Masarrat
Masarrat Urdu

معاشرتی برائیوں کوختم کرنا مسلمانوں کی مشترکہ ذمہ داری!



ماجھل گاؤں ضلع بیڑ  4/اکتوبر (مسرت نیوز) بروز جمعہ کو آ ل انڈیامسلم پرسنل لا بورڈ کی اصلاح معاشرہ کمیٹی ماجھل گاؤں کے زیراہتمام بخاری اردو اسکول(ماجھل گاؤں ضلع بیڑ) میں اصلاح معاشرہ کے عنوان پر ایک اہم نشست کا انعقاد ہوا، جس میں مختلف مدارس کے چالیس اساتذہ کرام اور ڈھائی سو طلبہ شریک ہوئے۔اس نشست میں مولانا کریم الرحمن ندوی صاحب (آرگنائزر آل مہاراشٹراصلاح معاشرہ کمیٹی)نے خطاب فرمایا۔جس میں آپ نے اصلاح معاشر ہ کی اہمیت وضرورت پر روشنی ڈالی اور علماء کرام، مدارس کے معلمین او ر طلبہ کی ذمہ داریوں کو واضح کیا۔

ماجل گاؤں کی دو مساجد میں بھی اصلاح معاشرہ کمیٹی کے زیر اہتمام جلسوں کاانعقادہوا،جن میں مولاناکریم الرحمن صاحب نے تفصیل کے ساتھ معاشرتی خرابیوں کی نشاندہی فرمائی اوران کے نقصانا ت کو واضح کرتے ہوئے سامعین کوتاکیدکی کہ وہ معاشرہ میں پنپ رہی برائیوں اورخرابیوں کو دور کرنے کی کوشش کریں!ان دونوں جلسوں میں چار ہزار افراد شریک ہوئے جن میں مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے علماء وکلاء ٹیچرس اور سرکردہ حضرات شامل ہیں۔ 
اسی طرح مدرسہ دعو ۃ الحق (واقع باغبان پورہ ابراہیم بھائی کامکان)میں خواتین کے لیے ایک دینی اجتماع منعقد ہوا، جس میں تقریباً تین سو خواتین اسلام نے شرکت کی، اس اجتماع سے مولاناکریم الرحمن ندوی صاحب نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلام نے عورتوں کے مقام ومرتبہ کو بلند کیا ان کے حقوق مقرر کیے اور حجاب اور پردہ کے ذریعے ان کی عز ت و عصمت کی حفاظت کا سامان کیا، خواتین اسلام کوچاہئے کہ وہ بھی شریعت اسلامیہ کی تعلیما ت اورہدایات کے مطابق اپنی زندگی گذاریں۔آپ نے بڑی تعداد میں خواتین کی شرکت پر ان کی ستائش کی او ر اس بات کا اعلان کیا کہ اسی جگہ ہر مہینے کے پہلے جمعہ کو خواتین کے لیے دینی اجتماع منعقد ہوا کرے گا۔
مورخہ ۴/اکتوبر برو ز جمعہ کو بعد نمازعشاء فوراًجامع مسجد مومن پورہ (گیورائی) میں ایک اہم مشورتی مجلس منعقدہوئی جس میں مختلف علاقوں کے علماء کرام و ائمہ مساجد اور مختلف مکاتب فکرکے سرکردہ افراد شریک ہوئے۔اس مشورتی مجلس سے مولانا کریم الرحمن ندوی صاحب نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج معاشرے میں مختلف قسم کی برائیاں پنپ رہی ہیں جیسے جہیز کا مطالبہ کرنا، موبائیل کا غلط استعمال کرنا،عورتوں کو وراثت میں حصہ نہ دینا، بیوہ او ر یتیموں پرظلم کرنا، آپ نے کہا کہ ہر فرد کی اور خصوصاً علماء و ائمہ کی ذمہ داری ہے کہ حتی المقدور ان برائیوں کے خلاف جدوجہدکریں اور اصلاح معاشرہ کی کوششوں میں اپنا تعاؤن پیش کریں۔ 
آپ کی اس اہم تجویز سے سامعین نے اتفاق کیا اور پھر باہمی مشور ے سے درج ذیل امور طے پائے:
(۱)ہر ماہ اصلاح معاشرہ کے عنوان سے گیورائی میں خواتین کے لیے دینی اجتماع منعقد کیاجائے گا۔جس میں مختلف علمائے کرام کے اصلاحی بیانات ہوں گے۔ ان شاء اللہ!
(۲)جہیز کی رسم کے خلاف تحریک چلائی جائے گی۔
(۳) اصلاح معاشرہ کمیٹی کے اراکین میں مفتی کوثر صاحب (چکلمبہ) مولانا ذاکر صاحب (تلواڑہ) او ر مفتی راج محمد صاحب (سرالہ)وغیرہ کا اضافہ کیا گیا۔ اسی طرح مولانا فیضان ندوی صاحب کو اصلاح معاشرہ کمیٹی گیورائی تعلقہ کاکنوینراور مفتی معین الدین قاسمی اور مفتی افتخار قاسمی صاحبان کو معاون کنوینر کی حیثیت سے نامزد کیا گیا۔جناب مفتی شبیر قاسمی کو ماجھل گاؤں کی اصلاح معاشرہ کمیٹی کاکنوینر نامزد کیاگیا۔ موصوف کی سرپرستی میں مندرجہ بالا جلسے بحسن وخوبی منعقد ہوئے۔
(۴)تمام مکاتب فکر اورمختلف ملی تنظیموں کے سرکردہ افراد کو اصلاح معاشرہ کمیٹی کی رکنیت دے کر کاموں کی طرف متوجہ کیاجائے۔
اس مشورتی مجلس میں بڑی تعداد میں علماء وحفاظ کے علاوہ عام مسلمانوں نے شرکت کی۔ مولانا کریم الرحمن ندوی صاحب نے اس بات پرز ور دیا کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی اصلاح معاشرہ کمیٹی کے ذریعہ جو سرگرمیاں انجام دی جا رہی ہیں ان میں تمام ہی مکاتب فکر کے افراد کو عملی طور پر شرکت کرنی چاہئے۔اس کے ذریعہ جہاں معاشرے کی اصلاح ہو گی وہیں مسلمانوں کے مختلف مکاتب فکر کے درمیان اتحاد پیدا ہوگااوراعتماد کی فضا قائم ہوگی۔تمام ہی حاضرین نے مولانا کی باتوں کوبغورسنااور اپنے اپنے علاقوں میں اصلاحی کاموں کی انجام دہی کاعزم ظاہر کیا۔مذکورہ بالاتمام ہی جلسوں اور نشستوں میں مولاناشیخ چاند قاسمی،مفتی ایوب قاسمی(امام باغبان مسجد) مفتی ہارون قاسمی، مولانا عبدالماجد اشرفی (امام کالی مسجد) مولاناخورشید کاشفی(حافظ آصف طیبی)اورحافظ عاطف اشاعتی وغیرہ بطورخاص شریک رہے۔ 
 

 

Ads