Masarrat
Masarrat Urdu

ملک کے موجودہ حالات اور کامیابی کے امکانات

  • 18 Jan 2021
  • پروفیسر محمد سلیم انجینئر
  • مضامین
Thumb

 

نائب امیر جماعت اسلامی ہند
  اس وقت پوری دنیا خاص طور سے ہمارا ملک اور ہمارے ملک میں بسنے والی امت مسلمہ جن حالات کا سامنا کر رہی ہے، ان حالات میں یہ سوال بار بار ہمارے ذہنوں میں آتا ہے کہ ان حالات میں ہمارا رویہ اور ہمارا لائحہ عمل کیا ہونا چاہئے، ہم کیا کریں اور کیا نہ کریں؟ظاہر ہے ایسے حالات میں ہماری ہدایت و رہنمائی کے لئے صرف دو ذرائع ہیں۔ کتاب اللہ اور رسول اللہؐ کا اسوہ حسنہ۔ہمیں خاص طور سے اللہ کی کتاب میں غور کرنا چاہئے اور دیکھنا چاہئے کہ ایسے حالات میں انبیاء کرام نے اپنی امت کی کیا رہنمائی کی۔قرآن مجید کے سورہ قصص آیت نمبر 39-40  میں اسی کا تذکرہ ہے۔آگے سورہ’عنکبوت‘ اور پھر سورہ’نازیات‘ میں بھی اسی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ جب حکمراں طبقہ تکبر اور گھمنڈ میں مبتلا ہوجاتاہے تو اس وقت وہ انسانوں کو حقیر سمجھنے لگتا ہے اور اپنے تکبر و گھمنڈ میں اتنا اندھا و بہرہ ہوجاتاہے کہ اسے لوگوں کی آواز یں سنائی نہیں دیتیں، آنکھوں پر پردہ پڑ جاتاہے۔ وہ اپنے زعم باطل میں اتنا خود سر ہوجاتا ہے کہ جب اس سے کوئی سوال کرتا ہے، اس کے رویے پر انگلی اٹھاتا ہے، اس کی ناانصافیوں اورمظالم کی طرف اشارہ کرتا ہے تو وہ اسے خاموش کرنے کی، دبانے اور کچلنے کی کوشش کرتاہے۔ جب کسی حکمراں طبقے کا یہ رویہ سامنے آنے لگے تو سمجھئے کہ اب اس کے پاس دلائل ختم ہوچکے ہیں اور کہنے کے لئے اس کے پاس کوئی معقول بات نہیں ہے۔اس لئے وہ اپنے خلاف اٹھنے والی آواز کو دبانے اور کچلنے کی کوشش کرتا ہے اور پھرا س کی ان حرکتوں کی وجہ سے زمین پر فتنہ و فساد برپا ہونے لگتا ہے۔


