Masarrat
Masarrat Urdu

اسلام کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈہ، اشتعال انگیزی اور اسلامی اخلاق

  • 31 Jan 2021
  • پروفیسر محمد سلیم انجینئر
  • مضامین
Thumb


نائب امیر جماعت اسلامی ہند
 انبیاء کرام اپنی قوم اور نوع انسانی کے خیر خواہ ہوتے ہیں،مگر ہر دور میں ان کو انسانوں کا بدخواہ قرار دینے کی کوشش کی گئی۔وہ اللہ تعالیٰ کی بندگی کا جوپیغام لاتے تھے، اس پیغام کو انسانیت کے خلاف قرار دینے کی سعی کی گئی۔خود حضور ر ﷺ کے بارے میں مشرکین مکہ اور برادران قریش یہ الزامات لگاتے رہے کہ یہ شخص جو نیا دین پیش کررہا ہے، یہ ہمارے معاشرے کو تقسیم اور ہمارے خداؤں کی توہین کررہا ہے۔ اس کے اس عمل کی وجہ سے سماج میں فتنہ و فساد برپا ہوگیا ہے(نعوذ باللہ)۔ان واقعات سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ انسانوں کے خیر خواہوں کو انسانیت کا بدخواہ قرار دینے کی کوششیں نئی نہیں ہیں، ہر دور میں ایسا ہوتا رہا ہے بالخصوص انبیاء کرام کو اس کا زیادہ سامنا کرنا پڑا۔دین اسلام جو تمام انسانوں کو اللہ کی بندگی کی دعوت دیتا ہے اورنبی آخر الزماں جو کائنات کے لئے رحمت بنا کر بھیجے گئے اور قرآن کریم جو زندگی کے ہر شعبے میں رہنمائی کرتا ہے، ان کی تعلیمات ہمیں بتاتی ہیں کہ کسی گروہ کی دشمنی ہمیں اتنا مشتعل نہ کردے کہ عدل و انصاف کا دامن چھوٹ جائے۔ دشمن کے ساتھ بھی عدل و انصاف کرنا اسلام کی تعلیمات ہیں۔ان تعلیمات میں اور حضور ﷺ کی سیرت مبارکہ میں بے شمار ایسے پہلو ہیں جو ہماری رہنمائی بھی کرتے ہیں، ہمارا حوصلہ بھی بڑھاتے ہیں اور خوشخبری بھی دیتے ہیں،وہی خوشخبری جو قرآن مجید میں اہل ایمان کو اور انبیاء کرام کو دی جاتی رہی ہے۔یہ بات ذہن نشیں رہے کہ حق پرستوں کے خلاف اور حق کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈہ کرنا متعصب ذہنیت کی پرانی روایت ہے۔ حضور اکرم ؐکے زمانے میں اور بعد کے ادوار میں بھی حق کے خلاف خوب جھوٹ بولا گیا،مگر جھوٹ جتنا زیادہ بولا گیا حق اتنا ہی لوگوں کے ذہن و دل میں اترتا چلا گیا۔ حق کو چھپانے اور دبانے کے لئے جتنی رکاوٹیں ڈالی گئیں اور مخالفتیں کی گئیں، اللہ تبارک تعالیٰ نے انہی مخالفتوں اور رکاوٹوں کو اسلام اور حق کی دعوت کو پھیلنے کا ذریعہ بنادیا۔ مکہ مکرمہ میں جب اطراف سے قافلے حج کے لئے آتے تھے تو آپؐ ان کے درمیان جاکر دعوت پیش کرتے تھے لیکن سرداران مکہ آپؐ کے پیچھے پیچھے جاتے اور لوگوں کوکہتے کہ یہ شخص جو باتیں کہہ رہا ہے اس کی باتیں مت سننا، یہ جادو گر ہے، اس نے ایک نیا دین پیش کیاہے، اس نے آپس میں تفرقہ پیدا کیا ہے۔انجام کیا ہوا؟ تاریخ شاہد ہے کہ انہی مخالفتوں میں سے اسلام کی دعوت کو پھیلنے کا راستہ نکلا۔آج کے حالات بھی تب سے جدا نہیں ہیں۔آج بھی اسلام مخالف قوتیں دعوتی عمل کو روکنے کی مسلسل کوششیں کررہی ہیں اور اسلام کو دہشت گرد اور دہشت گردی کا مذہب قرار دینے کے درپے ہیں۔
