Masarrat
Masarrat Urdu

اسلامک فقہ اکیڈمی کے سکریٹری مولانا امین عثمانی کا انتقال، اکیڈمی کا بڑا خسارہ

Thumb

نئی دہلی، 2ستمبر (عابد انور) اسلامک فقہ اکیڈمی کے سکریٹری، منتظم، اسے ملک و بیرون ملک نمایاں مقام دلانے والے اور قاضی مجاہدالاسلام قاسمی کے خاص معتمد مولانا امین عثمانی کا مختصر علالت کے بعد آج یہاں کے ایک اسپتال میں انتقال ہوگیا۔ ان کی عمر 65برس تھی۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔ بٹلہ ہاؤس قبرستان میں سیکڑوں سوگواروں کی موجوددگی میں تدفین عمل میں آئی۔
مولانا امین عثمانی کو کورونا انفیکشن کی وجہ سے اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا اورریکوری کے لئے پلازمہ بھی چڑھایا گیا تھا اور ان کی رپورٹ منفی بھی آگئی تھی لیکن کورونا اپنا کام کرچکا تھا اور سانس کی تکلیف بڑھتی جارہی تھی۔وہ سانس نہیں لے پارہے تھے۔آج انہوں نے گیارہ بجے کے قریب آخری سانس لی۔
مسٹر عثمانی نے قاضی مجاہدالاسلام کی سربراہی میں اسلامک فقہ اکیڈمی کو نئی بلندی پر لے جانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔1989میں جب اسلامک فقہ اکیڈمی بنیاد ڈالی گئی تھی تو وہ اسی وقت سے وہ قاضی صاحب کے ساتھ تھے۔مسلمانوں کے نئے نئے شرعی مسائل اور نئے نئے موضوعات پر ہوم ورک کرکے قاضی کودیتے تھے۔یہی وجہ ہے کہ اسلامک فقہ اکیڈمی جدید ترین مسائل پر اب تک درجنوں سیمینار کرچکا ہے۔
وہ مسلمانوں سے متعلق تمام شعبوں میں اصلاحات کے زبردست حامی تھے اور خاص طور پر اسلامی مدارس میں اصلاحات کے حامی تھے۔وہ بیک وقت متعدد مسائل پر سوچتے تھے۔وہ زبردست ذہین انسان تھے۔ مسائل کے تہہ تک جانے کی مہارت رکھتے تھے۔ ان کے انتقال کی وجہ سے اسلامک فقہ اکیڈمی کو زبردست خسارہ ہوا ہے جس کی تلافی مشکل ہے۔
کئی کتابوں کے مصنف تھے۔زیب الغزالی کی کتاب ایام من حیاتی کاانہوں نے ’زنداں کے شب و روز‘ کے نام سے ترجمہ کیا تھا جو بے حد مقبول ہوا تھا۔اسلامک فقہ اکیڈمی میں نئے نئے موضوعات پر سیمنار کروائے۔اس کے ساتھ ہی وہ شرعی مسائل  کے حل کے تعلق سے بہت کچھ کرنا چاہتے تھے۔انہوں نے ملی کونسل کے قیام میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ان کی پیدائش 1955میں ہوئی تھی اور انہوں نے ندوۃ العلماء سے فراغت حاصل کی تھی اس کے علاوہ انہوں نے عصری جامعات سے بھی تعلیم حاصل کی تھی۔ انہوں نے پی ایچ ڈی میں داخلہ لیا تھا لیکن کسی سبب وہ پی ایچ ڈی مکمل نہیں کرپائے۔زمانہ طالب علمی سے ہی کچھ کرنے کی لگن تھی اور وہ ہمیشہ کچھ نہ کچھ کرتے رہتے تھے۔
دریں اثناء  اسلامک فقہ اکیڈمی کے سکریٹری مولانا امین عثمانی کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے اکیڈمی کے جنرل سکریٹر مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے کہا کہ اکیڈمی کی تمام سرگرمیوں میں وہ دماغ کی حیثیت رکھتے تھے۔انہوں نے آج یہاں جاری تعزیتی بیان میں کہا کہ یہ خبر پورے علمی اور ملی حلقہ کے لیے اور بالخصوص اس حقیر اور اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کے تمام ذمہ داران اور وابستگان کے لیے بے حد افسوس ناک ہے، کہ اس کے سکریٹری برائے انتظامی امور اور منصوبہ بندی حضرت مولانا محمد امین عثمانی جو اکیڈمی کی تمام سرگرمیوں میں دماغ کی حیثیت رکھتے تھے، اللہ کو پیارے ہوگئے، اللہ نے ان کو اخاذ ذہن، دور رس فکر، جدوجہد کا غیرمعمولی جذبہ، مختلف حلقوں سے تعلقات کی استواری کا ملکہ، ملی اور قومی مسائل کا شعور اور بے پناہ صلاحیتوں سے نوازا تھا۔
انہوں نے کہاکہ وہ حضرت مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمیؒ کے نہایت معتمد رفیق تھے اور اکیڈمی کی تاسیس کے وقت سے ہی قاضی صاحبؒ کے شریکِ کار رہے، اپنی ہمہ جہت صلاحیت اور مزاج میں اعتدال و توازن کی وجہ سے مختلف تنظیموں سے ان کا تعلق تھا، وہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ، المعہدالعالی پھلواری شریف پٹنہ، انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز کے رکن رکین تھے، نیزڈاکٹر محمد منظور عالم صاحب کے دیرینہ رفیق تھے، ان کی وفات حضرت مولانا قاضی مجاہد الاسلام صاحب قاسمیؒ کی رحلت کے بعد اکیڈمی کے لیے سب سے بڑا ہے حادثہ ہے، اللہ تعالی ان کی خدمات کو قبول فرمائے، ان کی بال بال مغفرت کرے اور اکیڈمی کوان کا بدل عطا کرے، اکیڈمی کے وابستگان سے عرض ہے کہ وہ مولانا مرحوم کیلئے دعائے مغفرت کا خصوصی اہتمام کریں، اور اکیڈمی کے لئے بھی دعا کریں، نیز اطمینان رکھیں کہ انشائاللہ اکیڈمی کے سارے کام اپنے معمول کے مطابق انجام پاتے رہیں گے اور اللہ تعالی کے فضل و کرم اور آپ لوگوں کے تعاون سے اس کا سفر جاری رہے گا۔

 

Ads