جے شنکر نے واضح الفاظ میں کہا کہ توانائی کی فراہمی کے معاملے میں ہندوستان سستے اور قابلِ اعتماد ذرائع کو ترجیح دیتا ہے۔
اتوار کے روز ہندوستان کے دورے پر آئے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے ساتھ دوطرفہ مذاکرات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں جئے شنکر نے کہا کہ ہندوستان اور امریکہ کے درمیان سیاسی ہم آہنگی کے تناظر میں ایک اسٹریٹجک شراکت داری موجود ہے، جو کئی شعبوں میں قومی مفادات کی مماثلت پر مبنی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے اپنی خارجہ پالیسی کو واضح طور پر ’’امریکہ فرسٹ‘‘ کے طور پر پیش کیا ہے، جبکہ ہندوستان کا نقطۂ نظر ’’انڈیا فرسٹ‘‘ ہے۔ ان کے مطابق، دونوں ممالک واضح طور پر اپنے اپنے قومی مفادات سے رہنمائی لیتے ہیں۔
دنیا بھر میں توانائی کی غیر یقینی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی ترجیح قابلِ اعتماد، بڑے اور کم قیمت ذرائع سے توانائی کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔
انہوں نے کہاکہ’’جہاں تک توانائی کے مسائل کا تعلق ہے، ہماری توانائی سلامتی کے لیے ضروری ہے کہ ہمارے پاس متعدد، بڑے، قابلِ اعتماد اور سستے ذرائع ہوں۔ اس لحاظ سے امریکہ کئی اعتبار سے موزوں ہے، جبکہ دیگر ممالک بھی ایسے ہیں۔ اسی لیے ہم توانائی کی فراہمی میں تنوع برقرار رکھیں گے اور مناسب لاگت پر اسے جاری رکھیں گے، کیونکہ آخرکار عوام کو سستی اور قابلِ رسائی توانائی فراہم کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔‘‘
جے شنکر نے کہا کہ ہندوستان ان چند ممالک میں شامل ہے جن کے امریکہ، اسرائیل، ایران اور خلیجی ممالک کے ساتھ بیک وقت مضبوط تعلقات ہیں۔
انہوں نے کہاکہ’’ان ممالک میں ہمارے حقیقی مفادات وابستہ ہیں، اس لیے ہمارے لیے چیلنج یہ ہے کہ ہم ان تمام تعلقات کو کیسے برقرار رکھیں، اپنی شراکت داری کی حفاظت کیسے کریں اور اپنے مفادات کو کیسے آگے بڑھائیں۔‘‘
آبنائے ہرمز کے ذریعے توانائی کی سپلائی میں رکاوٹ کے حوالے سے وزیر خارجہ نے کہا کہ ہندوستان اور امریکہ دونوں محفوظ اور بلا رکاوٹ سمندری تجارت کے حامی ہیں۔
