Masarrat
Masarrat Urdu

جے ای ای نیٹ ایگزام:ایک شخص کا بھی بھلا کردیا تو آپ نے اہم کام کیا۔ آنند کمار

Thumb

 

نئی دہلی/دوحہ، 31اگست (مسرت  نیوز) تمام لوگوں سے اپنے اپنے علاقوں میں تعلیمی ادارے قائم کرنے پر زور دیتے ہوئے سپرتھرٹی کے سربراہ آنند کمار نے کہا کہ اگر آپ نے اپنی زندگی میں ایک شخص کا بھی بھلا کردیا تو آپ نے اہم کام کیا اور یہ مت سوچئے ایک آدمی کی بھلائی سے کیا ہوگا۔انہوں نے یہ بات اے ایم یو الومنائی ایسوسی یشن قطر کے زیر اہتمام جے ای ای اور نیٹ کے طلبہ کیلئے منعقدہ عالمی ویبنار میں کہی۔
انہوں نے گیارہوں اور بارہویں کلاس کی سطح کا سوال پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس کی بچے خود بھی تیاری کرسکیں گے اور اولمپیاڈ سطح کا سوال نہیں ہونا چاہئے۔ اس سے غریب بچوں کو اپنی تیاری سے امتحان پاس کرنے میں مدد لے گی۔انہوں نے کہا کہ طلبہ کو نصاب کی مکمل تیاری کرنی چاہئے کیوں کہ کہیں سے بھی آسانی اور مشکل سوالات پوچھے جاسکتے ہیں۔اس کے علاوہ طلبہ کواین سی ای آرٹی کی کتابوں کا بغور مطالعہ کرنا چاہئے اور پرانے سوالات کو بھی حل کرنا چاہئے تاکہ انہیں آنے والے سوالات کو حل کرنے میں مدد مل سکے۔اگر طلبہ کو سوال حل کرنے میں پریشانی ہو تو طلبہ کو گیارہویں اور بارہویں کے کلاس کے کنسیپٹ کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ حساب کو دلچسپ بنانے کے لئے طلبہ کو بنیاد سے کنسیپٹ کو تیار کرنا چاہئے۔
انہوں نے والدین پر زور دیاکہ وہ اپنے بچوں کو موبائل گیمس اور گجیٹ پر وقت برباد کرنے کے بجائے سائنس، داں، حساب داں کی سوانح حیات پڑھنے کو کہیں تاکہ وہاں سے ان کو تحریک وترغیب مل سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ کورونا وباء کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی تیاری پر زور دینا چاہئے تاکہ زیادہ سے زیادہ معلومات اپنے اندر ک۔جمع کرسکیں۔ انہوں نے کہاکہ بہت طلبہ یہ سوچ کر تیاری کرتے ہیں کہ اس سال نہیں بلکہ اگلے سال امتحان دیں گے، کیوں کہ ضروری نہیں ہے کہ جس سوال کا انہوں نے تیاری کی ہے وہی سوال اگلے سال آئے گا  اس لئے کوشش کرنی چاہئے کہ پہلی کوشش میں ہی امتحان پاس کرلے۔انہوں نے سماج کے سرکردہ شخصیات سے طلبہ کی تعاون کی اپیل کرتے ہوئے کہاکہ اس سے معاشرہ کی ترقی اور ملک کی تعمیر میں مدد ملے گی اور ملک کو ترقی کی راہ پر لے جانے والے نوجوان پیدا ہوں گے۔


