Masarrat
Masarrat Urdu

تبلیغی جماعت کو بدنام کرنے کامعاملہ:جمعیۃ علمائے ہند کی عرضی کی سماعت 8 اکتوبر تک ملتوی

Thumb

 

نئی دہلی، 28  ستمبر (مسرت نیوز) کروناوائرس کو مرکز نظام الدین سے جوڑ کر مسلمانوں بالخصوص تبلیغی جماعت سے وابستہ لوگوں کی شبیہ کو داغدار کرنے اور ہندو اورمسلمانوں کے درمیان منافرت پھیلانے کی دانستہ سازش کرنے والے ٹی وی چینلوں اور پرنٹ میڈیاکے خلاف جمعیۃ علماء ہند کی داخل کردہ پٹیشن پر آج چیف جسٹس کی سربراہی والی تین رکنی بینچ کے روبرو سماعت عمل میں آنے والی تھی لیکن آج پھر چیف جسٹس نے معاملے کی سماعت ملتوی کردی اور اس کی نئی تاریخ 8اکتوبر مقرر کی ہے۔
 اس سے قبل کی سماعت پر بھی چیف جسٹس آف انڈیا نے بغیر سماعت کیئے معاملے کی سماعت ملتوی کردی تھی۔چیف جسٹس جسٹس اے ایس بوبڈے، جسٹس اے ایس بوپنا اور جسٹس وی راما سبرامنیم نے حتمی بحث کے معاملات جس میں جمعیۃ علماء ہند کی پٹیشن بھی شامل تھی پر سماعت کیئے بغیر8اکتوبر کو اگلی تاریخ دے دی، حالانکہ جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے بحث کر نے کے لیئے سینئر ایڈوکیٹ دشینت دوے اور ایڈوکیٹ آن ریکارڈ اعجاز مقبول موجود تھے۔
جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا سید ارشدمدنی کی ہدایت پر گلزار احمد اعظمی پٹیشن میں مدعی بنے ہیں جس میں عدالت کی توجہ ان دیڑھ سو نیوز چینلوں اور اخبارات کی جانب دلائی گئی ہے جس میں انڈیا ٹی وی،زی نیوز، نیشن نیوز،ری پبلک بھارت،ری پبلک ٹی وی،شدرشن نیوز چینل اور بعض دوسرے چینل شامل ہیں جنہوں نے صحافتی اصولوں کو تار تار کرتے ہوئے مسلمانوں کی دل آزاری اور قومی یکجہتی کو نقصان پہنچانے کی ناپاک سازش کی تھی پر کارروائی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔
واضح رہے کہ جمعیۃ علمائے کے صدر مولانا سید ارشد مدنی کا موقف رہا ہے کہ سماج میں انتشار و افتراق اور نفرت پھیلانے کے والوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے خواہ وہ میڈیا ہو یا تنظیم یا کوئی اور ذرائع ابلاغ ہو، اس کے خلاف کارروائی ضروری ہے۔ کیوں کہ اس سے سماج میں نفرت پھیلتی ہے اور معاشرہ مسموم ہوجاتا ہے جس سے ملک کی بدنامی ہوتی ہے اور دنیا میں ہندوستان کی شبیہہ کو ٹھیس پہنچتی ہے۔ اسی لئے جمعیۃ علمائے ہند نے ہندوستان کی عظمت اور جمہوریت کو برقرار رکھنے کے لئے تبلیغی جماعت کے خلاف مہم چلانے والے  بے لگام میڈیا پر قدغن لگانے کے لئے سپریم کورٹ میں گزشتہ 6اپریل عرضی دائر کی تھی اور نفرت پھیلانے والے میڈیا کے خلاف جمعیۃ علمائے ہند کی کوشش انصاف کے حصول تک جاری رہے گی۔ کیوں کہ یہ جمعیۃ علمائے ہند یا مسلمان یا تبلیغی جماعت کے حق میں ہی نہیں ہوگا بلکہ پورے ملک کے حق میں بھی بہترہوگا۔

 

Ads