Masarrat
Masarrat Urdu

لو جہاد! حقیقت یا فسانہ

  • 21 Dec 2020
  • مفتی محمدعبدالرحیم نشترؔفاروقی
  • مضامین
Thumb


آرایس ایس ،وشوہندوپریشداوران کے بطن سے جنم لینے والی بی جے پی کی اسلام اورمسلم دشمنی اب کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں رہی ،آئے دن ہندوجاگرن منچ ،ہندومہاسبھا،بجرنگ دل اورہندویوواواہنی جیسی ان کی ذیلی انتہاپسندتنظیمیں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف زہرافشانی کرتی رہتی ہیں، اس کے لئے اگر انھیں کوئی چھوٹی سی بھی وجہ مل جائے توپھرکیاکہنے ! نہیں تویہ کوئی بھی من گڑھت کہانی بنالیتی ہیں اورمسلمانوں کے خلاف اپنی اشتعال انگیزی کے ذریعہ ملک کی پرامن فضاکومسموم کرنے کی مذموم کوشش میں لگ جاتی ہیں۔
اسی طرح آج کل مسلمانوں کوٹارگیٹ کرنے کے لئے مذکورہ فرقہ پرست تنظیموں نے ’’لوجہاد‘‘کی ایک مصنوعی اوراختراعی اصطلاح ایجادکرلی ہے ،جسے وہ اس’’ مسلم لڑکے‘‘پرچسپاں کرتے ہیں جو کسی ’’ہندولڑکی ‘‘سے شادی کرتاہے،حالانکہ ایساکرنے والا لڑکا ’’جہاد‘‘توبڑی بات! پہلے کلمے کامعنی بھی شایدوبایدہی جانتا ہوگا ، کیوں کہ ’’جہاد‘‘کوسمجھنے والالڑکاکسی دوسرے مذہب کی لڑکی سے شادی کرہی نہیں سکتا، ایسی کسی بھی شادی کواسلام تسلیم نہیں کرتا جو الگ الگ مذہب کے ماننے والے مردوعورت کے درمیان واقع ہو۔
اسلام میں نکاح یاشادی کے لئے بڑے واضح احکامات موجودہیں، جن میںیہ بات قابل ذکر اور اہمیت کی حامل ہے کہ نکاح کرنے والے مسلمان مردوعورت کے درمیان اگر’’کفائت‘‘ کافقدان ہے تویہ نکاح نہیں ہوسکتا، یعنی مذہب وملت کے بعد حسب ونسب، مال ودولت، تقویٰ وطہارت میں لڑکا لڑکی والوں کے ہم پلہ ہو، اگرلڑکا ان میں سے کسی بھی اعتبارسے ایساہے جس سے لڑکی والے شرم وعار اور ہتک وذلت محسوس کریں تو یہ نکاح نہیں ہوسکتا۔
ذراغورکریں کہ جس مذہب نےاپنے ماننے والوں کے درمیان بھی شادی کےلئے لڑکی والوں کی عزت وعظمت کااس قدرپاس ولحاظ رکھا ہو، وہ کسی دوسرے مذہب والوں کی لڑکی سےشادی کی اجازت کیسے دے سکتاہے؟ اس سے صاف واضح ہوتاہے کہ اسلام میں ’’لوجہاد‘‘جیسا کوئی بھی تصور نہیں، یہ محض اسلام مخالف انتہا پسند تنظیموں کی نفرت بھری ذہنیت کی پیداوار ہےجس کامقصدملک میں آپسی بھائی چارہ کی خوشگوارفضاکو زہر آلود کرناہے، یہ ایک سیاسی ہتھکنڈاہے جس کا استعمال ملک میں نفرت کی آگ بھڑکا کر اپنی سیاسی روٹی سینکنے کے لئے کیاجارہا ہے، اس سے زیادہ اس کی کوئی حقیقت نہیں۔
