Masarrat
Masarrat Urdu

سرسید نے سائنٹفک سوسائٹی کا جو بیج بویا تھا وہ ہمارے سامنے ہیں۔ پروفیسر اختر حسیب

Thumb

 

علی گڑھ15  نومبر- سرسید کی اہمیت و افادیت اور فیض پر روشنی ڈالٹے ہوئے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے پرو وائس چانسلر پروفیسر اختر حسیب نے کہا کہ سرسید نے سائنٹفک سوسائٹی کا جو بیج بویا تھا وہ مسلم یونیورسٹی اور اس کے تین سینٹرس کے شکل میں ہمارے سامنے ہیں۔انہوں نے یہ بات سرسید اویئر نس فورم کے ذریعہ ’سرسید، علی گڑھ تحریک اور تعلیم کی اہمیت‘ کے  موضوع منعقدہ سیمینار میں کہی۔ 
انہوں نے سیمینار کا افتتاح کرتے ہوئے کہاکہ سرسید نے ہمیشہ بھائی چارے اور ایک دوسرے کا خیال رکھنے کی مثال پیش کی ہے۔ انھوں نے فورم کے صدر پروفیسر صمدانی کو سیمینار کی کامیابی کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی شخص اخلاص کے ساتھ کڑی محنت کرتا ہے تو اسے کامیابی ضروری ملتی ہے۔ انھوں نے طلبہ اور طالبات کے ہجوم کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ صرف سیمینار میں ہی حصہ لینا کافی نہیں بلکہ اس پر غور کرنا اور اس پر عمل کرنا چاہیے۔ 
سیمینار کے ڈائریکٹر پروفیسر شکیل صمدانی نے فورم کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس کا قیام آج سے تقریباً 15 سال قبل سرسید کے کارناموں اور ان کے پیغام کو عوام تک پہنچانے کے لیے کیا گیا تھا۔ اس کا مقصد طلبہ اور طالبات کو دستور ہند کے بارے میں بھی بتانا تھا تاکہ ملک میں محبت اور بھائی چارے کا پیغام جا سکے اور انصاف کا بول بالا ہو۔ انھوں نے مزید کہا کہ سرسید کے پیغام کو جنوبی ہند کے مسلمانوں نے شمالی ہند کے مسلمانوں سے زیادہ عملی جامہ پہنایا اور اسی لیے جنوبی ہند میں تعلیمی اداروں کا جال بچھ گیا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ شمالی ہند کے مسلمان بھی اپنے کو تعلیمی اور سماجی کاموں سے جوڑ لیں تاکہ علی گڑھ تحریک اور زور شور سے چل سکے۔
یوپی رتن لوکیش شرما نے کہا کہ سرسید کے احسانوں کا بدلہ قیامت تک نہیں چکایا جاسکتا کیوں کہ انھوں نے اپنا سب کچھ قوم کے لیے برباد کردیا۔ 
سیمینار کی صدارت کرتے ہوئے اکیڈمک کے اسٹاف کالج کے ڈائریکٹر پروفیسر اے آر قدوائی نے کہا کہ سرسید نے جدید تعلیم کی طرف لوگوں کو متوجہ کیا اور انھیں اس کا سرپرست کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ سرسید نے انگلینڈ جاکر وہاں کے تعلیمی اداروں، عمارتوں، نصاب اور پورے تعلیمی ڈھانچے کا بغور مطالعہ کیا اور علی گڑھ میں آ کر اسی طرز پر کالج کا قیام کیا۔ اور انھوں نے کہا کہ پروفیسر صمدانی نے فورم قائم کر کے طلبہ اور طالبات کی تربیت کا بہترین انتظام کیا۔
 شمس الدین عبداللہ پنیکرنے کہا کہ سرسید کے اس ادارے میں جو لوگ تعلیم حاصل کر رہے ہیں یہ ان کے اوپر اللہ کا احسان ہے اگر یہ ادارہ نہ ہوتا تو یہ بچے دنیا میں نہ جانے کتنے پیچھے ہوتے۔ میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور سرسید احمد خاں ؒ کا شکر گزار ہوں کہ مجھے ان کی وجہ سے بہت بڑی تحریک ملی جس کی بدولت میں نے تعلیمی اور سماجی کام کا بیڑا اٹھایا۔ اس موقع پر پروفیسر محب الحق، سارہ صمدانی، مہاراشٹر سے آئے سید حیدر پاشا قادری اور ڈاکٹر سواستی راؤ نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ 
اس موقع پر SECAB کے صدر شمس الدین پنیکر کو ان کی تعلیمی اور سماجی خدمات کے لیے بدست پرو وائس چانسلر پروفیسر اختر حسیب، پروفیسر قدوائی، پروفیسر شکیل صمدانی، حیدر پاشا قادری اور انجم تسنیم کے ذریعہ ”محسن ملت ایوارڈ“ سے سرفراز کیا گیا۔ 

 

Ads