Masarrat
Masarrat Urdu

جگجیت سنگھ نے غزل گلوکاری کو نئی جہت دی

Thumb

8 فروری سالگرہ کے موقع پر خصوصی پیشکش

ممبئی، 7 فروری (مسرت ڈاٹ کام) ہندستان کے شہرہ آفاق گلوکار جگجیت سنگھ کا نام ایک ایسی شخصیت کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جو اپنی سحرانگیز آواز سے تقریباً چار دہائیوں سے کروڑوں مداحوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔ انہیں شہنشاہ غزل بھی کہا جاتا ہے۔ جگجیت سنگھ کی پیدائش راجستھان کے شری گنگانگر میں 8 فروری 1941ء میں ہوئی تھی۔ ان کے والد کا نام امرسنگھ اور والدہ کا نام بچن کور تھا۔
امرسنگھ سرکاری ملازم تھے۔ جگجیت کی چاربہنیں اور دو بھائی تھے۔ ان کا پیدائشی نام جگموہن تھا۔ لیکن بعد میں ان کے والد نے ان کا نام جگجیت سنگھ رکھ دیا۔ بچپن سے ہی ان کا رجحان موسیقی کی جانب تھا۔ انہوں نے موسیقی کی تعلیم استاد جمال خان اور پنڈت چھگن لال شرما سے حاصل کی۔
جمال خان نے جگجیت کو چھ سال تک موسیقی کی باقاعدہ تربیت دی اور خیال، تھمری و دیگر راگوں سے روشناس کرایا۔ جگجیت سنگھ نے اپنی گلوکاری کا آغاز مختلف گورودواروں میں گوروبانی گاکر کیا۔ ان کی آواز کی جادوگری کا یہ کمال جالندھر ریڈیو اسٹیشن تک پہنچاتو انہیں سال میں چھ براہ راست پروگرام پیش کرنے کے آفر مل گئے۔
سال 1965ء میں گلوکار بننے کی تمنا لئے وہ ممبئی آگئے جہاں انہیں ایچ ایم وی نامی اس وقت کی مشہور ترین ریکارڈ کمپنی نے ان کی آواز میں دو غزلیں ریکارڈ کرنے کی پیشکش کی تھی۔ جگجیت سنگھ کو اسی دوران کچھ اشتہاری فلموں میں بھی اپنی آواز کا ہنر دکھانے کا موقع ملا۔ جدوجہد کے اسی دور میں ان کی ملاقات چتراسنگھ سے ہوئی جو خودبھی ایک گلوکارہ تھیں۔ 1970ء میں دونوں نے شادی کرلی اور یہیں سے دونوں کی زندگی نے ایک نیا موڑ لیا اور اس جوڑی نے کئی البموں میں اپنی جادوئی گلوکاری سے ناظرین کو مسحور کردیا۔

جگجیت سنگھ کافلموں میں گانے کا خواب 1980ء میں اس وقت پورا ہوا جب فلم ’’ساتھ ساتھ‘‘ میں جاوید اختر کی غزلوں اور نظموں کو انہوں نے اپنی آواز دی۔ اسی سال مہیش بھٹ کی فلم ’’ارتھ‘‘ سے جگجیت سنگھ اور چترا سنگھ کی شہرت آسمان چھونے لگی۔ اس فلم کا نغمہ ’’تم اتنا جو مسکرارہے ہو‘‘ سدابہار نغموں میں شامل ہے۔ ان کا فنی کیرئیر شہرت کی نئی بلندیوں کو چھو رہا تھا۔ اس دوران انہوں نے ایک سے بڑھ کر ایک کامیاب اورمشہور ترین غزلیں اپنے چاہنے والوں کو دیں جن میں ’یہ زندگی کسی اور کی، میرے نام کا کوئی اور ہے، ہونٹوں سے چھولو تم ، تم کو دیکھا تو یہ خیال آیا، ہزار بار رکے ہم، ہزار بار چلے ’ جیسی ہٹ غزلیں شامل ہیں۔
ہندستان کے روایتی آلہ ساز ‘سارنگی’ اور طبلے کے ساتھ جدید آلات موسیقی کو غزل گائیکی میں متعارف کرانے کا سہرا بھی جگجیت سنگھ کو ہی جاتا ہے۔ اس تجربے کو انہوں نے اس قدر کامیابی سے سنوارا کہ انہیں جدید غزل سرائی کا موجد تسلیم کیا جاتا ہے۔ سال 2003 میں جگجیت سنگھ کو حکومت کی جانب سے پدم بھوشن سے نوازا گیا۔ اپنی گلوکاری سے ناظرین کے درمیان خاص شناخت بنانے والے جگجیت سنگھ 10 اکتوبر 2011 کو اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔
 

Ads