وطن عزیز اس وقت معاشی و اقتصادی بحران، مہنگائی اور بے روزگاری کی مار، کسانوں کی خودکشی اورکورونا وبا کا شکار ہے، ملک کواس مشکل دورسے نکالنے کے بجائےبی جے پی کی مرکزی اورصوبائی حکومتیں’’لوجہاد‘‘پرقانون بنانے میں لگی ہوئی ہیں، ویسے تواسلام مخالف طاقتیں’’ لوجہاد‘‘ کا شور شرابہ کافی دنوں سے کر رہی ہیں لیکن حالیہ دنوں میں ہریانہ کی ’’نکِتا‘‘ کامعاملہ سامنے آنے کے بعد جس طرح ’’لو جہاد‘‘ کا پروپیگنڈہ کیا گیا اور اترپردیش سمیت بھاجپا کی زیر حکومت کئی ریاستوں میں ’’لو جہاد‘‘ کے خلاف قانون بنادیئے گئے یا بنائے جارہے ہیں، اس سے ایک عام آدمی کے ذہن و دماغ میں یہ شک وشبہ ضرور پیدا ہوگا کہ کیا واقعی اسلام میں ’’لو جہاد‘‘ کا کوئی تصور موجود ہے جس سے متأثر ہو کر مسلم لڑکے غیر مسلم لڑکیوں سے محبت کا جھانسہ دے کر، اپنانام بدل کر شادی کریں پھر انھیں اپنا مذہب چھوڑ کر اسلام قبول کرنے پر مجبور کریں۔
اب آئیے یہ بھی جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ کیا اسلامی نقطۂ نظر سے کسی کو اسلام قبول کرنے کے لئے مجبور کیا جاسکتا ہے؟ اس سلسلے میں قرآن پاک صاف لفظوں میں یہ اعلان فرما رہا ہے کہ ’’ لَآ اِکرَاہَ فِی الدِّینِ۔ یعنی اسلام میں کوئی زبردستی نہیں ‘‘ اس آیت کریمہ سے یہ امر روز روشن کی طرح عیاں ہوگیا کہ اسلام قبول کرنے کے لئے کسی کومجبور نہیں کیا جاسکتا، رہی بات کسی کو دھوکہ دے کر شادی کرنے کی! تودھوکہ دے کرکوئی مسلم لڑکاکسی مسلم لڑکی سے بھی شادی نہیں کرسکتا، ایسے میں کسی دوسرے مذہب کی لڑکی کے ساتھ دھوکہ بازی سے شادی کا جواز ہی نہیں پیدا ہوتا، مزیدیہ کہ اگر کوئی مسلم لڑکا خود کو ہندو بتا کر ہندو لڑکی سے یا عیسائی بتاکر عیسائی لڑکی سے یا سکھ بتا کر سکھ لڑکی سے یا کسی اور دھرم کی لڑکی سے شادی کرتا ہے تو یہ شادی سرے سے ہوگی ہی نہیں، الٹا اس لڑکے کا ایمان خطرے میں پڑ جائے گاکہ وہ خودکو ہندویا عیسائی یاسکھ بتاکر اسلام سے خارج ہوگیا۔
یہ کتنی مضحکہ خیزبات ہے کہ ’’لوجہاد،لوجہاد‘‘وہ چلّارہے ہیں جو سرعام اپنے اسٹیجوں سے مسلم لڑکیوں کوپھانسنےکااعلان کر رہے ہیں،ہندو لڑکوں کو چھ مہینے میں2100؍مسلم لڑکیوں کو ورغلا کرشادی کرنے کا ٹارگیٹ دے رہے ہیں اور ایساکرنے والے ’’فسادیوں‘‘کو دودولاکھ روپئے کے نقد انعام اورقانونی مدد فراہم کرنے کی پیش کش کر رہے ہیں، یہ کیسی دوغلی پالیسی ہے کہ ایک طرف جہاں’’لودجہاد‘‘کاکوئی تصور بھی نہیں، وہاں تو اس عمل کو ’’لوجہاد‘‘قرار دیا جا رہا ہے اور جہاں سرعام ’’لوجہاد‘‘کے ارتکاب کی ترغیب دی جارہی ہے، اس کے لئے ہندو لڑکوں کو اکسایا جا رہا ہے، وہاں ان فرقہ پرستوں کی زبان کولقوہ مار دیتا ہے ۔  ع
 جنوں کا نام خردرکھ دیا خردکانام جنوں
جوچاہے آپ کا حسن کرشمہ سازکرے
