Masarrat
Masarrat Urdu

ربیع الاول تقاضہ کرتا ہے ایک معیاری سماج بنانے کا

Thumb


یہ مہینہ ربیع الاول کا ہے۔ اس ماہ مبارک میں رسول اللہ ؐ کی ولادت ہوئی اور وفات بھی اسی مہینے میں ہوئی۔ربیع موسم بہار کو کہا جاتا ہے۔یقینارسول اللہؐ کی ولادت خزاں رسیدہ دھرتی کے لئے بہار لے کر آئی اور اسی مناسبت سے  اس ماہ کا نام ربیع یعنی موسم بہار پڑا۔  پوری دنیا کے مسلمان اس ماہ کو آپ کی محبت کی لذت میں بسر کرنا چاہتے ہیں  اور گنہگار سے گنہگار بھی اس ماہ کی عظمت پر خود کو قربان ہونے کو سعادت سمجھتا ہے۔یہ ایک اچھا جذبہ ہے۔ لیکن ہمیں اس حقیقت کو بھی نہیں بھلانا چاہئے کہ اس ماہ کی آمد جہاں ہمارے لئے خوشیوں کا پیغام لے کر آتا ہے اور ولادت نبی کی تاریخ کا سرور دیتا ہے وہیں آپ ﷺ کی رحلت کا سوز بھی دیتا ہے کہ اسی ماہ میں آپ اس دار فانی سے دار بقاء کی طرف کوچ کئے۔اسی ماہ میں سرکار کونین کی ولادت اور رحلت سے ہمیں یہ پیغام ملتا ہے کہ خوشی و شادمانی  اور غم و اندوہ کے اظہار میں ہمیں ایک معتدل راستہ اختیار کرنا ہے۔ مذہب اسلام  کا یہی تقاضہ ہے، کیونکہ اسلام متوازن اور اعتدال پسند دین ہے۔ اس کی تعلیمات اور احکام میں توازن پایا جاتاہے۔ اس نے ہر معاملہ میں اعتدال کا حکم دیا ہے اور افراط و تفریط کا خاتمہ کیا ہے۔اب اگر ہم اس اعتدال کو چھوڑ دیتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ ہم اس ماہ مبارک میں بجائے بہتر کرنے کے حکم عدولی کے مرتکب ہورہے ہیں۔اس ماہ میں کرنے کا کیا ہے اور بچنے کا کیا ہے؟۔  جماعت اسلامی ہند کے امیر سید سعادت اللہ حسینی نے اپنی ایک تقریر میں اس پر سیر حاصل روشنی ڈالی ہے۔ انہوں نے اپنی اس تقریر میں کہا کہ رسول اللہ کی زندگی نوع انسان کے لئے ایک نمونہ ہے۔ نمونہ کا مطلب ہے ان کے حکم کی پیروی کرنا۔یہ پیروی چند روز کے لئے نہیں بلکہ تا حیات ہے اور یہ حکم قیامت تک جاری رہے گا۔ رسول کی زندگی کا احصاء کیا جائے تو ہماری زندگی کے تمام شعبوں کے لئے  نمونہ موجود ہے۔ اہل خانہ کے ساتھ محبت، رشتہ داروں اور اقربا کے ساتھ حسن سلوک، تاجر کی حیثیت سے ایمانداری، حکمراں کی حیثیت سے انصاف پروری، خوشحالی میں شکر گزاری، بدحالی میں صبر، انقلابی تحریک کی قیادت کرتے ہوئے تحمل و برداشت، شعب ابی طالب کے اذیتوں سے بھرے ایام میں صبر و رجاء اور فاتح کی حیثیت سے مکہ میں داخل ہوتے ہوئے عفو و درگزر کا اسلوب۔غرض زندگی کے جتنے  بھی شعبے ہیں، سب میں نبی کا عملی نمونہ مل جاتا ہے۔ اس کے علاوہ آپ کے اقوال کی پیروی بھی عملی نمونے کا جزو ہے۔یہ عملی نمونہ زندگی کے ہر گوشے میں ہونا چاہئے۔اسلام کی تعلیمات نہایت ہمہ گیر اور جامع ہیں۔