Masarrat
Masarrat Urdu

مندر میں توڑ پھوڑپر عمران خاں کی مجرمان کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت، تمام لیڈروں کی مذمت

Thumb

 

اسلام آباد، 5 اگست (مسرت نیوز) پاکستان کے صوبہ پنجاب میں ضلع رحیم یار خاں کے بھونگ میں ایک ہجوم نے ایک مندر میں توڑ پھوڑ کی اورموتیوں کو نقصان پہنچایا۔اس پر سخت نوٹس لیتے ہوئے پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے ضلعی انتظامیہ کو اس معاملے کی تحقیقات کر کے مجرمان کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی ہدایت کی۔
وزیراعظم عمران خان نے ہندو مندر پر حملے کا نوٹس لیتے ہوئے ضلعی انتظامیہ کو اس معاملے کی تحقیقات کر کے مجرمان کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی ہدایت کی۔وزیراعظم کے معاون خصوصی شہباز گل نے ایک ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک واقعہ ہے پاکستان کا آئین اقلیتوں کو آزادی اور تحفظ فراہم کرتا ہے تاکہ وہ اپنی عبادت کو آزادانہ طور پر انجام دے سکیں۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں، صوبے کے ضلع رحیم یار خان کے بھونگ قصبے میں تقریبا 50 افراد کا ہجوم مندر میں داخل ہوتا ہوا نظر آرہا ہے۔ ہجوم میں شامل لوگ مندر کے دروازے توڑ رہے ہیں اور مندر کے احاطے میں توڑ پھوڑ کر رہے ہیں۔ ہجوم ڈنڈے اور لوہے کی سلاخوں سے لیس ہے، بتوں کو توڑتا ہوا نظر آتا ہے، مورتیوں اور مورتیوں کے گرد شیشے اور یہاں تک کہ اندر کا فرنیچر بھی توڑتے نظر آرہے ہیں۔
انسانی حقوق کے کارکن کپل دیو نے سوشل میڈیا پر لکھا، ''ہندوؤں کے لیے ایک اور برا دن، رحیم یار خان کے بھونگ قصبے میں گنیش مندر پر شرپسندوں نے حملہ کیا۔ جانوروں نے فیس بک پر حملے کو براہ راست ٹیلی کاسٹ کرنے کی ہمت کی۔
پاکستان ہندو کونسل کے سرپرست اور رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر رمیش ونکوانی نے ٹویٹ کیا، ''ضلع رحیم یار خان میں پنجاب کے علاقے بھونگ میں ہندو مندر پر حملہ۔ کل سے حالات کشیدہ ہیں۔ مقامی پولیس کی غفلت انتہائی شرمناک ہے۔ چیف جسٹس سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ کارروائی کریں۔
اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری نے ٹوئٹر پر کہا،’آر وائی کے‘ میں ہندو مندر پر حملہ نہ صرف قابل مذمت ہے بلکہ ہمارے آئین اور ہمارے شہریوں کے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ مجرموں کے خلاف کارروائی کو یقینی بنانے کے لیے وزارت کل سے ضلعی پولیس کے ساتھ رابطے میں ہے، ہمیں رپورٹ موصول ہوئی ہے اور ہمارے پارلیمنٹ سیکرٹری آج دورے پر جا رہے ہیں۔ ''
ڈان کی رپورٹ کے مطابق 9 سالہ بچے کے مبینہ طور پر مدرسے میں پیشاب کرنے اور اسے مقامی عدالت سے ضمانت ملنے کے بعد بھونگ ٹاؤن میں سیکڑوں افراد نے ہندو مندر میں توڑ پھوڑ کی اور سکھر-ملتان موٹروے (ایم-5) بلاک کردی تھی۔
ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر خرم شہزاد اور ضلعی پولیس افسر کے دورے کے بعد ضلعی انتظامیہ نے علاقے میں رینجرز تعینات کردی تھی۔ذرائع کا کہنا تھا کہ دارلعلوم عربیہ تعلیم قرآن کے ایک معلم حافظ محمد ابراہیم کی شکایت پر بھونگ پولیس نے بچے کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295-اے کے تحت 24 جولائی کو مقدمہ درج کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ کچھ ہندو عمائدین نے مدرسے کی انتظامیہ سے یہ کہتے ہوئے معافی مانگی تھی کہ ملزم کم عمر اور ذہنی طور پر بیمار ہے۔تاہم مقامی عدالت نے چند روز قبل اسے ضمانت دی جس کے بعد کچھ افراد نے علاقے کے عوام میں اشتعال پھیلایا اور تمام دکانیں بند کروادیں۔
وائرل ہونے والی ایک ویڈیو کلپ میں دیکھا جاسکتا ہے کہ مشتعل افراد ڈنڈوں اور سلاخوں سے مندر کے شیشے، کھڑکیاں، لائٹیں اور پنکھے توڑ رہے ہیں۔
ضلعی پولیس ترجمان احمد نواز چیمہ نے کہا کہ گڑ بڑ والے علاقے میں رینجرز تعینات کردی ہے اور صورتحال قابو میں ہے۔پولیس حکام کے مبینہ تاخیر سے ایکشن لینے کے بارے میں ذرائع نے بتایا کہ سینئر عہدیدار یومِ شہدائے پولیس کی تقریبات میں شرکت میں مصروف تھے۔احمد نواز چیمہ نے تصدیق کی کہ ملزم بچہ ہے اور ابھی تک اس کی ذہنی حالت کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہے۔
کچھ رپورٹس یہ بھی ہیں کہ مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان پیسوں کا کوئی جھگڑا تھا جو اس واقعے کی اصل وجہ بتایا جارہا ہے۔
دریائے سندھ پر سندھ اور پنجاب کی سرحد کے نزدیک واقع علاقے بھونگ میں متعدد سونے کے تاجر رہائش پذیر ہیں جن کا تعلق سندھ کے اضلاع گھوٹکی اور ڈہرکی سے ہے۔
اقلیتوں کی نمائندگی کرنے والے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ایک رکن نے نام نہ ظاہر کرنے کی خواہش پر بتایا کہ جب سے یہ واقعہ ہوا ہے وہ مقامی ہندو برادری اور بھونگ کے بااثر رئیس خاندان سے رابطے میں ہیں۔انہوں نے کہا کہ بچے کو سیکیورٹی وجوہات کی وجہ سے رحیم یار خان کی ضلعی جیل بھیجا گیا تھا، بعدازاں 4 روز قبل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے اس کی ضمانت منظور کرلی تھی۔انہوں نے کہا کہ  رئیس خاندان نے اس مسئلے کو خوش اسلوبی سے حل کرلیا تھا لیکن سومرو قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک مقامی شخص نے اقلیتی برادری کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلائی جس کے نتیجے میں اشتعال پھیلا۔انہوں نے کہاکہ  بھونگ مارکیٹ بند کروانے کے بعد ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کے کچھ گھروں پر بھی حملہ کرنے کی کوشش کی گئی۔
ایم-5 کے ترجمان عامر سردار نے کہا کہ چونکہ موٹروے 3 گھنٹوں کے لیے بند رہی اس لیے ٹریفک کو اقبال آباد اور گدو انٹرچینج کے ذریعے نیشنل ہائی وے کی جانب موڑ دیا گیا۔

 

Ads