Masarrat
Masarrat Urdu

گاندھی جی کے نام پر حکومت کرنے والوں نے انہیں بھلادیا: شہاب الدین احمد

Thumb

 

نئی دہلی/دوحہ،4اکتوبر (مسرت نیوز)موجودہ دور میں گاندھی جی کی اہمیت و ضرورت کا احساس کرتے ہوئے مقررین نے کہاکہ گاندھی جی کے نظریہ عدم تشدد کو اپنی زندگی میں اپناکر دنیا میں امن و امان قائم کیا جاسکتا ہے۔ یہ بات مقررین نے گاندھی جی کی سالگرہ کے موقع پر بزم صدف انٹرنیشنل کے اشتراک سے منعقدہ جشن مسرت ویکلی عالمی مشاعرہ اور ویبنار میں کہی۔
بزم صدف انٹرنیشنل کے چیرمین شہاب الدین نے کہاکہ جس سماج میں عام آدمی کی زندگی مشکلوں سے گزر رہی ہو، امن اور سالمیت کو خطرات درپیش ہوں،کمزور طبقات،دلت اور عورتوں کے لئے عرصہ حیات تنگ ہو، اس دور میں گاندھی جی کو یا د کرنا ان کے یوم پیدائش میں محفل پربا کرنا ایسا ہی ہے کہ آپ نے گھٹاٹوپ اندھیرے میں ایک چراغ جلایاہے۔ گاندھی کے نام پر حکومت کرنے والوں نے انہیں بھلادیا اور گاندھی جی کے کارناموں کو کوڑے دان میں پھینک دیا۔انہوں نے کہاکہ ایسے موقع پر اردو صحافت کے ایک مرد درویش جناب عابدا نور اپنے اخبارکے جشن کے لئے گاندھی کے یوم ولادت کو چنا،یہ بے حد قیمتی بات ہے۔ 
انہوں نے ہندوستان کی صورت حال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ انصاف اور امن امان کا جنازہ نکل رہا ہے۔ امریکہ سے لیکر دہلی اور ہاتھرسے بلرام پور، فیض آباد، اجودھیا،  ہر جگہ جس کی لاٹھی اسی کی بھینس کا فارمولا نظر آرہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس لئے ہمیں گاندھی جی یاد آتے ہیں انہوں نے کہا تھا کہ جب تم کسی فیصلے کے درمیان پس و پیش میں متبلا ہورہے تو بس اتنا سوچو کہ تمہارا فیصلہ سماج کے آخری آدمی کے خلاف تو نہیں ہے۔ انہوں نے دعوی کیا کہ آج فلاح وبہبود کے لئے قائم جمہوری حکومتوں کا حقیقی مقصد یہی ہوگیا ہے کہ وہ سماج کے آخری آدمی کو صفحہ ہستی سے مٹادیں۔گاندھی کے ملک میں گاندھی سے دشمنی چل رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی جنگ آزادی اس لئے کامیاب ہوئی کیوں کہ اس کی صف اول میں دانشورں، ادیبوں، شاعروں اور صحافیوں کی شمولیت تھی اور گاندھی جی کی قیادت میں سب نے مل کرعام زندگی کے مسائل سمجھے اور دنیا کی سب سے بڑی طاقت سے جیت حاصل کرنے میں کامران ہوئے۔انہوں نے کہاکہ آج ہفتہ وار مسرت کے اس جشن اور مشاعر ے میں میں اپنے ادیبوں اور شاعروں کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ مزاحمت ہمارا سب سے بڑا ہتھیار ہے، ہمیں اس مشکل زندگی کو مزید مشکل بننے سے بچانا ہوگا، ہم لوگوں کے دماغ کو بدل سکتے ہیں اور یہ مناسب وقت ہے۔