فرعون کے رویے کا تذکرہ قرآن کریم میں ملتا ہے۔یہ تذکرہ آج کے حالات پر ہماری رہنمائی کرتا ہے کہ فرعون نے تکبر کیا، اس نے اپنے آپ کو سب سے بڑا سمجھ لیا اور یہاں تک کہہ دیا کہ ”میں ہی تمہار ا رب ہوں“۔ وہ ظلم کے راستے پر آگے بڑھتا گیا اور اپنی حکومت کو باقی و قائم رکھنے کے لئے عوام میں تفریق پیدا کی اور انہیں گروہوں اور طبقات میں بانٹا، ان کے درمیان نفرتیں اور عداوتیں پیدا کی۔ تاکہ اس کا اقتدار باقی رہے، لیکن قرآن کریم کی آیتیں ہماری رہنمائی کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ ایسے ظالم حکمراں اور حکمراں کی ٹولیوں کو سنبھلنے، اپنی اصلاح کرنے اور ظلم و بربریت سے پلٹ آنے کی مہلت دیتا ہے۔ لیکن جن کی عقلوں پر تکبر کا پردہ پڑ چکا ہو تو وہ اس موقع کو ضائع کردیتے ہیں اور پھر اللہ کاضابطہ اور اصول کام کرتا ہے اور ان کی ذلت و پسپائی کا آغاز ہوجاتا ہے۔ قرآن مجید ہمیں بتاتا ہے کہ فرعون نے حضرت موسیؑ کو جھوٹا ثابت کرنے کے لئے اور لوگوں کو اس غلط فہمی میں مبتلا کرنے کے لئے کہ موسیؑ نبی نہیں ہیں،سازشیں کی اور جادوگروں کو اکٹھا کیا، لیکن انجام کیا ہوتا ہے؟ وہی جادو گر جو حکومت کے بلاوے پر آئے تھے جب ان کے سامنے حق آگیا اور صداقت کی روشنی نظر آگئی توسب کے سب جادوگر سجدے میں گر پڑے۔ انہوں نے پرواہ نہیں کی کہ بادشاہ کا ان کے ساتھ سلوک کیا ہوگا اورسب نے بیک زبان اعلان کردیا کہ ہم موسیؑ اور ہارون کے رب پر ایمان لاتے ہیں۔ 
 ہمارے ملک میں شاید اس مرحلے کی آہٹ ہونے لگی ہے۔ برسراقتدار طبقہ نے وہ مہلت گنوادی ہے اور اللہ نے انہیں جو مہلت دی تھی اسے ضائع کردیا ہے اور اس مرحلے کی طرف تیزی سے بڑھ رہے ہیں جو زوال کا، ذلت کا اورپسپائی کامرحلہ ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو توفیق اور عقل دے کہ وہ سچائی کی طاقت کو پہچان سکیں۔ ہمارے حکمراں اور ان کے ساتھ لگا ہوا ملک کا ایک چھوٹا سا گروہ (میں چھوٹا سا گروہ اس لئے کہتا ہوں کہ ابھی بھی ملک کی بڑی آبادی ان کے ساتھ نہیں ہے، انصاف پسند لوگوں کی تعداد ملک میں بہت زیادہ ہے۔ مگر وہ خاموش ہیں لیکن وہ وقت جلد آئے گا جب یہ خاموشی ٹوٹے گی) جو اُن کے ٹولے میں نظر آتے ہیں،انشاء اللہ وہ بھی کچھ وقت کے بعد حق و انصاف کے ساتھ نظر آئیں گے۔ 
اس ملک میں ہماری دو حیثیتیں ہیں۔ ایک حیثیت ہماری یہ ہے کہ ہم امت مسلمہ کا حصہ ہیں، ہم امت مسلمہ کے افراد ہیں۔ہم ایک امت ہیں،کوئی گروہ نہیں ہیں۔ہمارا ایک مشن ہے،منصوبہ ہے۔  اس مشن اور منصوبے کو ہم نے نہیں بلکہ ہمارے خالق نے طے کیا ہے اور اسی منصوبے کے تحت ہمیں اس ملک میں بسایا ہے۔تو ہماری ایک حیثیت امت مسلمہ، خیر امت اور داعی امت کی ہے۔ ہماری دوسری حیثیت اس ملک کے ایک ذمہ دار شہری کی ہے۔ یہ بات واضح رہے کہ ہماری ان دونوں حیثیتوں میں ٹکراؤ نہیں ہے،نہ کوئی تضاد ہے۔بلکہ یہ دونوں حیثیتیں ایک دوسرے کو تعاون کرتی ہیں اور ایک دوسرے کے تقاضوں کو مکمل اور مضبوط کرتی ہیں۔ آج چند لوگوں کی طرف سے جو حالات پیدا کردیئے گئے ہیں،  ان حالات میں ہماری یہ ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے داعیانہ اور خیر امت ہونے کی حیثیت کو پرقرار رکھتے ہوئے اس ملک میں ایک ذمہ دار شہری ہونے کا حق ادا کریں اور جن بنیادوں پر اس ملک کی تشکیل ہوئی ہے ان کی حفاظت کریں۔ وہ بنیادیں ہمارے ملک کے آئین کے وہ اقدار ہیں، وہ ویلیوز ہیں جن میں عدل و انصاف، مساوات،، فکر کی آزادی، عمل کی آزادی، مذہب پر عمل کرنے کی آزادی وغیرہ کی باتیں کہی گئی ہیں اور اسی بنیاد پر آئین کی تشکیل ہوئی ہے۔ مگر آج انہی بنیادوں پرضرب لگائی جارہی ہے۔اس کا خمیازہ پورے ملک کو اور اس کے 137 کروڑ عوام کو بھگتنا پڑے گا اور پڑ رہا ہے۔ ہماری یہ ذمہ داری ہے کہ ملک پر جو یہ خطرہ منڈلا رہا ہے، اس کا مقابلہ ہم بحیثیت مسلمان کریں اوریہاں کے عوام کے ساتھ مل کر جدو جہد جاری رکھیں ۔کیونکہ ملک کو غلط راستے پر جانے سے بچانے کی کوشش کرنا ہماری دینی، اخلاقی اور ایمانی فریضہ اور ذمہ داری ہے۔ ہم قرآن و حدیث کی روشنی میں اللہ پر توکل اور بھروسہ کرکے ان حالات کا مقابلہ کریں اور اس ملک کو غلط راستے پر جانے سے روکیں اور اس ملک کی بھلائی و خیر خواہی کے لئے جو ممکن ہے وہ سب مل کرکریں جو کہ ہمارا مقصد و مشن بھی ہے اور قرآن کا مطالبہ بھی ہے کہ اس ملک کے عوام تک اللہ کا پیغام، اللہ کی بندگی کاپیغام، اسلام کے عدل و انصاف کا پیغام اور اس کے نظام کا تعارف عوام کے سامنے ہو۔ اللہ ہم سب کی رہنمائی کرے اور ہر ہرقدم پر حوصلہ و طاقت عطا فرمائے۔  

 

Ads