اس لئے ہمیں ’’لو‘‘کو’’جہاد‘‘سے جوڑنے پرسخت اعتراض ہے، ہم اس کی سخت مخالفت اورمذمت کرتے ہیں، لوجہادلو جہاد چلّانے والے یہ فرقہ پرست ثابت کریں کہ یہ لفظ انھوں نے کہاں سے لیا اور کیوں استعمال کیا؟کس مولوی یا کس مسلم  نے ان کی طرح سرعام اس کااعلان کیا یا ایسی بات بھی کی؟ اورکس نے مسلم لڑکوں کو ایسا کرنے کے لئے لاکھوں روپئے انعام کا لالچ دیا؟ہمارا چیلنج ہے کہ فرقہ پرستوں کاکوئی بھی مائی کالال قیامت تک یہ ثابت ہی نہیں کرسکتا۔
واضح ہوکہ جب بھی کوئی مسلم لڑکے اور ہندو لڑکی کی شادی کامعاملہ سامنے آتاہے فوراً کسی مردارپرٹوٹ پڑنے والے گِدھوں کی طرح فرقہ پرست تنظیموں کا ہجوم اکٹھا ہو جاتا ہے اور سارے قاعدے قانون بالائے طاق رکھ کرپولیس کے سامنے لڑکے اورلڑکی کو ڈرانا دھمکانا یہاں تک کہ مارنا پیٹا بھی شروع کر دیا جاتا ہے اور پولیس کسی زر خرید غلام کی طرح ان کی جی حضوری کرتی نظر آتی ہے اور اگر معاملہ اس کے برعکس ہویعنی لڑکی مسلم اورلڑکا ہندوہو تو نہ مسلم تنظیموں کاپتہ ہوتاہے نہ ہی لڑکی کے اہل محلہ کا! بے چارے والدین اوربھائی بہن تھانے کارخ کرتے بھی ہیں توڈرے سہمے سے، اس وقت فرقہ پرست غنڈوں کے سامنے بھیگی بلّی نظرآنے والی یہی پولیس ’’شیرببر‘‘بن جاتی ہے اورکوئی کارروائی کرنے کے بجائے انھیں بھدّی بھدّی گالیاں دے کرتھانے سے باہرکردیتی ہے اورزیادہ بات کرنے پر’’اندر‘‘ کر دینے کی دھمکی دے دینے سے بھی باز نہیں آتی۔
مسلم تنظیموں کاکسی مسلم لڑکے اورہندولڑکی کی حمایت یا کسی مسلم لڑکی اور ہندو لڑکے کی مخالفت میں کھڑا نہ ہونااس بات کا جیتا جاگتا ثبوت ہے کہ ان کی یہ حرکت ان کا اپنا ذاتی عمل ہے، اس کا اسلام اورمسلمانوں سے دور دور کا کوئی واسطہ نہیں، ایسے معاملوں میں اگرکسی قسم کاکوئی دھوکہ اور زور زبردستی بھی نظر آئے تو اس کے لئے انھیں قانون سزا دے گانہ کہ یہ بھگوا دھاری غنڈے؟ اور نہ ہی اس سے کسی کویہ حق مل جاتاہے کہ وہ’’لوجہاد، لوجہاد‘‘ چلّا کر اسلام اورمسلمانوں کو بدنام کرےاور آپس میں نفرت وعداوت کے شعلے بھڑکائے ۔
پچھلے دنوں ہریانہ کی نِکیتاکو ایک مسلم لڑکا دن دہاڑے گولیوں سے بھون دیتا ہے، دوسری طرف ویشالی بہار کی گلناز کو ایک ہندولڑکا پیٹرول سے زندہ جلادیتا ہے، دونوں معاملے یکساں ہیں، بس فرق ہے توصرف جرم کرنے والے کیریکٹرکا! وہاں مجرم مسلمان ہے تویہاں ہندو! لیکن فرقہ پرست بٹالین کی دوغلاپن دیکھئے کہ وہاں تو’’لوجہاد‘‘نظر آگیا مگر یہاں زبان بالکل گنگ ہے جیسے منہ میں زبان ہی نہ ہو، حقیقت یہ ہے کہ دونوں جگہ فرد واحد نے جرم کا ارتکاب کیاہے اوردونوں کوقانون اپنے حساب سے سزا دے گا، دونوں معاملوں سے متعلق فریقین کو انصاف دلاناقانون کی ذمہ داری ہے نہ کہ غنڈوں کی کسی تنظیم کی ؟کوئی بھی انصاف پسندایک معاملے کو’’لوجہاد‘‘اور دوسرے کو’’ہندوجہاد‘‘سے تعبیر نہیں کرسکتا اور اگر یہ فرقہ پرست طاقتیں ایک کو’’لوجہاد‘‘کہہ رہی ہیں تو دوسرے کو’’ہندوجہاد‘‘کیوں نہیں کہتیں؟جبکہ وہ خود ایسا کرنے کا سرعام اعلان بھی کرتی ہیں۔ٌٌٌ*تصویر کا پہلارخ*
