واضح رہے کہ ایران 47 سال سے امریکی پابندیوں کے باعث دنیا بھر میں موجود اپنے اربوں ڈالرز سے محروم ہے اور ان منجمد اثاثوں کی بحالی ایران کا اہم ترین مطالبہ رہا ہے۔ یہ اثاثے مختلف ممالک کے بینکس اور مالیاتی اداروں میں موجود ہیں۔تسنیم کے مطابق یہ معاملہ پاکستان سمیت اس مذاکراتی عمل کی کامیابی کے لیے متحرک دیگر علاقائی ممالک تک بھی پہنچا دیا گیا ہے۔
رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی سامنے آیا ہے کہ پاکستان اور بعض علاقائی ممالک کی ثالثی میں ابتدائی انتظامات اور سمجھوتے طے پا جانے کے بعد اب امریکی جانب سے اس عمل میں رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں۔ اس صورت حال کے باوجود ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنی واضح کردہ ’ریڈ لائن‘ سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹے گا۔اسی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکا کی جانب سے ماضی میں بارہا وعدہ خلافیوں اور مذاکراتی عمل میں رکاوٹوں کے تجربات کے بعد ایران اب اثاثوں کی رہائی جیسے اہم معاملے کو صرف تحریری یقین دہانیوں یا مبہم وعدوں تک محدود رکھنے کے لیے تیار نہیں بلکہ ایک واضح اور قابلِ اعتماد طریقہ کار کا مطالبہ کر رہا ہے۔رپورٹس کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان زیرِ غور ممکنہ ابتدائی مفاہمتی دستاویز (ایم او یو) میں واشنگٹن کی جانب سے ایران پر عائد تیل پابندیوں میں نرمی شامل ہو سکتی ہے۔ مذاکراتی عمل کے دوران امریکا ایران کو خام تیل فروخت کرنے کی اجازت دے سکتا ہے، جس کے تحت تہران پابندیوں سے پیدا ہونے والی موجودہ رکاوٹوں کے بغیر عالمی منڈی میں اپنا تیل فروخت کر سکے گا۔ ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق یہ ممکنہ رعایت صرف خام تیل تک محدود نہیں ہوگی بلکہ اس کا اطلاق پیٹروکیمیکلز اور ان سے تیار ہونے والی مصنوعات پر بھی ہوگا۔ ممکنہ مفاہمت کے تحت ایران کو مذاکراتی مدت میں توانائی کے شعبے میں نسبتاً آزادانہ تجارتی سرگرمیوں کی سہولت دی جا سکتی ہے.تاہم اس حوالے سے تاحال دونوں جانب سے اعلیٰ حکام نے حتمی معاہدے کے حوالے سے تفصیلات بیان نہیں کی ہیں۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان معاہدے کی حتمی تفصیلات اور آخری نکات پر بات چیت جاری ہے اور یہ معاہدہ امریکا، ایران اور دیگر مسلم ممالک کے درمیان طے پائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ ’میری اس سلسلے میں پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے بات ہوئی ہے اور میں نے ایران کے معاملے پر کئی مسلم ممالک کے سربراہان سے بھی تفصیلی رابطہ کیا ہے جن میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، ترکیہ اور مصر کے سربراہان مملکت شامل ہیں۔ دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان ممکنہ مفاہمتی یادداشت کو حتمی شکل دینے کے لیے رابطے جاری ہیں۔ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران دونوں ممالک کے مؤقف میں قربت آئی ہے، تاہم حتمی نتائج کے لیے آئندہ چند دن اہم ہوں گے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ بحری ناکہ بندی کے نام پر جاری امریکی بحری جارحیت کے خاتمے اور ایران کے منجمد مالی اثاثوں کی بحالی جیسے معاملات اس یادداشت کا اہم حصہ ہیں۔بھارت کے دورے پر موجود امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی مذاکراتی عمل میں پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے آئندہ چند گھنٹوں میں میں اہم اعلان کا اشارہ دیا ہے۔
