپنی محنت، لگن اور صلاحیتوں سے یہ ثابت کیا ہے کہ ذہانت کسی بڑے شہر، بڑے ادارے یا خوش حال گھرانے کی محتاج نہیں ہوتی۔ اگر انسان کے اندر کچھ کرنے کا جذبہ ہو تو وہ پہاڑوں کے درمیان آباد ایک چھوٹے سے گاؤں سے نکل کر بھی دنیا میں اپنی پہچان بنا سکتا ہے۔
رضوان کا تعلق ایک ایسے خاندان سے ہے جس کی پہچان گوجری زبان و ادب سے جڑی ہوئی ہے۔ ان کے دادا محمد اسرائیل اسرار گوجری زبان کے معروف شاعر اور ادیب تھے، جبکہ ان کے والد شوکت نسیم بھی گوجری ادب کے شاعر، ادیب اور مفکر ہیں۔ یوں رضوان کو ایک ایسے ادبی گھرانے سے تعلق رکھنے کا اعزاز حاصل ہے جہاں لفظوں، خیالوں اور فکر کی قدر کی جاتی ہے۔ لیکن رضوان نے اس ادبی ورثے کے ساتھ ساتھ جدید ٹیکنالوجی کی دنیا میں بھی اپنی الگ پہچان قائم کی ہے۔ یہ بات اپنے آپ میں دلچسپ ہے کہ ایک طرف ان کے خاندان کی شناخت گوجری ادب سے ہے اور دوسری طرف ان کے بیٹے نے مصنوعی ذہانت کے میدان میں بین الاقوامی سطح پر کامیابی حاصل کرکے اپنے علاقے کا نام روشن کیا ہے۔
رضوان کی ابتدائی تعلیم راجوری میں ہوئی۔ اس کے بعد انہوں نے راجستھان سے کمپیوٹر ایپلی کیشنز میں گریجویشن کی ڈگری حاصل کی۔ فی الحال وہ اندرا گاندھی نیشنل اوپن یونیورسٹی (اِگنو) سے )Anthropology میں ماسٹرز کر رہے ہیں۔ کمپیوٹر ٹیکنالوجی کے ساتھ سماجی علوم کی تعلیم حاصل کرنا اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ رضوان کی دلچسپی صرف مشینوں اور کمپیوٹر تک محدود نہیں، بلکہ وہ انسان اور معاشرے سے جڑے مسائل کو بھی سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ان کی اس سوچ کی ایک نمایاں مثال ’پوشٹیکا‘ ہے۔ یہ مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار کیا گیا ایک ایسا نظام ہے جس کا مقصد بچوں میں غذائی قلت کے ممکنہ خطرات کی ابتدائی شناخت میں مدد دینا ہے۔ آج بھی ہمارے معاشرے میں بہت سے بچے مناسب غذا نہ ملنے کے باعث مختلف مسائل کا شکار ہوتے ہیں۔ خاص طور پر دور دراز علاقوں میں رہنے والے خاندانوں کے لیے بچوں کی صحت اور غذائیت سے متعلق بروقت معلومات حاصل کرنا ہمیشہ آسان نہیں ہوتا۔ ایسے میں اگر جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ابتدائی جانچ کو آسان بنایا جاسکے تو یہ معاشرے کے لیے ایک مفید قدم ثابت ہوسکتا ہے۔
 
رضوان نے اس منصوبے میں صرف ایک خیال پیش کرنے والے نوجوان کا کردار ادا نہیں کیا، بلکہ وہ اس کی تیاری میں ٹیم لیڈر بھی رہے اور منصوبے کی ساخت اور عملی تیاری میں بھی اہم ذمہ داریاں نبھائیں۔ اس کام میں ان کے ساتھ پلوی ڈبرال اور ہمانشی شرما نے بھی حصہ لیا۔ تینوں کی کوششوں نے اس منصوبے کو ایک ایسی شکل دی جسے بین الاقوامی سطح پر پیش کرنے کا موقع ملا۔
 