’’لوجہاد‘‘جیسےفرقہ ورانہ اور متعصبانہ پروپیگنڈے نے سماج اور پولیس کے ساتھ ساتھ جوڈیشری کوبھی متأثر کر دیا ہے جس کا نتیجہ ہے کہ کیرالا سے لے کر راجستھان تک کورٹ نے عجیب و غریب فیصلے کئے ہیں، کیرالا کی24؍سالہ ’’اکھیلاتھانےعرف ہادیہ‘‘ کی شادی کو سپریم کورٹ نےیہ کہتے ہوئے منسوخ کردیا کہ وہ بالغ ہونے کے باوجود ذاتی فیصلے کے لئے خود مختار نہیں ہے اورہادیہ کو اس کے والدین کے سپرد کردینے کاحکم دے دیا، واضح ہو کہ’’ اکھیلا تھا نے‘‘ نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا اور ’’ہادیہ‘‘ بن کر’’ شفین جہاں‘‘ نامی مسلم لڑکے سے شادی کی، جس کا اعتراف ہادیہ نے سپریم کورٹ کے سامنے بھی کیا۔
جودھپور کی رہنے والی’’ پائل سنگھوی عرف عارفہ‘‘ نے اپریل 2020 ءمیں فیض مودی کے ساتھ نکاح کیا اور اکتوبر میں اپنے والدین کا گھر چھوڑ کر سسرال چلی گئی، 22؍ سالہ پائل عرف عارفہ نےجودھپور پولیس کمشنر کو خط لکھ کر مطلع کردیا تھاکہ اس نے اسلام قبول کر کے فیض سے نکاح کرلیا ہے، اس لیے عارفہ کے والدین نے پرتاپ نگر تھانے میں شکایت درج کرانے کی کوشش کی تو پولیس نے انکار کردیا لیکن انھوں نےکورٹ کے دروازے پر دستک دی تو اس کے تیور خوفناک تھے، کورٹ نے نہ صرف پولیس کو ایف آئی آر لکھنے کے لئے پابند کیا بلکہ عارفہ کو ناری نکیتن میں بھیج دیا، جسٹس گوپال کرشن ویاس نے جوڈیشری ضابطے کی توہین کرتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا کہ صرف 10؍ روپئے کے حلف نامہ سے پولیس یہ کیسے اندازہ کرسکتی ہے کہ مذہب کی تبدیلی جائز ہے؟ اس طرح تو میں بھی کل سے اپنے آپ کو ’’گوپال محمد‘‘ کہلوا سکتا ہوں۔ ایک جج کے ذریعہ حلف نامہ کی تضحیک اور اس کے اس بازارو لب و لہجہ سے اندازہ لگایا جاسکتاہے کہ فرقہ واریت کا زہرہمارے سماج میں کس قدر تباہ کن حدتک سرایت کرچکاہے ۔
*تصویرکادوسرارخ*
یوپی میں انسداد تبدیلی مذہب قانون کے نفاذ کے بعد بریلی میں ایک مسلم لڑکی کے باپ نے پولیس سے شکایت کی کہ دو لوگوں کے ساتھ مل کر ایک غیر مسلم لڑکے نے اس کی 22؍ سالہ لڑکی کو اغوا کیا اور اس کا مذہب تبدیل کرانے کے بعد اس سے شادی کرلی ہے، پولیس نے باپ کی اس شکایت کو ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دیا اورجبراً لڑکی سے پہلے تھانے میں پھر مجسٹریٹ کے سامنے اپنے موافق بیان دلوا کر اسے اس ہندولڑکے کے پاس چھوڑ آئی، جس پر اسے اغوا کرنے کا الزام ہے، پولیس کے مطابق لڑکی کہتی ہے کہ وہ بالغ ہے اور اس نے اپنی مرضی سے اپنا مذہب بدل کر ہندو لڑکے ’’امن‘‘ کے ساتھ ایک مندر میں شادی کی ہے، پولیس کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ ان دونوں نے نیا قانون نافذ ہونے سے پہلے ستمبر میں شادی کرلی تھی اس لئے ان پر یہ قانون لاگو نہیں ہوتا۔
