برطانوی خبر رساں ادارے ’’رائیٹرز‘‘ کے مطابق پاکستانی عہدیدار نے کہا کہ جب تک معاہدہ مکمل طور پر طے نہیں پا جاتا، اسے حتمی نہیں سمجھا جا سکتا۔
انہوں نے بتایا کہ مجوزہ عبوری معاہدہ دونوں فریقوں کو اسی مرحلے پر واپس لے آئے گا جہاں اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے دوران وہ معاہدے کے قریب پہنچ گئے تھے۔
دوسری جانب دو باخبر پاکستانی ذرائع نے بتایا کہ ایران اور پاکستان نے جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کیلئے امریکہ کو ایک ترمیم شدہ تجویز ارسال کی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس نئی تجویز پر امریکی جواب آج اتوار کو متوقع ہے۔
اسی سلسلے میں جنرل عاصم منیر کے دورۂ تہران اور ایرانی قیادت سے ملاقاتوں سے آگاہ ایک پاکستانی سکیورٹی عہدیدار نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کیلئے ایک مفاہمتی یادداشت کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس دورے کے دوران اسلام آباد کی ثالثی میں جاری مذاکرات میں ’’نمایاں پیش رفت‘‘ ہوئی ہے۔
ادھر پاک فوج نے بھی اپنے بیان میں کہا ہے کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے تہران میں ایرانی صدر اور دیگر اعلیٰ حکام کے ساتھ انتہائی نتیجہ خیز ملاقاتیں کیں۔
بیان کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ہونے والے مذاکرات کے نتیجے میں حتمی مفاہمت کی جانب حوصلہ افزا پیش رفت سامنے آئی ہے۔
پاک فوج کے مطابق ان ملاقاتوں کا بنیادی مقصد خطے میں امن و استحکام کیلئے جاری مشاورتی عمل کو تیز کرنا تھا۔
دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ تہران امریکہ کے ساتھ مفاہمت کے فریم ورک کو حتمی شکل دینے کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
انہوں نے سرکاری ٹیلی ویژن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’ہم اس وقت مفاہمت کے فریم ورک کو مکمل کرنے کے مرحلے میں ہیں۔‘‘
تاہم ممکنہ جنگ بندی معاہدے کی مکمل تفصیلات تاحال واضح نہیں ہیں، جبکہ ایران کے جوہری پروگرام، پابندیوں کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے جیسے اہم معاملات اب بھی مذاکرات کا حصہ ہیں۔
واضح رہے کہ 28 فروری کو جنگ شروع ہونے کے بعد آبنائے ہرمز بڑی حد تک تجارتی جہاز رانی کیلئے بند رہی ہے، جس سے عالمی توانائی منڈی شدید متاثر ہوئی۔