اسی منصوبے کی بدولت رضوان شوکت نے ڈیجیٹل اسکلز ٹو سکسیڈ کے بین الاقوامی مقابلے 2026 میں ہندوستان میں پہلی اور عالمی سطح پر دوسری پوزیشن حاصل کی۔ اس کامیابی کے بعد انہیں ویتنام کے شہر ہنوئی میں 12 سے 15 اکتوبر 2026 تک منعقد ہونے والی تیسری علاقائی کانفرنس میں شرکت کا موقع ملا، جہاں انہوں نے ہندوستان اور اِگنو کی نمائندگی کرتے ہوئے اپنا منصوبہ پیش کیا اور دوسرے ممالک سے آئے ہوئے شرکاء کے ساتھ اپنے تجربات بھی بانٹے۔ اس سفر میں اِگنو کے قومی مرکز برائے فاصلاتی تعلیم میں اختراع (این سی آئی ڈی ای) کی حوصلہ افزائی اور رہنمائی نے بھی اہم کردار ادا کیا۔
یہ کامیابی اس لیے بھی خاص اہمیت رکھتی ہے کہ رضوان کا تعلق بکروال برادری سے ہے۔ جموں و کشمیر کی بکروال برادری اپنی محنت، سادگی، روایات اور پہاڑوں سے جڑی زندگی کے لیے پہچانی جاتی ہے۔بکروال آج بھی تعلیم اور دیگر بنیادی سہولیات تک رسائی کے لیے مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔ ایسے ماحول میں کسی نوجوان کا جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں آگے بڑھنا اور بین الاقوامی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنا یقیناً قابلِ قدر ہے۔ یہ کامیابی صرف رضوان کے خاندان کے لیے خوشی کا باعث نہیں، بلکہ پوری بکروال برادری اور خطۂ پیر پنجال کے نوجوانوں کے لیے حوصلے کا پیغام ہے۔
رضوان کی کہانی ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ ہمارے دور دراز علاقوں میں نہ جانے کتنے ایسے نوجوان موجود ہیں جن کے اندر صلاحیتوں کی کمی نہیں، مگر انہیں مناسب رہنمائی، تعلیمی وسائل اور مواقع میسر نہیں آتے۔ اگر ان نوجوانوں کو آگے بڑھنے کا موقع دیا جائے تو وہ بھی اپنی سوچ اور محنت سے معاشرے میں مثبت تبدیلی لاسکتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے گاؤں، اپنے علاقے اور اپنی برادری کے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کریں اور انہیں جدید تعلیم اور ٹیکنالوجی سے جڑنے کے مواقع فراہم کریں۔
رضوان شوکت کی کامیابی ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ انسان کا پس منظر اس کی منزل کا فیصلہ نہیں کرتا۔ ایک چھوٹے سے گاؤں میں رہنے والا نوجوان بھی اپنے علم، محنت اور عزم سے دنیا کے سامنے اپنی صلاحیتوں کا اظہار کرسکتا ہے۔ آج رضوان نے جو مقام حاصل کیا ہے، وہ آنے والے وقت میں خطۂ پیر پنجال کے کئی نوجوانوں کے لیے راستہ دکھانے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
لمبیری کے گاؤں اسر آباد سے اٹھنے والی یہ روشنی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ بڑے خواب دیکھنے کے لیے بڑے شہروں میں پیدا ہونا ضروری نہیں۔ ضروری یہ ہے کہ انسان کے اندر سیکھنے کا شوق، کچھ نیا کرنے کا جذبہ اور اپنے معاشرے کے لیے کچھ بہتر کرنے کی خواہش موجود ہو۔ رضوان شوکت کی کامیابی اسی جذبے کی ایک
وب صورت مثال ہے، جس پر ان کے خاندان، ان کی برادری، ضلع راجوری اور پورے جموں و کشمیر کو فخر ہونا چاہیے۔
 
 

Ads