اے ایم یو الومنائی ایسوسی ایشن قطر کے صدر جاوید احمد نے مہما نوں، شرکاء اور اسپیکر کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہاکہ نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ اس ویبنار سے فائدہ اٹھائیں اور کہا کہ طلبہ مشق (محنت) سے ہی پختہ (پرفیکٹ) ہوتے ہیں اس لئے اس جانب توجہ دینی چاہئے۔انہوں نے خلیجی ممالک میں سپر تھرٹی اور رحمان تھرٹی کے طرز پر سنٹر قائم کرنے کی اپیل کی۔
مہمان خصوصی سجیت (انکم ٹیکس کمشنر) نے اس ویبنار میں شریک ہونے پر خوشی ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ طلبہ کو امتحان سے ایک رات پہلے اچھی طرح کی نیند ضروری ہے کیوں کہ نیند پوری نہ ہونے کی وجہ سے دماغ سست ہوجاتا ہے اور طلبہ کو اچھی تیاری کے ساتھ خدا پر بھی بھروسہ ہونا چاہئے تاکہ کسی بھی حالت سے نبرد آزما ہوسکیں۔انہوں نے کہا کہ طلبہ کو جذبات طور پر مضبوط ہونا ضروری ہے تاکہ وہ کسی بھی طرح کے حالات کا سامنا کرسکے۔ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اپیلی کیشن تھیوری کو رٹنا نہیں چاہئے کیوں کہ سوال کا طریقہ کار ہر سال بدلتا رہتا ہے بلکہ اس کا تجزیہ کرنا چاہئے تاکہ ووسرے انداز سے آنے والے سوالات کو  وہ حل کرسکیں۔
رحمان تھرٹی کے سربراہ عبیدالرحمان نے طلبہ پر زوردیا کہ وہ ماک ٹسٹ اور آن لائن پریکٹس پر اپنا وقت خرچ کریں تاکہ وہ اعتماد کے ساتھ امتحان دے سکیں اور امتحان کے سوالات حل کرتے وقت کوئی پریشانی نہ ہو۔انہوں نے کہاکہ انہوں سپرتھرٹی سے متاثر ہوکر رحمان تھرٹی قائم کیا ہے تاکہ وہ آئی آئی ٹی، جے ای ای اور نیٹ کے متمنی غریب بچوں کی تیاری کرواسکیں۔انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ جو سوالات آتے ہیں پہلے وہی کریں کیوں کہ نگیٹو مارکنگ سے اسکور خراب ہوجاتا ہے۔
بزم صدف انٹرنیشنل کے چیرمین شہاب الدین احمد نے سپرتھرٹی اور رحمان تھرٹی کی تعریف کرتے ہوئے اے ایم یو الومنائی ایسوایشی ایشن کواس ویبار کے انعقاد کیلئے مبارکباد پیش کی اور مسٹر آنند کمار سے درخواست کی ہے کیا ممکن ہے کہ سپرتھرٹی اور رحمان تھرٹی کے طرز پر قطر اور گلف ممالک میں سنٹر قائم کیا جائے۔ تاکہ یہاں رہنے والے ہندوستانی طلبہ کو اسی طرح تیاری کا موقع مل سکے۔انہوں نے تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہاکہ ہم لوگ اس سلسلے قدم بڑھائیں گے۔
اے ایم یو الومنائی ایسوسی ایشن کی آشنا نصرت نے پروگرام کی نظامت کی اور جنرل سکیریٹری محمد فرمان خاں نے تلاوت قران کے ساتھ پروگرام کا آغاز کیا۔نائب صدرمحمد فیصل نسیم نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔
اس کے اہم شرکاء میں سینئر صحافی عابدانور، اے ایم یو الومنائی مہاراشٹر کے صدر تنویر عالم، ممنون احمد بنگش، رضوان احمد، ہمانشو کمار شرما، ڈاکٹر ارچنا داس، ڈاکٹر توصیف التمش، احمدامتیاز، عرفان انصاری، محترمہ انور سلطانہ، پروفیسر تحسین فاطمہ، جاوید عالم، ڈاکٹر سعود الحسن، مہ جبیں حسین، اسما مرتضی، ہریش چوہان، پرتھم اگروال، نریش کمار اور انجم حسین شامل تھے۔

واضح رہے کہ جے ای ای نیٹ پر منعقدہ اس بین الاقوامی ویبار کا مقصد جے ای ای اور نیٹ کے طلباء کی رہنمائی کرنا تھا اور یہ یقینی بنانا تھا کہ طلبہ اس کی تیاری کیسے کریں، کیسے بغیر کسی ذہنی دباؤ  کے اس ایگزام کی تیاری کریں اور کامیاب ہوں۔مہمان اس سلسلے میں اپنے تجربات کا اشتراک کرتے ہوئے طلبہ کی بھرپور رہنمائی کی۔

Ads