جولائی مہینےمیں کانٹھ کارہنے والاراشدپنکی نامی اپنی ہندوبیوی کو مراد آباد کورٹ میں میریج رجسٹرڈ کرانے کے لئے لے کرجارہا تھا، ساتھ میں لڑکے کا بھائی بھی تھا، پولیس نے دونوں بھائیوں کو نئے قانون کے تحت گرفتار کرکے 14؍ دنوں کےلئے جیل بھیج دیا، یہاں لڑکی کہتی رہ گئی ہے کہ وہ بالغ ہے اور اس نے اپنا مذہب تبدیل نہیں کیا ہے، دونوں نے ہندو رسم ورواج کے مطابق جولائی2020ء میں ہی شادی کرلی تھی، لیکن یہاں پولیس  نے پنکی کی ایک نہیں سنی اور اسے بھی ناری نکیتن بھیج دیا، واضح ہوکہ اس دوران غنڈوں کی دھکامکی کے سبب ناری نکیتن میں پنکی کو شدید دردہوا اور اس کا حمل ضائع ہوگیا۔
یہاں یہ بات قابل غورہے کہ پولیس کی موجودگی میں بجرنگ دل کے ’’غنڈے ‘‘پوچھ تاچھ کے فرائض انجام دے رہے تھے  اور قانون بگھار رہے ہیں جبکہ پولیس ایسے ہاتھ باندھے کھڑی تھی جیسے وہ کسی ڈی ایم یا ایس سی پی کی تفتیش کے وقت کھڑی ہوتی ہے، پولیس کے اس رویئے نے یہ حقیقت واضح کردی ہے کہ مودی حکومت نے ملک میں ان غنڈوں کوپولیس پربھی فوقیت دے دی ہے، جبھی تویہ غنڈے ہمیشہ پولیسیا غرور میں چور نظر آتے ہیں۔
ان دونوں واقعات سے یہ بات واضح ہوگئی کہ نئے قانون کا مقصد ہندو لڑکیوں کو اپنا مذہب تبدیل کرنے سے روکنا کم مسلم لڑکوں کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈالنا زیادہ ہے، غور کریں کہ ایک ہندو لڑکی جس نے ’’جولائی‘‘ میں مذہب تبدیل کئے بغیر شادی کی تھی اس کے بیان پر یقین نہیں کیا گیا اور مسلمان لڑکے کو اس کے بھائی کے ساتھ جیل میں ڈال دیا گیااور ’’ستمبر‘‘ میں مذہب تبدیل کرنے کے بعد ایک ہندو لڑکے سے شادی کرنے والی مسلم لڑکی کا بیان تسلیم کرلیاگیا، جبکہ اس مسلم لڑکی کا باپ مسلسل شکایت کر تارہا کہ دفتر میں اس کےساتھ کام کرنے والے ’’امن‘‘ نے اس کی لڑکی کا اغوا کیااور جبراً مذہب تبدیل کراکر شادی کی ہے، مسلمانوں کے معاملے میں پولیس تو ہمیشہ سے متعصب رہی ہے لیکن اتنی کبھی نہیں رہی کہ ایک ہی چیز مسلمانوں کے لئے غلط اورہندوؤں کے درست ٹھہرا دے۔
تازہ خبر لکھنؤ کی ہے جہاں’’رقیہ‘‘سے ’’مسکان‘‘بنی ایک لڑکی اب نہ ’’گھر‘‘کی رہی، نہ ’’گھاٹ‘‘کی، یشوردھن شریواستو نے اسے دردر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور کردیا ہے، مسکان کے مطابق اس کی ساس کہتی کہ میں کسی’ ’شِڈول کاسٹ‘‘ لڑکی کو تو اپنے بیٹے کی بہو بنا سکتی ہوں لیکن تمہیں (مسلمان کو) نہیں، مجھے گھر کا کوئی بھی سامان چھونے نہیں دیا جاتا تھا ، یہاں تک کہ ایک کمرے سے دوسرے کمرے میں جانے پر بھی گالیاں دی جاتی تھیں، مجھے صرف اپنے شوہر کے ساتھ سونے کی اجازت تھی، جس پر میں سوچتی تھی کہ کیا میں کوئی استعمال کی چیز ہوں، میں مسلمان سے ہندو بن چکی ہوں پھر بھی مجھے گھر میں ہو رہی پوجا میں شامل نہیں ہونے دیا جاتا تھا، اگر میں مندر میں بیٹھ جاتی تو میری ساس مجھے وہاں سے یہ کہہ کر اٹھا دیتی کہ ’’مندر‘‘ ناپاک ہو جائے گا۔
