Masarrat
Masarrat Urdu

افغانستان ابھی ہمارا دردِ سر، دردِ دل ہی رہے گا

  • 04 Aug 2021
  • عابد انور
  • دنیا
Thumb

اس کے علاوہ یہ خانہ جنگی ماضی کی طرح پراکسی جنگ کا باعث بھی بن سکتی ہے، فرق اتنا ہوگا کہ یہ جنگ ماضی کی نسبت زیادہ مہلک ہوگی اور زیادہ ممالک کو متاثر کرے گی، خاص کر ان ممالک کو جو پہلے ہی اپنے دفاع کو مضبوط بنا رہے ہیں۔

افغانستان کے پڑوسی ممالک جب اپنے مفادات کے تحفظ کی کوشش کریں گے تو صورتحال 1990ء کی دہائی میں روسی افواج کے انخلا کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال سے بھی زیادہ گھمبیر ہوجائے گی۔ افغانستان میں غیر ملکی جنگجوؤں اور بین الاقوامی گروہوں کی موجودگی کی وجہ سے ماضی کی نسبت آج زیادہ ممالک کو سیکیورٹی خدشات لاحق ہوں گے۔ ان گروہوں میں ایسٹ ترکستان اسلامک موؤمنٹ، داعش، ازبکستان اسلامک موؤمنٹ، ٹی ٹی پی اور ظاہر ہے کہ القاعدہ شامل ہے۔ اس بات کا خطرہ بھی موجود ہے کہ شام میں موجود جنگجو بھی اس خطے میں آسکتے ہیں۔ ایک پراکسی جنگ اس خطے میں جغرافیائی اور سیاسی بحران کا باعث بن سکتی ہے۔

یہ ایک خطرناک صورتحال معلوم ہوتی ہے لیکن یہ اندازہ افغانستان کے حوالے سے بدترین صورتحال کو مدِنظر رکھتے ہوئے لگایا گیا ہے۔ یہ صورتحال اس طرح کے نتیجے کو روکنے کے لیے فوری طور پر بین الاقوامی سفارتی کوششوں کی ضرورت کو واضح کرتی ہے۔ اب بھی ان کوششوں کا آغاز کیا جاسکتا ہے۔ لیکن بہرحال افغانوں کو درپیش طویل مشکلات کے خاتمے کے لیے مشکل سمجھوتے کرنے کا بوجھ افغان فریقین پر ہی ہے۔

Ads