موجود دور میں نئے نئے انداز سے اسلام کو دہشت گرد مذہب قرار دینے کے منصوبے بنائے جارہے ہیں۔ذرا کچھ سال پیچھے جائیں تو اس کا بخوبی اندازہ لگ سکتا ہے۔ نائن الیون کا واقعہ ہماری تاریخ کے صفحات کا بدترین باب ہے۔ یقینایہ واقعہ بہت افسو سناک تھا، جس میں تقریباً تین ہزار جانیں گئیں۔ اللہ کی نگاہ میں ہر جان کی قیمت ہے۔ قرآن مجید کی’سورہ المائدہ‘ میں یہ بات واضح طور پر کہی گئی ہے کہ”جس نے کسی معصوم اور بے گناہ کا قتل کیا، اس نے گویا تمام انسانوں کا قتل کیا اور جس نے کسی ایک انسان کی جان بچائی گویا اس نے تمام انسانوں کی جان بچائی“۔ معصوم و بے گناہ لوگوں کی جانیں لینا کسی بھی طرح سے جائز قرار نہیں دیا جاسکتا، چاہے یہ کام کوئی بھی کرے اور کسی کا نام لے کر کرے۔ امن پسند لوگوں نے بالخصوص اسلام کے ماننے والوں نے اس واقعہ کو انسانیت کے خلاف ایک بڑا جرم قرار دیا۔لیکن ہم نے دیکھا کہ اس کے بعد حالات اس طرح سے تبدیل ہوتے گئے کہ ایسا محسوس ہوا گویا کہ یہ سب منصوبہ بند واقعہ تھا۔ 7 اکتوبر 2001 کو دنیا کے سپر پاور نے’وار ان ٹیرر‘ کا آغاز کیا اور افغانستان کو ملبے میں تبدیل کرنے کی کوشش کی اور تقریباً کردیا۔ بے شمار بے گناہوں کی جانیں گئیں اورمعصوم انسانوں کاخون بہا، یہ بہت تکلیف دہ ہے۔اس واقعے کی جتنی تحقیق کی گئی اتنے زیادہ سوالات پیدا ہوئے اور یہ سوالات امریکہ کے ہی دا نشوروں اور سائنس دانوں نے اٹھائے۔ اُن دنوں جو مضامین اخبارات اور رسالوں میں لکھے گئے،ان میں ایک بہت مشہور کالم نگار اور سماجی کارکن نے لکھا کہ سوئی کی تلاش میں پورے کھلیان کو آگ لگادینا کہاں تک جائز ہے؟ افغانستان پر لگایا گیا الزام کتنا سچ تھا، یہ اب دنیا اچھی طرح سمجھ رہی ہے اور اس کے فوراً بعد اسے اسلامک دہشت گردی کا نام دے دیا گیا۔ اس واقعہ کے بعد متعدد واقعات رونما ہوئے۔ 2003 میں عراق پر حملہ کردیاگیا۔اس میں ہزاروں بے گناہوں کی جانیں گئیں۔ پھر ہمارے ملک میں بھی کئی ایسے واقعات ہوئے جن کے بارے میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ واقعات بھی ان سے ملتے جلتے تھے۔ 2002 کو گودھرا میں ایک ٹرین جلائی گئی، یقینا اس میں بے گناہوں  کا قتل ہواجو ایک گھنونا جرم تھا، جسے کوئی جائز قرار نہیں دے سکتا۔ لیکن اس کے بعد گجرات میں جو کچھ ہوا،ا س سے بات سمجھ میں آتی ہے کہ یہ پوری کہانی اور قصہ کیا ہے؟ پھر اس کے بعد 2005 اور اس کے بعد لگاتار دہشت گردی کے واقعات ہوئے۔ ہماری پارلیمنٹ پرحملہ ہوا۔ تاج ہوٹل میں 60 گھنٹے تک دہشت گردانہ حملہ جاری رہا جس کو ساری دنیا نے لائیو ٹیلی ویژن پر دیکھا۔ان سب کے پیچھے جو باتیں سمجھ میں آتی ہیں اور قرآن کریم سے اور حضورؐپاک کی سیرت مبارکہ سے جو واضح رہنمائی ہم کو ملتی ہے، وہ یہ کہ یہ حالات اہل ایمان کے لئے نئے نہیں ہیں۔لیکن بلا شبہ ان حالات سے ہی دعوت و حق کی راہیں نکلتی ہیں۔ ان واقعات کے بعد لوگوں نے غورو فکر کرنا شروع کیا، لوگوں کے ذہن کھلے اور سوچنا شروع کیا کہ آخر اسلام کے بارے میں جو کچھ کہا جارہا ہے، وہ ہے کیا؟ اسلا م پر ایک بحث اور گفتگو شروع ہوئی۔ اس طرح اسلام کو سمجھنے کے اور زیادہ مواقع پیدا ہوئے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے شر میں سے بھی خیر کے پہلو نکال کر دعوت و حق کے پھیلنے کے امکانات پیدا کردیتا ہے۔
ایسے مواقع پر جب حق کے خلاف جھوٹ بولا جائے اور حق کو بدنام کرنے کی کوشش کی جائے یاحق پرستوں کو اشتعال دلانے کی کوشش کی جائے،ان کو اکسایا جائے، تو اہل ایمان کا طریقہ کیا ہونا چاہئے؟ قرآن کریم کی سورہ”حٰم سجدہ“ ہماری رہنمائی کرتی ہے جس میں یہ بات کہی گئی ہے کہ برائی کو بہترین بھلائی کے ذریعہ دفع کرو۔ شاید کہ جو تمہارا دشمن ہے وہ بھی تمہارا دوست بن جائے اور جب کبھی تم شیطان کی اکساہٹ محسوس کرو تو اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہو۔ اللہ تعالیٰ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے۔ آج اس طرح کی کوششیں برابر ہورہی ہیں اور اہل ایمان کو اشتعال دلانے کی نت نئی کوششیں جاری ہیں۔2005 میں اور اس کے بعد 2015 میں حضور اکرمؐ کی تصویر کو خراب کرنے کے لئے ایک میگزن میں ان کے کارٹون بنائے گئے اور اسی میگزن نے دوبارہ گزشتہ سال ماہ ستمبر میں اس کا رٹون کو پھر سے شائع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ یقینا اس طرح کی کوششیں ہمارے جذبات کو ٹھیس اور دلوں کو تکلیف پہنچاتی ہیں۔ لیکن اللہ کے رسولؐ کی سیرت مبارکہ اور قرآن کریم کی روشنی ہماری یہ رہنمائی کرتی ہے کہ ایسے حالات میں مشتعل نہ ہوں اور کوئی ایسا طریقہ نہ اختیار کریں جو اسلامی تعلیمات اور ملک کے قوانین کے خلاف ہوں۔ناراضگی اور احتجاج کے پرامن اور آئینی طریقے اختیار کئے جائیں اور ایسا کرنا ہمارا حق ہے۔ اللہ پر توکل اور حضور ؐکے اخلاق حسنہ کی پیروی کرتے ہوئے صبرو تحمل سے کام لیا جائے اور دلائل کی بنیاد پر ان چیزوں کا جواب دیں تاکہ سب کے سامنے واضح ہوجائے کہ حضورؐ کی شخصیت تمام انسانوں کے لئے، ساری دنیا کے لئے ایک رحمت ہے۔لہٰذا اسلامی اخلاق اور سیرت رسولؐ کی پیروی کرتے ہوئے اپنی دعوت کو لوگوں کے سامنے پیش کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہئے

 

Ads