ہندو بننے سے قبل رقیہ لکھنؤ کے ایک سول سروسز انسٹی ٹیوٹ میں پی سی ایس جے کی کوچنگ دیتی تھی، یشوردھن سے اس کی ملاقات وہیں ہوئی پھرمحبت کاسلسلہ چل پڑا، مسکان نے بتایا کہ یشوردھن شادی کے لئے اس پر دباؤ بنایا کرتا تھا، ایک دن نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ اس نے چاقو سے اپنے ہاتھ کی رگ کاٹ کر واٹس ایپ پر مجھے اس کی تصویر بھیجی اور دھمکی دی کہ اگر مجھ سے شادی نہیں کی تو میں خود کشی کر لوں گا، اس کے بعد میں نے اس سےشادی کر لی اور اپنا مذہب بھی تبدیل کر لیا، مسکان کے مطابق ’’یشوردھن نے کہا کہ اگر تم اپنامذہب تبدیل کر لوگی تو میرے خاندان کے ساتھ گھلنے ملنے میں آسانی رہے گی‘‘ میں نے بھی سوچا کہ زندگی توہندو سسرال والوں کے ساتھ ہی گزارنی ہے تو کیوں نہ میں بھی ہندو ہی بن جاؤں، سو میں ہندو بن گئی۔
مسکان نے آگے بتایا کہ شادی کے چھ مہینے بعد میرے والد کو میرا فیصلہ قبول کرنا پڑاپھر انہوں نے ہمارے لئے ایک تقریب بھی منعقد کی، میرے خاندان نے یشوردھن کو وہی درجہ دیا جو ایک داماد کو حاصل ہوتا ہے، لیکن مجھے میری سسرال والوں نے کبھی بہو کا درجہ نہیں دیا، میری زندگی اجیرن بن گئی ہے، مسکان کا کہنا ہے کہ میں پوری طرح برباد ہو چکی ہوں، ایک طرف میرے میکے والے مجھے’’ ہندو‘‘ کہتے ہیں تودوسری طرف میری سسرال والے مجھے ’’مسلمان اوراشدھ ‘‘مانتے ہیں، گویا میں گھرکی رہی نہ گھاٹ کی، میرے میکے والے مجھے لعن طعن کرتے ہیں،کوئی مجھ سے بات تک نہیں کرتا، کسی طرح میں نے اپنی ماں کو راضی کر کے ایک برامدے میں اپنا بستر لگایا ہے اور گھر والوں سے کہا ہے کہ میں آپ پر بوجھ نہیں بنوں گی، اس نے کہا کہ ’’جو میرے ساتھ ہوا وہ قانوناً جرم ہے، جس کے لئے میں نے اپنا گھربار،ماں باپ یہاں تک کہ اپنامذہب تک چھوڑدیا، اسی نے میرے ساتھ دھوکہ کیا ہے، اس نے سوال کیا کہ کیا انصاف کا ترازو کسی کا مذہب دیکھ کر انصاف کرتا ہے؟اوریہ کہ اگریہ معاملہ کسی ہندو لڑکی کا ہوتا تو کیا اس وقت بھی قانون کایہی رویہ ہوتا؟ میں چوں کہ مسلمان تھی اور میرا شوہر ہندو! اس لئے پولیس نے میری شکایات کو سنجیدگی سے نہیں لیا اورمیری بربادیوں کا تماشہ دیکھتی رہی۔