اسلام انفرادی زندگی کے لئے بھی ہدایات دیتا ہے اور اجتماعی زندگی کے لئے بھی۔اسلام میں جتنی اہمیت اخلاقی نظام اور عبادت کی ہے اتنی ہی اہمیت سیاسی، معاشرتی تمدنی اور اقتصادی نظام کی بھی ہے۔ حضورؐ کی رواداری، مساوات، عورتوں کے حقوق و احترام، بچوں کی تعلیم و تربیت وذہنی تعمیر، حق کی پاسداری، برائیوں کی بیخ کنی کے حسین طریقے، بھائی چارگی، پڑوسیوں کے حقوق غرض ہر موقع پر ہمیں رسولؐ کے اسوہ کا خیال رکھنا ہوگا۔ کیونکہ اسی میں دنیا کا سکون ہے اور آخرت کی کامیابی بھی اور اسی اسوہ حسنہ کی پیروی کرکے ہم ایک معیاری سماج کی تخلیق کرسکتے ہیں“۔ 
اگر ہم اس وقت دنیا کے حالات کا جائزہ لیں تو انسانی آبادی سخت بے چینیوں اور کلفتوں میں گرفتار ہے۔ظلم و زیادتی کی گرم بازاری ہے اور انسانی خون پانی کی طرح بہایا جارہا ہے۔مصر، عراق، ایران، افغانستان، روہنگیا وغیرہ میں خون کی ارزانی ہے۔اس کا حل اگر کہیں مل سکتا ہے تو وہ محمدی دستور حیات کو اختیار کرنے میں ہے۔ صرف زبان سے محبت کا دم بھرنے سے اسوہ محمدی کی پیروی کا حق ادا نہ ہوگا۔آپ ؐ نے اپنی زندگی کے آخری وقت میں نماز کی وصیت فرمائی تھی، بیجا اسراف اور فضول خرچی سے باز رہنے کی تلقین کی تھی، پڑوسی اور رشتہ داروں کے ساتھ نرم کردار و نرم گفتار بن کر ایک پُرامن سماج کو وجود میں لانے کی تلقین کی تھی، غیر محرم عورتوں سے اختلاط تو بڑی چیز، ان کی جانب نظر اٹھانے کو بھی دین و ایمان کی ہلاکت قرار دیا تھا، مگر ہمارا رویہ اس سے بالکل الگ اور من مانی کا ہے اور عورتوں کے احترام کو بالکل نظر انداز کردیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ آج کے دور میں عصمت دری کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔واشنگٹن پوسٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں ہر روز تقریباً 87 عصمت دری کے واقعات رونما ہورہے ہیں۔اگر ہر فرد رسول پاکؐ کے قول کو مضبوطی سے پکڑ لے اور عورتوں کا احترام اور ان کی ناموس کے تحفظ کو لازمی  سمجھے  تو  نربھیا یا ہاتھرس دلت لڑکی کے ساتھ ہوئے سماج مخالف،انسانیت  سوز اور دردناک حادثات سے بچا جاسکتا ہے۔قابل غور ہے کہ اسلام کا پیغام تمام بنی نوع انسان کے لئے ہے چاہے وہ کسی ملک و ملت اور رنگ و نسل کا ہو۔ یہ بات ذہن نشیں کرنے کی ہے کہ دین اسلام عالم انسانی  کے لئے نازل کیا گیا ہے لہٰذا بلا تفریق مذہب و ملت ہر فرد اس کی تعلیمات کو اپنی زندگی کا حصہ بنالیا جائے  تو ایک اچھا اور معیاری سماج وجود میں آئے گا۔یہ مہینہ ہر سال آتا ہے اور ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم اہل ایمان نے اپنے نبی کے نقش قدم پر چلنے کا جو ایمانی عہد کیا ہے، اسے پس پشت نہ ڈالیں۔اس ماہ کا تقاضہ ہے کہ پوری زندگی بالخصوص اس ماہ میں کوئی خلاف سنت کام نہ ہو،جو دین ہادی عالم کی منشا کے خلاف ہو اور ننگ انسانیت کا باعث بنے مگر ہائے افسوس کہ انسان اسی گھٹا ٹوپ اندھیرے کی طرف جارہاہے جدھر سے نبی کریم ؐنے نکالا تھا۔