مشہور شاعر باصر سلطان کاظمی نے اس موقع گاندھی جی کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہاکہ برصغیر میں دوچار اہم شخصیات میں گاندھی جی کانام سرفہرست ہے۔ جنہوں نے جنگ آزادی میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ اس کے علاوہ وہ عدم تشدد کے زبردست علمبردار تھے اور انہوں نے اسی ہتھیار سے جنگ جیتی تھی۔ انہوں نے مزید کہاکہ وہ دلتوں، کمزور طبقوں، اقلیتوں اور دبے کچلوں کے حقوق کے زبردست حامی تھے۔  انہوں نے کہاکہ موجودہ دور میں ان باتوں کی اہمیت کم ہونے کے بجائے بہت بڑھ گئی ہے اور امید تھی کہ دنیا میں عدم مساوات ختم ہوگا اور انسانوں کو مساویانہ حقوق ملیں گے لیکن ایسا اب تک نہیں ہوا ہے۔
مشہور شاعر ضامن جعفری کی صدارت میں منعقدہ اس پرگورام میں بزم صدف انٹرنیشنل کے ڈائرکٹر پروفیسر صفدر امام قادری نے گاندھی جی کو یاد کرتے ہوئے کہاکہ کیوں کہ ہمارا تعلق چمپارن خطہ سے ہے اس لئے گاندھی جی ہمیں ہمارے خاندان کے افراد ہی معلوم ہوتے ہیں اور میری خوش بختی ہے کہ میرے والد بھی مجاہد آزادی تھے،میں نے متعدد افراد سے ملاقات کی ہے جنہوں نے گاندھی جی کی چمپارن تحریک میں حصہ لیا تھا اور گاندھی جی کی تحریک کو پروان چڑھایا تھا۔ انہوں نے کہاکہ گاندھی جی نے سامراجیت اور شہنشاہیت کامقابلہ عدم تشدد کے ہتھیار سے کیا اور دنیا نے دیکھا کہ آدھے کپڑے والے انسان نے کس طرح انقلاب برپا کیا۔ ساتھ ہی انہوں نے کہاکہ گاندھی جی مادری زبان میں تعلیم دینے کے زبردست حامی تھے۔
پروگرام کا افتتاح کرتے ہوئے سینئر صحافی عابد انور نے کہاکہ گاندھی جی کی خصوصیت یہ تھیکہ انہوں نے ہمیں اپنے حق کے لئے احتجاج کرنا اور دھرنا دینا سکھایا۔انہوں نے کہاکہ گاندھی جی کو جنوبی افریقہ میں جب ٹرین میں ان کے ٹکٹ کے حساب سے ڈبے میں بیٹھنے نہیں دیا گیا تھا تو انہوں نے فوراً اس کے خلاف احتجاج کیا تھا اور دھرنے پر بیٹھ گئے تھے۔ساتھ ہی انہوں نے کہاکہ گاندھی جی مہاتما گاندھی بنانے میں علی برادران اور شیخ الہند مولانا محمود الحسن کا اہم رول تھا۔ میڈیا کے حوالے سے انہوں نے کہاکہ اب اخباروں، ٹیلی ویژن اور ذرائع ابلاغ سے خبریت غائب ہوگئی ہے اور اس کی جگہ نظریات و خیالات نے جگہ لے لی تھی۔آج کا میڈیا خبروں کے بجائے خاص نظریات کو دکھاتا ہے جس کی وجہ سے عوام میں اشتعال اور نفرت پھیل رہی ہے۔
انہوں نے کہاکہ گاندھی جی اہمیت گزشتہ چھ برسوں سے ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ دو اکتوبر کو پور دنیا عالمی یوم عدم تشدد کے طور پر مناتی ہے اور ہمارے ملک میں سوچھتا ابھیان کے طور پر منایا جاتا ہے۔ ہم نے ہی اپنے ملک سے گاندھی جی کو دیش نکالا کردیا ہے۔ ایک ماس کلر کو عدم تشدد کیوں کر پسند آئے گا۔ اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔
روزنامہ تاثیر کے چف ایڈیٹر ڈاکٹر محمد گوہر نے گاندھی جی خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے اس کی اہمیت کا ذکر کیا اور گاندھی جی کے نظریے کو پھیلانے پر زور دیا۔پروگرام کی نظامت ڈاکٹر کامران غنی صبا نے خوبصورتی سے انجام دیااور اس موقع پرڈاکٹرآشنا  نصرت نے کووڈ سے حفاظت کے بارے میں آگاہ کیا۔ پروگرام کاآغاز مشہور شاعر مسعود حساس کی تلاوت قرآن سے ہوا۔ اس کے بعد عالمی سطح کا مشاعرہ منعقد ہوا جس کی رپورٹ عنقریب پیش کی جائے گی۔

Ads