مسکان کے لئے انصاف کی جنگ لڑ رہی لکھنؤ کی ’’ایڈوا‘‘ نامی تنظیم کی مدھو گرگ کہتی ہیں ’’اَدَر مذہب میں شادی کرنے والے جوڑوں کو مختلف مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہی ہے، اس معاملہ میں بھی وہی دقتیں ہیں، ہندو اور مسلم لڑکیاں یکساں طور پر محبت کی شادیاں کرتی ہیں مگر حکومت صرف ہندولڑکی والے معاملے کو ’’لو جہاد‘‘ کا نام دے کر ایک ہی فریق کی بات کرتی ہے، جبکہ ہمارے پاس دونوں مذہب کی متاثرہ خواتین آتی ہیں۔‘‘
 لکھنؤکی رقیہ عرف مسکان کایہ معاملہ تازیانۂ عبرت بن کر ایسی مسلم لڑکیوں کو جھنجھوڑنے کے لئے کافی ہے جو یہ سمجھتی ہیں کہ محبت اور جنگ میں سب کچھ جائز ہے، دراصل یہ مقولہ ہی غلط ہے، اگر یہ تسلیم کرلیا جائے کہ "محبت اور جنگ میں سب کچھ جائز ہے" تو یہ بھی ماننا پڑے گا کہ یشوردھن نے جو ’’کچھ بھی‘‘ کیا وہ "سب کچھ" جائز ہے، اس نے جو آپ کو محبت کاجھانسہ دیا وہ بھی جائز، آپ کو مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کیا وہ بھی جائز، آپ کے ساتھ جو اس کے گھر والوں نے کیا وہ بھی جائز اور آپ کو استعمال کر کے جو اس نےسڑکوں پر چھوڑ دیا وہ بھی جائز، کیوں کہ یہ ’’جو کچھ‘‘بھی ہوا ’’سب کچھ‘‘ محبت میں ہوا ،اور آپ تسلیم کرچکی ہیں کہ "محبت اور جنگ میں سب کچھ جائز ہے"تواب کوئی بھی یہ کہنے میں حق بجانب ہوگاکہ یہ جوکچھ بھی آپ کے ساتھ ہوا یا آگے ہوگا اسے آپ ہی نے دعوت دی ہے اور  ع
 خود کردہ را علاجے نیست
 ہماری یہ تحریر تکمیل کے مرحلے سے گزر ہی رہی تھی کہ یو پی کے حالیہ عجوبۂ روزگار قانون کے تحت یوگی جی کی بہادرپولیس کا ایک’’ عظیم کارنامہ ‘‘سا منے آیا تو سوچا کہ اس کو بھی آپ کے سامنے رکھتے چلیں، ہوا یوں کہ کشی نگر میں ایک مسلم شادی کی تقریب ہو رہی تھی ،کسی سنکی پر’’لوجہاد‘‘کابھوت سوارہوا،اوراس نے تھانے میں اس کی شکایت کردی پھرتویوپی کی’’فرض شناس‘‘پولیس دندناتی ہوئی وہاں پہنچ گئی، جس سے اچھےخاصے خوشی کےماحول میں خوف وہراس چھاگیا، پولیس شادی رکواکر کسی کی کچھ سنے بغیردولہا دولہن کوتھانے لے گئی اوررات بھر انھیں حوالات میں بند رکھا، صبح جب اس معاملے میں پولیس کو’’لوجہاد‘‘کاکوئی بھی اینگل نہیں ملا تو دولہادولہن کوچھوڑنا پڑا۔
’’لو جہاد‘‘کے نام پریہ فرقہ پرست غنڈے اتنےاندھے ہوچکے ہیں کہ انھیں ہرجوڑا’’لوجہادی‘‘ہی نظر آتا ہے، پچھلے دنوں آوارہ کتوں کی طرح بے لگام گھومنے والے ان غنڈوں کی ایک گھناؤنی حرکت سامنے آئی، 10؍ اکتوبر کو ایک جوڑا ’’ریواڑی‘‘ بس اڈے پر پہنچا تو اسے ان فسطائی غنڈوں نے اس لئےگھیر لیا کہ یہ’ ’لو جہادی‘‘ کسی ہندولڑکی کولے کرکہیں فرار ہورہاہے، لڑکے کو زدو کوب کیا جانے لگا یہاں تک کہ اس کے مذہب کی تصدیق کے لیے بس اڈے پر ہی اسےسر عام برہنہ کردیا گیا، خیریت یہ ہوئی کہ وہ بیچارہ ہندو نکلا جس کے سبب اس کو انھیں چھوڑنا پڑا، ورنہ اس کی موب لنچنگ یقینی