Masarrat
Masarrat Urdu

375سالہ قدیم مسجد نواب والی پردہلی وقف بورڈ کو ملا اسٹے

Thumb

تاریخی مسجد پر بلڈر مافیاؤں کی ہے بری نظر،غیر قانونی قبضہ کرکے تعمیراتی کام شروع کیا تھا،مسجد دہلی حکومت کے گزٹ میں وقف بورڈ کی ملکیت ہے۔وقف بورڈ نے کی بروقت کار روائی۔

نئی دہلی،11ستمبر()375سالہ قدیم تاریخی مسجد نواب والی (مسجد نواب شرف الدولہ)پر دہلی وقف بورڈ کی بروقت عدالتی کارروائی آج اس وقت کامیاب نظر آئی جب عدالت نے مسجد کی پہلی منزل پر جاری بلڈر مافیاؤں کے ذریعہ غیر قانونی تعمیر پر اسٹے آرڈر جاری کردیا۔عدالت نے یہ اسٹے دہلی وقف بورڈ کی درخواست پر جاری کیاہے۔تفصیل کے مطابق تازہ معاملہ کی شروعات اس وقت ہوئی جب تاریخی مسجد کے گراوٗنڈ فلور کے علاوہ مسجد کی پہلی منزل کے صحن پر بھی بلڈر مافیاؤں نے قبضہ کرنے کی نیت سے تعمیراتی کام شروع کردیا۔ذرائع کے مطابق اجے جین،اجئے سنگھ اور جگن ناتھ بگا بلڈرمافیاؤں کی مسجد کی جائدادر پر بری نظر تھی جنہوں نے مسجد کے امام اور مؤذن کو دھمکاتے ہوئے غیر قانونی تعمیر شروع کرادی تھی جس کی وقف بورڈ نے مقامی پولیس تھانہ میں شکایت درج کرائی اور بورڈ کے افسران نے موقع پر پہونچ کر مسجد کا معائنہ کیا اور پولیس افسران اور لوگوں سے بات چیت کرکے معاملہ کو طول پکڑنے سے بچالیا۔شروع میں پولیس نے ٹال مٹول سے کام لیا اور معائنہ کے لئے گئی بورڈ کی ٹیم کو ہی تھانہ لے گئی جہاں انھیں کئی گھنٹوں تک روکے رکھا۔دہلی وقف بورڈ کے سیکشن آفیسر حافظ محفوظ محمد نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے متعلقہ کاغزات لیکر دہلی وقف بورڈ کی لیگل ٹیم کو تھانہ کوتوالی بھیجا تب کہیں جاکر پولیس نے وقف بورڈ کی سروے ٹیم کو جانے کی اجازت دی۔پولیس انتظامیہ کے جانبدارانہ رویہ کو دیکھتے ہوئے وقف بورڈ  کے سی ای او تنویر احمد نے عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایات جاری کیں۔جس کے بعد دہلی وقف بورڈ کے چیف لیگل آفیسر محمدقسیم کی رہنمائی میں بورڈ کے اسٹینڈنگ کونسل وجیہ شفیق نے لیگل آفیسر شائستہ صدیقی اور لیگل اسسٹنٹ احسن جمال کے تعاون سے مضبوط کیس تیار کیا اور پوری تیاری کے ساتھ وقف ٹربیونل میں کیس فائل کیااوروقف بورڈ کے اسٹینڈنگ کونسل وجیہ شفیق نے مدلل انداز میں عدالت کے سامنے وقف بورڈ کا موقف رکھا۔ آج عدالت نے وقف بورڈ کے موقف کو تسلیم کرتے ہوئے غیر قانونی تعمیر پر اسٹے جاری کردیا۔وقف بورڈ کے سیکشن آفیسر حافظ محفوظ محمد کے مطابق مسجد نواب والی دہلی حکومت کے آفیشیل گزٹ 16اپریل 1970صفحہ نمبر 312سیریل نمبر20پر درج ہے جسے نواب ارادتمند خان نے وقف کیا تھا۔یہ مسجد اور اس سے ملحق جائداد موجودہ میونسپل نمبر 1660/موٗرخہ 4فروری 1949کو دفتر دہلی وقف بورڈ میں رجسٹرڈ ہوئی تھی اور خواجہ سعید الرحمن اس وقت اس کے متولی تھے۔مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کی بری نظریں مسجد کی جائداد پر پڑتی رہیں اور مسجد کے اکثر حصہ پر مقامی دوکانداروں نے غیر قانونی قبضہ کرلیا اور دھیرے دھیرے مسجد کے پورے گراؤنڈ فلور پر غیر قانونی قبضہ ہوگیا۔مسجد کی جائدادپر بری نظر رکھنے والوں نے اسی پر بس نہیں کیا بلکہ انہوں نے اپنی دوکانوں کو دو منزلہ بنانتے ہوئے مسجد کے اوپری صحن پر بھی قبضہ کرلیا اور اب باقی بچے حصہ پر قبضہ کرنے کی سازشیں ہورہی ہیں۔غور طلب ہیکہ اس مسجد پر آزادی کے وقت سے ہی کئی مرتبہ تنازع نے طول پکڑا ہے اور غیر قانونی تعمیرات کی وجہ سے تنازع فساد کی شکل اختیار کرگیا۔تازہ معاملہ کی شروعات1ستمبر کو ہوئی جس کے بعد مسجد کے اوپری صحن میں غیر قانونی تعمیر کام کی وجہ سے ایک مرتبہ پھر ماحول گرمانے لگا تھا جب جمعہ کی نماز میں کافی بڑی تعداد میں نمازی مسجد پہونچے مگر وقف بورڈ کے ذمہ دار افسروں نے بروقت کارروائی سے نہ صرف معاملہ کو جھگڑے میں تبدیل ہونے سے بچایا بلکہ بر وقت عدالتی کرروائی بھی کی جہاں سے آج تعمیراتی کام پر اسٹے ہوگیاہے۔ غورطلب ہیکہ دہلی وقف بورڈ کے سابق چیئرمین اور دہلی اسمبلی کی ویلفیئر کمیٹی کے چیئرمین امانت اللہ خان کی معاملہ کو سمجھداری اور حکمت کے ساتھ دیکھنے کی سخت ہدایات تھیں

Ads