Masarrat
Masarrat Urdu

اسلام اعتدال و توازن کا دین ہے

  • 27 Feb 2021
  • پروفیسر محمد سلیم انجینئر
  • مضامین
Thumb


نائب امیر جماعت اسلامی ہند 
دین اسلام اعتدال کے راستے پر چلنے کو پسند کرتا ہے۔اس مذہب میں افراط و تفریط کو سخت ناپسند کیا گیا  ہے۔ہم تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ بہت سی قومیں محض اس وجہ سے ذلیل و خوارہوئیں کہ انہوں نے دین کے معاملے میں غلو اختیار کیا اور اعتدال کا راستہ چھوڑ دیا تھا۔بنی اسرائیل کے بارے میں قرآن نے بیان کیا ہے کہ انہوں نے اپنے انبیاء کے درجے کو اتنا بڑھا چڑھا کر پیش کیا،گویا کہ وہ انسان کے علاوہ کوئی اور مخلوق تھے، دین میں یہی غلو ہے۔بنی اسرائیل میں اور بھی کئی کمیاں تھیں، وہ اچھائیوں کی ترغیب اور برائیوں سے باز رہنے کے دعوتی عمل سے دور ہو گئے تھے اور جب اللہ کے برگزیدہ انبیاء انہیں دین کی طرف بلاتے تھے تو وہ ان پر زیادتی کرتے اوراذیت پہنچاتے تھے۔ اللہ نے ان کے اس رویے پر اپنی ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔
ہم ماضی کے اقوام کے دینی امور میں غلو کے عمل کو سمجھنے کے لئے تاریخ کو دوا دوار میں تقسیم کرسکتے ہیں۔ ایک دور حضرت عیسیؑ تک کا ہے اور دوسرا دور حضرت محمد مصطفیﷺ کا ہے۔ حضرت عیسیؑ تک کا دور ایسا تھا جب لوگ کسی نبی کو اللہ کی طرف سے بھیجے جانے اور ان کے رسول یا نبی ہونے پر ثبوت کے طور پر کوئی معجزہ دکھانے کا مطالبہ کرتے تھے۔ان کے اطمینان قلب اور ثبوت کے طور پر اللہ نے حضرت موسیٰ  ؑ کو متعدد معجزات عطا کئے۔جہاں تک حضرت عیسیٰ ؑکی بات ہے تو غور کریں تو ان کی پوری زندگی ہی معجزہ تھی۔ ان کی پیدائش  معجزانہ طور پر بغیر باپ کے ہوئی اور ان کا دنیا سے چلا جانا بھی معجزانہ ہی تھا کہ اللہ نے انہیں آسمان پر اٹھا لیا۔یہ اللہ کی عادت میں شامل ہے کہ انبیاء کو ان کی قوموں کے مزاج کے مطابق معجزات سے نوازتا ہے۔جب نبی معجزہ لے کر اپنی قوم میں جاتا ہے تو کوئی انہیں پیغمبر تسلیم کرلیتا ہے اور ایمان والوں میں داخل ہوجاتا ہے اور کوئی اپنے کفر پر قائم رہتاہے۔ ہم نبی آخرالزماں ﷺ سے پہلے حضرت عیسی ؑ کے دور کا جائزہ لیتے ہیں تودیکھتے ہیں کہ جب قوم نے حضرت مریم کو شک کی نگاہ سے دیکھا اور یہ پوچھا کہ یہ بچہ تم نے کہاں سے لیا؟  تو وہی شیر خوار بچہ خلافِ عادت گویا ہوتا ہے اور لوگوں کے سوالات کا جواب دیتا ہے۔یہ بات سب جانتے ہیں کہ حضرت عیسیؑ کو ماننے والے پچیس دسمبر کو کرسمس ڈے اسی مناسبت سے منا تے ہیں۔ انہوں نے حضرت عیسیٰ ؑکے پیغامات اور ان کی تاریخ میں بڑی تبدیلیاں کردیں۔ حضرت عیسیؑ کے صحیح پیغامات کو جاننے کے لئے جب ہم قرآن کریم کی طرف رجوع کرتے ہیں اور حقائق کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں تو جو حقائق سامنے آتے ہیں کہ جس مذہب کی تشکیل ان لوگوں نے کرلی ہے، وہ حقائق سے کوسوں دور ہے۔ ہم یہ بھی جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ آخر اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام اور بنی اسرائیل کا تذکرہ قرآن میں بار بار کیوں کیا ہے؟۔ وہ اس لئے کہ امت مسلمہ اس سے سبق حاصل کرے اور ان راستوں سے بچے جن راستوں پر چل کر بنی سرائیل تباہ و برباد ہوئے۔انہوں نے اپنے دین کو مسخ کر ڈالا، اپنے انبیاء کی سیرتوں کو بگاڑ دیا،  دین میں نئی نئی چیزیں ڈال دیں،  سیرتوں کو بیان کرنے میں غلو کیا اور دین میں ایسے گمراہ کن عقائد شامل کردیے جو اسلام کی بنیادوں سے ٹکراتے ہیں۔
اس وقت پوری دنیا کی آبادی تقریباً ساڑھے سات ارب ہے۔ اس میں تقریباً 31 فیصد حضرت عیسیؑ کو ماننے والے عیسائی ہیں ا ور 23 فیصد مسلمانوں کی آبادی ہے جو تمام انبیاء پر ایمان رکھتے ہیں۔ اگر اس میں یہودی کی تعداد بھی شامل کرلی جائے تو ایک بڑی آبادی یعنی تقریبا 55-56 فیصد آبادی حضرت ابراہیم کا نام لیتی ہے اور ان کو نبی مانتی ہے۔لیکن یہودی اس وقت جس راستے پر چل رہے ہیں،وہ راستہ حق سے ہٹا ہوا ہے۔اس سلسلے میں قرآن کریم ہماری رہنمائی فرماتا ہے اور اندھیرے میں بھٹکنے والوں کو صحیح راستہ دکھاتا ہے۔ حضرت عیسیؑ جن کو عیسائیوں نے خدا کا بیٹامان لیا، یہ ایک بہت بڑی غلطی ہے اور ایک نبی سے عقیدت میں غلو ہے جسے مذہب اسلام سخت ناپسند کرتا ہے۔ قرآن کریم سورہ مریم میں تفصیل سے حضرت عیسیؑ اور ان کی والدہ محترمہ حضرت مریم کا تذکرہ کرتا ہے۔یہاں تک کہ قرآن نے یہ بھی بتادیا ہے کہ لوگ حضرت مریم  پر کیسے الزام لگا رہے تھے اور اس وقت حضرت مریم کا رویہ کیا تھا ۔اللہ کے اشارے پر حضرت مریم نے کتنے صبرو تحمل سے اس درد کے پہاڑ کو برداشت کیا۔ قرآن کریم پورے واقعہ کو اس انداز میں بیان کرتا ہے کہ ”یا اخت ھارون، الخ ”اے ہارون کی بہن تمہارا باپ کوئی برا آدمی نہیں تھا اور تمہاری ماں بھی بدکار عورت نہیں تھی، حضرت مریم نے اللہ تعالیٰ کے اشارے پر حضرت عیسیؑ کی طرف اشارہ کیا۔ حضرت مریم خاموش رہیں۔ اس الزام کا کوئی جواب نہیں دیا، بلکہ بچے کی طرف اشارہ کیا، لوگوں نے کہا کہ گود کے بچے سے ہم کیسے بات کریں، حضرت مریم نے کہا کہ یہی بتائے گا“۔ 
