Masarrat
Masarrat Urdu

سول سروسز کے نتا ئج:محنت ناکام نہیں ہوتی

اگر انسان محنت کرتا ہے توانہیں اس کا پھل بھی لازمی طور پر ملتا ہے۔ ایسا بہت ہی کم ہوا ہے کہ محنت کرے اور انہیں اس کا پھل نہ ملے۔ عزم مصمم مستحکم آرزو انسان کو وہاں ضرور لے جاتی ہے جہاں انہوں نے طے کر رکھا ہے۔ مسلمانوں کی بدقسمتی ہے کہ وہ شکوے شکایت پر زیادہ توجہ دیتے ہیں محنت کرنے پر کم، بہت سے لوگ یہ سوچ کسی میدان میں قدم نہیں بڑھاتے کہ ہمارے ساتھ تعصب یا امتیازی سلوک کیا جائے گا۔ کچھ جگہ ممکن ہے ایسا ہوتا ہو لیکن ہر جگہ یہ ممکن نہیں ہے۔ اگر ایسا ہے بھی تو ہمارے اپنے مدمقابل سے کئی گنا محنت کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اگر کوئی تعصب کرتا بھی ہے تو وہ ہمیں کامیاب کرنے پر مجبور ہوجائے ۔ ہمارے اندر یہی جذبہ پیدا ہونا چاہئے ۔اس دنیا میں محنت کا کوئی متبادل نہیں ہے۔ محنت و مشقت کے سامنے بڑے بڑے سخت اور متعصب انسان بھی پگھل جاتا ہے اور امتیاز اور تعصب برتنے سے رک جاتا ہے۔ حالیہ سول سروسز کے امتحان کے نتائج نے یہ ثابت کردیا ہے۔اس لئے مسلمانوں کو سخت محنت کو اپنا شعار بنالینا چاہئے۔ منفی سوچ سے نکل کر وہ اپنے کامیاب مستقبل اور قوم کی قسمت سنوارنے کے لئے ہمہ وقت تیار رہنا چاہئے۔ سول سروسز کے حالیہ نتائج بہت ہی حوصلہ افزا ہیں اور یہ اس مفروضہ کو مسترد کرتے ہیں کہ مسلمانوں کے ساتھ تعصب کیا جاتا ہے۔ شاید ہندوستان کی آزادی کی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ منتخب پچاس میں سے اس بار آٹھ مسلم آئی اے ایس افسر بنیں گے اور دو آئی ایف ایس، دو یا تین انڈین پولیس سروس میں جائیں گے اس کے علاوہ باقی امیدوار دیگر سروسز میں جائیں گے۔ یہ بات اہم ہے ۔ اس سے مسلمانوں کو حوصلہ حاصل کرکے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ اسی کے ساتھ ہمیں اسکول اور کالج سطح کی تعلیم کو مضبوط کرنا ہوگا۔اپنے گریجویٹس کی تعداد میں اضافہ کرنا ہوگا۔ جب تک مسلمانوں میں اعلی تعلیم میں معیاری اضافہ نہیں ہوگا اس وقت تک سول سروسز میں اپنا تناسب نہیں بڑھا سکتے۔ 
یونین پبلک سروس کمیشن (UPSC) نے سول سروسز 2016 کے ایگزام میں 1099 امیدوار کامیاب ہوئے ہیں ۔ اس بار ان کامیاب امیدواروں کی فہرست میں 48 مسلمانوں کے نام بھی شامل ہیں۔یہ تعداد گزشتہ کچھ برسوں کے مقابلے کافی زیادہ ہے۔2016 میں کامیاب مسلم امیدواروں کی تعداد محض 36 تھی۔جبکہ 2015 میں 38، 2014 میں 34 اور 2013 میں صرف 30 ہی مسلم امیدواروں نے ایگزام کلیئر کیا تھا۔اس ایگزام میں کشمیر سے بلال محی الدین بھٹ نے دسویں رینک حاصل کی ہے۔ بلال کے ساتھ، نو مسلمانوں کا نام ٹاپ 100 پر مشتمل ہے۔ مزمل خان (22)، شیخ تنویر آصف (25)، حمرا مریم (28)، ظفر اقبال (39) اور رضوان باشا شیخ (48) کے نام ٹاپ 50 میں شامل ہیں۔ جبکہ 17 مسلمانوں کے نام ٹاپ 500 میں شامل ہیں۔اگرچہ ہندوستان میں مسلمانوں کی آبادی تقریبا 13.4 فیصد ہے۔ لیکن اعلی سرکاری خدمات میں تعلیم کی کمی اور وسائل کی کمی کی وجہ سے بمشکل ہی نمائندگی کرتے ہیں۔سول سروسز میں مسلمانوں کی شراکت محض 2 فیصد ہے۔غور طلب ہے کہ گزشتہ سال کی طرح، اس سال بھی ایک عورت نندانی کے آرنے ٹاپ کیا ہیں ٹاپ 5 میں انمول شیر سنگھ، گوپال کرشن، سوم پانڈے اور ابھیلاش مشرا شامل ہیں۔یو پی ایس سی ایگزام میں مسلم امیدواروں کی اس کامیابی کو اہم وجہ سمجھا جا رہا ہے کیونکہ یہ نتائج ایسے وقت میں آئے ہیں جب پورے ملک میں فاشسٹ طاقتیں حاوی ہورہی ہیں۔ اقلیتوں پرظلم و ستم ہو رہا ہے۔ کھانے، پہننے اور مذہب کی آزادی پر پابندی لگانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
یو پی ایس سی 2016 کے نتائج میں اعلی ذات کمیونٹی کے 45.49 فیصد ا میدواروں منتخب ہوئے ہیں۔1931 کی مردم شماری کے مطابق اعلی ذات کی ملک میں تعداد 15 فیصد تھی۔آپ کو بتا دیں کہ اگر 1931 کی ذات پات مردم شماری کو بنیاد مانا جائے تو اونچی ذات برادری کی ملک میں تعداد تقریبا 15 فیصد ہے۔اس طرح آج بھی یو پی ایس سی میں منتخب ہونے والے اعلی ذات کی تعداد اپنی آبادی کے تناسب میں تقریبا تین گنا ہے۔اسے ایسے سمجھ سکتے ہیں کہ 15 فیصد اعلی ذات تقریبا 45 فیصد یو پی ایس سی کی نشست پر منتخب ہو گئے ہیں۔ان نتائج میں بہوجن سماج (او بی سی، ایس سی، ایس ٹی) کے امیدواروں نے انتخاب کے معاملے میں اعلی ذات کمیونٹی کے امیدواروں کو پیچھے چھوڑ دیا۔یو پی ایس سی کی طرف سے 1099 امیدواروں کے نتائج کا اعلان کئے گئے ہیں جس میں سے 500 عہدوں پر اعلی ذات کمیونٹی کے امیدواروں منتخب ہوا جبکہ او بی سی کمیونٹی کے منتخب بچوں کی تعداد 347 رہی۔ وہیں ایس سی اور ایس ٹی طبقے کے منتخب امیدواروں کی تعداد بالترتیب 163 اور 89 رہی۔ مجموعی طور پر 500 اعلی ذات کمیونٹی کے امیدواروں کے مقابلے میں اس بار 599 بہوجن سماج کے امیدوار منتخب ہوئے۔زکوٰۃ فاؤنڈیشن آف انڈیا کی مدد سے اس بار 16 مسلم نوجوانوں نے سول سروس کا امتحان پاس کیا ہے۔ 16 نوجوانوں میں چار لڑکیاں بھی شامل ہیں۔ لیکن سول سروس امتحان کی تیاریوں کے لئے زکوٰۃ فاؤنڈیشن کی مدد حاصل کرنا آسان نہیں ہے۔ زکوٰۃ کی مدد حاصل کرنے کے لئے پہلے سول سروس پری امتحان سطح کا امتحان پاس کرنا ہوتا ہے۔ اس کے بعد انٹرویو بھی پاس کرنا ہوتا ہے۔ زکوٰۃ فاؤنڈیشن آف انڈیا کے ڈاکٹر ظفر کا کہنا ہے کہ وہ جب اے ایم یو میں پڑھتے تھے وہ خود اور ان کے بہت سے دوست سول سروس کی تیاری کرنا چاہتے تھے۔ لیکن مدد کرنے والا کوئی کوچنگ سینٹر نہیں تھا۔ دوسرا یہ کہ میں خود بھی سچر کمیٹی میں رہا تھا۔ رپورٹ میں جو حال میں نے دیکھا تو اس کے بعد لگا کہ واقعی سول سروس کی تیاری کرانے کے لئے اس طرح کا کوئی سینٹر ہونا ضرور چاہئے۔جامعہ ملیہ اسلامیہ کی ریشی ڈینشیل کوچنگ اکیڈمی میں تربیت لینے والوں میں 27 امیدواروں نے 2016 کی یو پی ایس سی امتحانات میں کامیابی حاصل کی ہے۔ ان میں سے پانچ آئی اے ایس کے لئے منتخب کئے گئے ہیں اور ایک طالبہ بسما قاضی سمیت دو نے آئی پی ایس میں جگہ بنائی ہے۔ دیگر نے ریونیو، کسٹم، ریلوے اور دیگرمیں اپنا مقام بنایا ہے۔ ان 27 کامیاب امیدواروں میں 9 طالبہ ہیں۔اس کے علاوہ مولانا فضل الرحیم مجددی کی سربراہی والی کریسنٹ اکیڈمی کے پانچ امیدوار سول سروسز کے امتحان میں کامیاب ہوئے ہیں۔
کوئی قوم اسی وقت ترقی کرتی ہے جب وہ متضاد حالات میں نہ صرف اپنے وجود کو قائم رکھتی ہے بلکہ وہ اسے تسلیم بھی کرواتی ہے۔ مسلمانوں کی سب سے بڑی کمی یہ ہے کہ وہ متضاد حالات میں مسابقت میں اترنے سے پہلے ہی ہتھیار ڈال دیتے ہیں اور اپنے اوپر اس بھوت کو سوار کرلیتے ہیں کہ ان کے ساتھ امتیاز کیا جائے گا۔ یہ ایسی بیماری ہے جو محنت ، و محنت کرنے روکتی ہے۔ تن آسانی کی طرف مائل کرتی ہے۔ جب کہ مسلمانوں کی تاریخ رہی ہے کہ وہ ہمیشہ متضاد حالات میں ہی کامیابی کا جھنڈا لہرایا ہے اور اپنے آپ کو فاتح قوم کے طور پر پیش کیا ہے۔ ایسی درجنوں مثالیں آئے دن دیکھنے کو ملتی ہے کہ جو شخص کسی چیز کا عزم کرلیتا ہے وہ کبھی نہیں ہارتا ہے۔ رکاوٹیں ضروری کھڑی ہوتی ہے لیکن حوصلہ مند اور دھن کا پکااسے چیلنج کے طور پر لیتا ہے بلکہ اس سے وہ تحریک و ترغیب حاصل کرتا ہے اور یہ رکاوٹ اسے مہمیز کا کام دیتی ہے۔ گزشتہ دہائی سے موجودہ دہائی تک درجنوں ایسی مثال ہے کہ رکشا والے کے بیٹے نے آئی اے ایس کا امتحان پاس کرلیا،چوڑی بیچنے والی، ٹھیلے لگانے والے، سبزی بیچنے والے اور اس طرح کے غیر منظم سیکٹر میں کام کرنے والے مزدوروں کے بچے سول سروسز کے امتحان میں کامیابی حاصل کی ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ محنت کا کوئی ثانی نہیں ہے اور محنت و مشقت ہر طرح کی رکاوٹ کو ختم کردیتی ہے۔ ایسی متضاد حالات سے لوہا لینے والی لڑکی کا نام ام الخیر ہے۔ اسی طرح گزشتہ سال آئی اے ایس میں مہاراشٹر کے پونے کے انصار شیخ نے کامیابی حاصل کی تھی۔ گھر بار چھوڑ کرکرایہ رہنے کے لئے انہوں نے اپنے آپ کو ہندو ظاہر کیا تھا تاکہ انہیں مکان مل جائے۔انہوں نے حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے اس اگزام میں کامیابی کی۔ اسی طرح ام الخیر نے جن کا سفر جھگی بستی سے شروع ہوا تھا آخر آئی اے ایس کے امتحان میں کامیابی حاصل کرکے انہوں نے پورے مسلم معاشرے کو ایک سبق دیا ہے ۔ خاص طور پر لڑکیوں کو انہوں نے جو تحریک دی ہے وہ قابل مثال ہے اور اس راستے پر چل کر وہ کامیابی حاصل کرسکتی ہیں۔ 