 ہمیں غور کرنا ہے کہ اس ماہ میں  ہمیں کیا کرنا ہے اور کیا نہیں۔اس پر رہنمائی کے لئے جہاں ملک کے علماء انفرادی طور پر محنت کررہے ہیں وہیں تنظیمیں، جماعتیں اور ملی ادارے اپنے اپنے طور پر امت کو ربیع الاول کے تقاضے سے آگاہ کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔ اس ماہ کی ابتدا سے ہی جماعت اسلامی ہند کے شعبہ اسلامی معاشرہ نے ایک پروگرام شروع  کیا ہے۔ اس پروگرام کے تحت  پورے مہینے روزانہ ایک مختصر ویڈیو جاری کیا جاتا ہے جس  میں رسول اللہ کے ارشادات اور سیرت کی روشنی میں اسلام کی تعلیمات عام کی  جاتی ہے۔ ہر ویڈیو الگ الگ عنوانات پر امت کو اسلام کی تعلیمات سے آگاہ کرتا ہے۔ اس موقع پر مولانا جلال الدین عمری صدر شرعیہ کونسل، جماعت اسلامی ہند نے اپنے  ایک خطاب میں کہا کہ اس ماہ کے آتے ہی لوگوں میں ایمانی جذبہ ابھرکر سامنے آنے لگتا ہے اور ذکرو فکر میں اضافہ ہونے لگتا ہے جواس بات کا غماز ہے کہ ہمارا رشتہ رسول پاک سے بہت گہرا ہے۔ہر مومن اللہ سے محبت کو عزیز از جان رکھتا ہے اور اللہ کے رسول فرماتے ہیں کہ اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری اتباع کرو۔  اس کا صاف  مطلب ہے کہ اللہ کی محبت رسول کی اطاعت میں مضمر ہے اور رسول کی اطاعت کا مطلب ہے ان کے اعمال و گفتار کو اپنی زندگی میں لاگو کرنا۔ جس کام کواللہ کے رسول نے پسند فرمایا،وہ ہماری پسند ہو۔جسے اللہ کے رسول نے مسترد کیا وہ ہمارے نزدیک قطعی متروک ہو۔ مولاناولی اللہ سعیدی فلاحی اسی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہتے ہیں کہ رسول اللہ کی پیروی میں کامیابی ہے۔ پیروی کرنے والا کسی رنگ و نسل کا ہو، رسول کی پیروی  اس کے لئے کامیابی ہے۔ بلال حبشی کی مثال ہمارے سامنے ہے۔الگ رنگ و نسل کے تھے مگر پیروی کی تو کامیاب ہوئے  اور اگر پیروی نہیں کی گئی  تو رسول کا چچا ہی کیوں نہ ہو تباہ و برباد ہوگا۔ اللہ کے رسول نے عورتوں کو عزت دی مگر ہمارا کردار کیا ہے۔ ماں،بہن، بیٹی اور بیوی کی شکل میں سماج میں اسے کیا مقام دیا جارہا ہے۔ظاہر ہے ہمیں ان تمام امور میں اللہ کے رسول کے کردار کو دیکھناہوگا۔ یہ مہینہ خوشیاں لے کر آیا ہے اور ساتھ میں رسول کی وفات بھی۔ ہمیں  اعتدال کے ساتھ اسلام کی تعلیمات کو اختیار کرنے کا عہد کرنا ہوگا۔ کیونکہ اسی میں دین اور دنیا کی کامیابی ہے۔ 

 

Ads