تھی، بعدمیں میاں بیوی نے تھانے میں شکایت درج کرائی، جب کوئی کارروائی نہیں ہوئی تو وزیراعلیٰ کے دفتر میں شکایت کی، اس کے بعد تھانے میں بیوی پر دباؤ ڈال کر شکایت واپس لینے پر مجبور کیا گیا، اب یہ معاملہ ریواڑی کی ایس پی سنگیتا کالیا کے سپردہے جنھوں نے ڈی ایس پی کے ذریعہ تفتیش کے بعدمجرموں کو قرار واقعی سزا دلانے کا’’ وعدہ‘‘ کیا ہےجیساکہ پولیس عام طورپرکرتی ہے، اگر قانون کی حکمرانی ہوتی تو پہلے پولیس سے شکایت کی جاتی لیکن بی جے پی کی حکومت میں اس کی کیا ضرورت ہے؟ لااینڈآڈر کے لئے تو حکومت کے منظورنظریہ فرقہ پرست غنڈے ہی کافی ہیں۔
بی جے پی نے تو ہر اس غنڈہ گردی کوقانونی جامہ پہنادیا ہے جس میں بھگوا جھنڈا لے کرقانون کی دھجیاں اڑائی جاتی ہیں، چندبدقماش لوگ بھگوا رومال لے کرکسی بھی پارک میں جوڑوں کودوڑانے لگتے ہیں، کبھی یہ بھگوا ٹیکا لگاکر گِدھوں کی طرح کسی کے کچن میں جھپٹامارتے ہیں تو کبھی اس بھگوا کا سہارا لے کرکسی کو موت کے گھاٹ بھی اتاردیتے ہیں، پولیس اپنارشتہ دار سمجھ کر ان کی آؤبھگت کرتی ہے اوربی جے پی کے لیڈران ہارمالا پہنا کران غنڈوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔
ہونا تو یہی چاہئے کہ نہ مسلم لڑکاکسی ہندولڑکی سے شادی کرے، نہ کوئی ہندولڑکا کسی مسلم لڑکی سے! خواہ دھوکہ دے کر ہویا جبراً، برضاورغبت ہویامجبوراً، کسی بھی صورت میں یہ بھیانک قدم نہیں اٹھنا چاہئے، جوش میں ہوش کھونے والے نوجوانوں کا یہ قدم نہ صرف ماں باپ کے ارمانوں پرپانی پھیر دیتا ہے بلکہ سماج میں بھی ان کی عزت وعظمت کو تارتار کر دیتا ہے اور فرقہ پرست غنڈوں کو اپنی ذہنی غلاظت سے بھائی چارہ کے ماحول کو پراگندہ بنانے کاموقع بھی فراہم کردیتا ہے، خود ایسے جوڑوں کے لئے بھی فرقہ پرست غنڈوں کے ساتھ ساتھ ہماری ’’فرض شناس پولیس‘‘کی ’’مہربانیوں ‘‘کا خطرہ ہمیشہ بنا رہے گا۔
آخر میں ہم تمام مسلم والدین سے یہ التماس کریں گے کہ ’’ترقی یافتہ‘‘کہلانے کی دھن میں اپنے بچوں کواتنا’’روشن خیال ‘‘ نہ بنائیں کہ اُن کی اِن مذموم حرکتوں کی وجہ سے آپ ہی کے ’’چودہ طبق روشن‘‘ ہوجائیں اورآپ اس’’مکروہ روشنی‘‘میں اپنا چہرہ چھپاتے پھریں حتیٰ کہ اہل دنیاکے سامنے اپنی نظریں بھی نہ اٹھا سکیں، اس لئے انھیں ہمیشہ اپنے حدودمیں رہنے کی تلقین کریں اوراسلام کی بنیادی تعلیمات سے انھیں لازمی طورپر آراستہ وپیراستہ کریں کیونکہ ایک کامیاب زندگی جینے کے لئے اسلام سےبہتر کوئی طریقہ نہیں اور ایمان سے قیمتی کوئی شئے نہیں، دنیا کی محبت ملے یانہ ملے، اسلام کادامن ہاتھوں سے نہیں چھوٹنا چاہئے، اس کی حفاظت ہرحال میں لازم وضروری ہے۔
ایڈیٹرماہنامہ سنی دنیاومفتی مرکزی دارالافتاء،بریلی شریف

Ads

علاقائی

Ads