یہ ایک حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے خاص قوانین کو خاص حالات میں بدل دیتا ہے۔ حضرت عیسی ؑ جو ابھی گو دمیں ہیں، ان کی زبان سے حقیقت کو کہلوا دیا کہ ”میں اللہ کا بندہ ہوں، مجھے کتاب عطا کی گئی ہے اور مجھے نبی بنایا گیا ہے، اس نے مجھے بابرکت بنایا جہاں بھی رہوں اور اس نے مجھے نماز اور زکوہ کا حکم دیا جب تک کہ میں زندہ رہوں، مجھے والدہ کا فرمانبردار بنایا اور مجھے سرکش اورسنگدل نہیں بنایا، سلام ہے مجھ پر جبکہ میں پیدا ہوا، جبکہ میں مروں اور جبکہ میں زندہ کرکے اٹھایا جاؤں“۔ یہی ہے حضرت عیسی ابن مریم کے بارے میں حقیقت اور سچائی جس کے بارے میں لوگ شک میں پڑے ہوئے ہیں اور بغیر باپ کی پیدائش پر انہیں اللہ کا بیٹا کہنے کا گناہ کررہے ہیں جبکہ اللہ نے یہ معجزہ دکھایا ہے اور بغیر باپ کے پیدا کرکے اپنی قدرت کا مظاہرہ کیا ہے۔قرآن مجید میں ایک موقع پر اسی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ”یہ لوگ آدم کی پیدائش پر غور کریں جنہیں اس نے بغیر ماں اور باپ کے پیدا کرکے اپنی قدرت کا اظہار کیا ہے“۔ جو اللہ بغیر ماں اور باپ کے حضرت آدم کی تخلیق کرسکتا ہے تو وہ بغیر باپ کے حضرت عیسیٰ کو پیدا کرنے پر بھی قادر ہے۔ حضرت عیسیؑ اللہ کے بندے اور اس کے رسول  تھے۔انہوں نے اپنی قوم میں توحید کی دعوت پیش کی۔ان کی دعوت پر بہت کم تعداد میں لوگ ایمان لائے۔جبکہ اللہ نے انہیں بیماروں (ابرص) کو صحب یاب کرنے، مردہ کو زندہ کرنے کا معجزہ عطا کیا تھا۔یہ معجزہ اس دور کی قوم کو ان کی نبوت پر یقین کرنے کے مقصد سے دیا گیا تھا،پھر بھی وہ تذبذب کا شکار رہے اور ان کے درجے اور مرتبے کو بیان کرنے میں اتنا غلو کیا کہ انہیں اللہ کا بیٹا کہہ دیا جو کہ قطی غلط تھا اور اس طرح کے غلو کو دین اسلام سختی سے روکتا ہے۔
 دوسرا دور  حضور ﷺ کاہے۔ آپ ؐ  کی بعثت تک انسانی سماج کی فکرو شعور کا ارتقاء اس قدر ہوچکا تھا کہ اب اس طرح کے معجزات کی ضرورت نہیں تھی۔حضورؐ کا دور علم و تحقیق، دلائل  اور سائنسی و عقلی سوچ کا دور تھا۔ لہٰذا قرآ ن مجید میں اسی طرز ِ استدلال کو اختیار کیا گیا ہے۔ اللہ قوموں کے مزاج اور اس کی سوچ سے خوب واقف ہے، اسی لئے اس نے رسول پاکؐ کے دور میں علمی دلائل کے طور پر قرآن کریم کا معجزہ اپنے حبیبؐ  کو عطا کیا۔ قرآ ن ایک ایسا علمی معجزہ ہے جو فصاحت و بلاغت سے لبریز ہے جسے اس دور کے ادباء نے تسلیم کیا اور اس معجزاتی کتاب کے بارے میں بڑے بڑے عرب شعراء  یہ کہنے پر مجبور ہوئے کہ ”لیس ھذا من کلام البشر“ یعنی  یہ کسی انسان کا کلام نہیں ہوسکتا۔ اس معجزاتی کلام کو اللہ نے قیامت تک کے لئے بنی نوع انسان کے لئے کامل رہنما  ئی کا ذریعہ بنا دیا۔ اگر ہم اس کا مطالعہ کریں تو اندازہ ہوگا کہ اللہ نے جس دین کو چنا ہے یعنی دین اسلام، اس دین کے ماننے والوں سے مکمل اعتدال کا تقاضہ کیا گیا ہے اور ماضی کی اقوام کی طرح افراط و تفریط اور غلو سے بچنے کی تلقین کی گئی ہے۔ یہ اعتدال زندگی کے ہر شعبے میں قائم رہنا چاہئے، اسی میں دنیا و آخرت کی کامیابی ہے۔ 

 

Ads