Masarrat
Masarrat Urdu

کسانوں اور بھارت بند کی حمایت میں دہلی خواتین کانگریس کا مارچ

Thumb

 

نئی دہلی، 8دسمبر (مسرت نیوز) ستمبر میں پاس کئے گئے تین زرعی قوانین کے خلاف کسان تنظیموں کی بھارت بند کی اپیل حمایت کرتے ہوئے دہلی خواتین کانگریس نے اپنی صدر امرتا دھون کی قیادت میں آج منڈی ہاؤس سے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ہیڈکوارٹر تک مارچ نکالنے کی کوشش کی  جسے پولیس نے درمیان میں ہی روک دیا اور کچھ خواتین کو کچھ دیر کے لئے حراست میں لے لیا۔
اس موقع پر محترمہ امرتا دھون نے کہاکہ دہلی خواتین کانگریس کسانوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور آج کا مارچ کسانوں کی حمایت اور ان کی بھارت بند کی اپیل کی حمایت کے لئے منعقد کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ملک کسانوں میں تباہ و برباد کرکے کارپوریٹ گھرانوں کو آباد کرنے کی سازش کی جارہی ہے۔ اس لئے مودی حکومت کسان مخالف تین زرعی قوانین پاس کروائی ہے تاکہ وہ اپنے کارپوریٹ دوستوں کو فائدہ پہنچا سکیں۔ 
انہوں نے کہاکہ کسان گزشتہ 20ستمبر سے احتجاج کر رہے ہیں لیکن حکومت کی نیند نہیں کھلی اور وہ ہر بڑے احتجاج کو نظرانداز کرتی رہی اور وہ گزشتہ دس بارہ دنوں سے دہلی کے بارڈروں پر کسان احتجاج اور دھرنا دے رہے ہیں لیکن اب تک حکومت نے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا ہے اور کسانوں کو مجبور ہوکر بھارت بند کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔اس میں آر ایس ایس کے منسلک بھارتی کسان سنگھ کے علاوہ تمام کسان تنظیمیں حصہ لے رہی ہیں۔انہوں نے کہاکہ کسان ہمارے لئے اناج پیدا کرتے ہیں مگر حکومت ان کا استحصال کرنے پر آمادہ نظر آرہی ہے۔


احتجاج مارچ میں حصہ لینے والی خواتین کانگریس کی لیڈر محترمہ ملکہ خاں نے بتایا کہ منڈی ہاؤس سے دہلی خواتین کانگریس کی مارچ نکلی اور آئی ٹی او کے پاس کچھ دیر رکی اور پولیس نے آئی ٹی او چوراہے کے پاس حراست لے لیا اور ہم لوگوں کو راجندر نگر جاکر چھوڑ دیا۔ انہوں نے کہاکہ بڑی تعداد میں خواتین نے اس مارچ میں حصہ لیا اور کسانوں کے حق میں آواز اٹھاتے ہوئے تینوں زرعی قوانین رد کے خلاف نعرے لگائے۔ انہوں نے کہاکہ اگر آج کسانوں کی حمایت میں نہیں نکلے تو ہم سے منہ کا نوالہ چھن جائے گا۔ 

 

Ads

مضامین

Ads