ام الخیر جیسی لڑکی کو جتنی بار سلام کیا جائے، اتنا ہی کم ہے۔ ایسی بہادر لڑکی معاشرے میں بہت کم ملتی ہے۔ ایک ایسی لڑکی جو معذور پیدا ہوئی اور اس معذوری کو اپنی طاقت بناتے ہوئے کامیابی کی سیڑھیاں چڑھتی چلی گئی۔ این ڈی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے ام الخیر نے اپنے جدوجہد کی کہانی بتاتے ہوئے کہاکہ ان کی پیدائش راجستھان کے مارواڑ میں ہوئی۔وہ بون ڈس آرڈر بیماری کے ساتھ پیدا ہوئی تھی، ایک ایسا بون ڈس آرڈر جو بچے کی ہڈیاں کمزور کر دیتا ہے۔ ہڈیاں کمزور ہو جانے کی وجہ سے جب بچہ گر جاتا ہے تو فریکچر ہونے کا زیادہ امکان رہتا ہے۔اس کی وجہ سے 28 سال کی عمر میں ام الخیر کو 15 سے بھی زائد بار فریکچر کا سامنا کرنا پڑا ہے۔پہلے دہلی میں نظام الدین کے پاس جھگیاں ہوا کرتی تھی۔ اسی جھگی علاقے میں ان کا بچپن گزرا۔ ان کے پاپا سڑک کے فٹ پاتھ پر مونگ پھلی فروخت کرتے تھے۔ 2001 میں جھگیاں ٹوٹ گئیں، پھر ام الخیر اور ان کا خاندان ترلوک پوری علاقے میں چلے گئے۔ترلوک پوری میں کرایہ کے مکان میں رہے۔ اس وقت ام الخیر ساتویں جماعت کی طالبہ تھی۔ گھر میں پیسہ نہیں ہوا کرتا تھا۔ ام کے خاندان کے لوگ نہیں چاہتے تھے کہ ام مزید تعلیم کرے لیکن ام اپنا تعلیم جاری رکھنا چاہتی تھی۔ اس کی وجہ سے اپنا خرچہ پورا کرنے کے لئے انہوں نے ارد گرد کے بچوں کو ٹیوشن پڑھانا شروع کردیا۔ ایک بچے کو پڑھانے سے 50 سے 60 روپیہ ملتا تھا۔ام الخیر جب اسکول میں تھی تب ان کی ماں کا انتقال ہو گیا۔ سوتیلی ماں کے ساتھ ان کا رشتہ اچھا نہیں تھا۔ گھر میں اور بھی بہت سے مسائل تھے۔ان کے پاپا کے پاس کوئی کام نہ ہونے کی وجہ سے گھر کی اقتصادی حالت ٹھیک نہیں تھی۔ ام الخیر کی پڑھائی کے سلسلے میں گھر میں روز جھگڑا ہوا کرتا تھا۔ اپنی تعلیم جاری رکھنے کے لئے اپنے گھر سے الگ ہو گئی تب وہ نویں کلاس میں تھی۔ ترلوک پوری میں ایک چھوٹے سے کمرے کرایہ پر لیا۔ ایک نویں کلاس کی لڑکی کو ترلوک پوری علاقے میں اکیلے کرایہ پر رہنا آسان نہیں تھا۔خوف کا ماحول تھا۔ بہت مسئلہ کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ روز آٹھ آٹھ گھنٹے بچوں کو ٹیوشن پڑھاتی تھی۔پانچویں کلاس تک دہلی کے ایک معذور بچوں کے اسکول میں تعلیم حاصل کی۔ پھر آٹھویں تک کڑکڑڈوما کے امر جیوتی چیریٹیبل ٹرسٹ میں پڑھائی کی۔ یہاں مفت میں پڑھائی ہوتی تھی۔ آٹھویں کلاس میں ام اسکول کی ٹاپر تھی پھر اسکالرشپ کے ذریعے داخلہ ایک پرائیویٹ اسکول میں ہوا۔ یہاں 12 ویں تک تعلیم حاصل کی۔ دسویں میں ام الخیر کے 91 فیصد مارکس حاصل کئے تھے۔ 12 ویں کلاس میں ام الخیر کے 90 فیصد مارکس تھے۔ تب بھی اکیلے رہتی تھی، ٹیوشن پڑھاتی تھی۔ 12 ویں کے بعد دہلی یونیورسٹی کے گارگی کالج سے گریجویشن کیا۔ ان کی جدوجہد کی کہانی آہستہ آہستہ سب کو معلوم ہوا۔ جب گارگی کالج میں تھی تب مختلف ممالک میں معذور لوگوں کے پروگرام میں ہندوستان کی نمائندگی کی۔ 2011 میں ام الخیر سب سے پہلے ایسے پروگرام کے تحت جنوبی کوریا گئی۔ دہلی یونیورسٹی میں جب پڑھائی کرتی تھی تب بھی بہت سے بچوں کو ٹیوشن پڑھاتی تھی۔ تین بجے سے لے کر رات کو گیارہ بجے تک ٹیوشن پڑھاتی تھی۔ اگر ٹیوشن نہیں پڑھاتی تو گھر کا کرایہ اور کھانے پینے کا خرچہ نہیں نکال پاتی۔ گریجویشن کے بعد ام کو سائیکلوجی موضوع چھوڑنا پڑا۔ دراصل سائکلوجی میں انٹرنشپ ہوتی تھی۔ اگر اٹرشپ کرتی تو ٹیوشن نہیں پڑھا پاتی۔ پھر کا جے این یو میں ماسٹر آف آرٹس کے لئے ایڈمشن ہو۔ سائیکلوجی کی جگہ انٹرنیشنل ریلیشنز منتخب کیا۔ جے این یو میں ہاسٹل مل گیا۔ جے این یو کے ہاسٹل کی کم چارج تھا اب کو زیادہ ٹیوشن پڑھانے کی ضرورت نہیں پڑی۔ ایم اے مکمل کرنے کے بعد جے این یو میں ایم فل میں داخلہ لیا۔ 2014 میں کا جاپان کے انٹرنیشنل لیڈرشپ ٹریننگ پروگرام کے لئے منتخب ہوئی ۔ 18 سال کی تاریخ میں صرف تین ہندوستانی اس پروگرام کے لئے منتخب ہو پائے تھے اور وہ ایسی چوتھی ہندوستانی تھیں جو اس پروگرام کے لئے منتخب ہوئی تھیں۔ پھر ایک سال چھٹی لے کر اس پروگرام کے لئے جاپان چلی گئی۔ اس پروگرام کے ذریعے ام الخیر معذور لوگوں کو یہ سکھاتی تھی کہ کس طرح ایک عزت کی زندگی گزاری جائے۔ ایک سال ٹریننگ پروگرام کے بعد ام الجیر واپس آئی اور اپنی ایم ال کی تعلیم مکمل کی۔
ایم فل پوری کرنے کے ساتھ ساتھ ام الخیر نے جے آر ایف بھی کلیئر کر لی۔ اب ام الخیر کوپیسے ملنے لگے۔ اب پیسے کا مسئلہ تقریبا ختم ہو گیا۔ ایم فل مکمل کرنے کے بعد ام الخیر نے جے این یو میں پی ایچ ڈی میں داخلہ لیا۔ جنوری 2016 میں نے آئی اے ایس کے لئے تیاری شروع کی اور اپنی پہلے کوشش میں سول سروس کا امتحان پاس کرکے 420 ویں رینک حاصل کی ہے۔ام اخیر کا کہنا ہے کہ ان کے خاندان کے لوگوں نے ان کے ساتھ جو بھی کیا وہ ان کی غلطی تھی۔ شاید ان کے والد نے لڑکیوں کو زیادہ پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا تھا اسی لیے وہ ان کو نہیں پڑھانا چاہتے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس نے اپنے خاندان کو معاف کردیا ہے۔ اب خاندان کے ساتھ اس کے اچھے تعلقات ہیں۔ ابھی ام الخیر کے والدین ان کے بڑے بھائی کے ساتھ راجستھان میں رہ رہے ہیں۔ ام الخیر کا کہنا ہے کہ وہ اپنے والدین کا بہت احترام کرتی ہے اور اب وہ انہیں ہر طرح کا آرام دینا چاہتی ہے۔
ام الخیر کی پوری کہانی کا مقصد مسلم لڑکیوں کو یہ پیغام دینا ہے کہ اگر وہ اپنے مقصد کا تعین کرلیں تو وہ کوئی بھی منزل بھی آسانی سے پاسکتی ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ انہیں صرف اپنی منزل پر نظر رکھنی ہوگی۔
9810372335

Ads