Masarrat
Masarrat Urdu

اسپرنگ کو جتنا دباو گے وہ اتنی زور سے اچھلے گی

Thumb


 جب کوئی قوم اللہ پر ایمان لانے کے بعد اس کی نافرمان ہو جاتی ہے اور اس کے نیک بندے لا پرواہ ہو جا تے ہیں تب اللہ انہیں سبق سکھانے اور سیدھے راستے پر لانے کے لئے انہیں مصیبتوں میں ڈال دیتا ہے، ان پر ظالم حکمرانوں کو مسلط کر دیتا ہے جو ہر قدم پر ان کے ساتھ نا انصافی اور ظلم کر تے ہیں۔آج دنیا بھر کے مسلمانوں کے پاس مال و دولت ہے مگر ان کی عزت اور اہمیت نہیں ہے۔وہ عیش پرست ہیں جفاکش نہیں، امریکہ اور یوروپ کے غلام  اور محتاج ہیں۔غلامی اور محتاجی کا احساس ہو تا تو بڑی بات تھی مگر وہ احساس بھی نہیں ہے ، عقل تو ہے مگر اسے استعمال کر نا نہیں آتا۔اللہ کا کہنا ہے کہ جب  وہ کسی قوم کو سزا دینا چاہتا ہے تو سب سے پہلے اس کے خوشحال لوگوں کو گمراہ کر دیتا ہے۔ غور سے دیکھیں تو آج دنیا کے تمام مسلم حکمران گمراہ ہو گئے ہیں۔ان کی پریشانیوں اور مصیبتوں کا حل آسان ہے مگر ان کے دماغ کام نہیں کر رہے ہیں۔کوئی اگر سمجھائے تو بھی ان کی سمجھ میں نہیں آ رہا ہے۔یہی حال ہندوستانی مسلمانوں کا بھی ہے۔مسلمانوں پر الزام لگایا جا رہا ہے کہ تم دہشت گرد ہو اور مسلمان ہیں کہ یہ بتانے میں لگے ہیں کہ وہ دہشت گرد نہیں ہیں۔ اگر عقل ہو تی تو مسلمان اپنا دفاع کر نے کے بجائے انہیں کو دہشت گرد ثابت کر نے پر زور دیتے  اور انہیں کو اپنا دفاع کر نے میں الجھا دیتے۔ بات یہاں عقل اور حکمت کی ہے۔ مسلمان چاہے جتنا اپنا دفاع کر یں نہ حکام مانیں گے اور نہ ہی عوام کیونکہ سب پہلے سے طئے شدہ ہے کہ آپکو دفائی پوزیشن میں رکھ کر سنا نا ہے۔آپ کتنی ہی صفائی دیں کوئی نہیں مانے گا۔ اس لئے صفائی دینا بند کریں اور دشمنوں کو الجھن میں ڈال دیں۔ ہم مسلمان اب تک بہت ساری مصیبتوں سے دو چار ہونے کے باوجود مسلکوں کی شدت پسندی سے اوپر نہیں اٹھے، آپسی دشمنی نہیں بھولے اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانا نہیں چھوڑے۔دشمنان اسلام کو معلوم ہو گیا ہے کہ عام مسلمانوں کی اکثریت کم پڑھے لکھے ہو نے کے سبب مذہبی حضرات ہی کی مانتے ہیں۔ وہ جو کہہ دیں اور سمجھا دیں وہ پتھر کی لکیر ہے۔دشمنان اسلام اس کا فائیدہ کس طرح اٹھا رہے ہیں اس کی تفصیل ایک دانشور نے بیان فرمائی ہے۔وہ مسلمانوں کو لڑا کر انہیں کمزور کر نے کی سازش سے پردہ اٹھاتے ہوے اْس حکمت عملی کا پردہ فاش کیا ہے جس پر آج کل عمل کیا جا رہا ہے۔ اسکیم یہ ہے کہ چند کروڑ روپئے خرچ کر نے کے لئے تیار ہو جائیے۔ ایک مسلک کے چار عالموں اوردانشوروں کو چنیے، انکی کم آمدنی کا ذکر کیجیے اور انہیں یقین دلائیے کہ آپ ان کے ہمدرد ہیں۔ ان سے کہو کہ آپ ان کو ماہانہ پچاس ہزار تنخواہ دو گے اور ان کی دوسری ضرورتوں کا بھی خیال رکھو گے۔ بس ان کو اتنا کر نا ہے کہ دوسرے مسلک کے ماننے والوں کو قرآن اور حدیث کی روشنی میں کافر یا گمراہ ثابت کیجیے اور دل کھول کر ان کے خلاف بولیے۔ یہی عمل دوسرے اور تیسرے مسلک کے کچھ عالموں اور دانشوروں کے ساتھ کیجیے۔ یہ عمل دیوبندی،بریلوی ، اہل حدیث اور شیعہ کے ساتھ کیجیے۔ بس مسلمانوں کو لڑانے اور ان میں انتشار ہیدا کر نے کا کام ہو جائے گا اور ہمارا مقصد پورا ہو جائے گا۔ یہ کام مدت دراز سے چل رہا ہے اور آئندہ بھی چلتا رہے گا مگر مسلمان ہیں کہ سمجھ نہیں پا رہے ہیں۔ اتر پردیش ان جھگڑوں کا مرکز بن چکا ہے۔ ہر گلی ان جھگڑوں میں الجھ چکی ہے۔ ہم کتنا بھی کہیں مذہبی حضرات اس کمزوری کو نہیں مانیں گے اور غور و فکر نہیں کریں گے بلکہ الٹا کہنے والوں پر برسیں گے۔  میرا اور میرے ساتھی  مصنفیوں کا اور کالم نگاروں کا مشاہدہ ہے کہ آپ کتناہی اچھا اور معلوماتی مضموں شائع کیجئے ہر کوئی فون کرے گا یا تبصرہ کرے گا مگر کوئی مذہبی آدمی فون نہیں کرے گا اور نہ ہی کچھ تبصرہ کرے گا۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ یا تو اخبار ہی نہیں پڑھتے یا ان کی نظر میں ہماری کوئی اہمیت نہیں ہے۔ اب وقت ہے کہ ہم سب اپنی کمزوریوں اور غلطیوں کا اعتراف کریں اور کھلے دل سے غور و خوص کر نے کے لئے بیٹھیں۔صرف ایسے لوگ بیٹھیں جن کا مطالعہ، مشاہدہ اور تجربہ وسیع ہے۔ایک بات جو سمجھ میں نہیں آتی وہ یہ کہ آر یس یس اور بی جے پی  اپنے آپ کو ملک کے وفادار، امن کے پجاری، انصاف کے حامی، ملک کی ترقی کے خواہشمنداور سب کا ساتھ سب کا وکاس کے آرزو مند بتانے کی کوشش کر تے ہیں۔ تو اقلیتوں سے نفرت کی باتیں کیوں کرتے ہیں، انہیں تکلیف پہنچانے کی باتیں کیوں کر تے ہیں، ملک میں امن و امان کو کیوں دھکا پہنچاتے ہیں، خود بھی اس سوچ میں پریشان رہتے ہیں کہ دوسروں کو کس طرح  ستایا جائے اور دوسروں کو بھی اس سوچ میں پریشان رکھتے ہیں کہ ان کے ظلم سے کس طرح خود کو بچائیں۔اگر مسلمانوں پر اس بات سے غصہ ہے کہ وہ انہیں الیکشنوں میں ووٹ کیوں نہیں دیتے تو ان سے گزارش ہے کہ ذرا اپنی پالیسی اور سوچ کو تو بدل کر دیکھیں، مسلمانوں کے جائز حقوق کو دے کر تو دیکھیں اور ان کے ساتھ انصاف کر کے تو دیکھیں۔مانا کہ فرقہ پرستی اور مسلمانوں کو دشمن وطن بتا کر اقتدار تو حاصل کر لیا اور الیکشن تو جیت لئے مگر اب تو انصاف کو مقدم رکھو اور اچھے کام کر کے الیکشن تو جیتو۔(فرقہ پرست اردو اخبارات ضرور پڑھتے ہیں اور مسلمانوں کے خیالات کا علم رکھتے ہیں)۔ عربوں کو اللہ نے بغیر محنت کئے اور بغیر پسینہ بہائے اتنی زیادہ دولت دے دی ہے کہ ان کی ساری سوچ اس دولت کو بچانے اور خود کی عیاشی پر پر خرچ کر نے میں لگی ہے۔ انہیں اس بات کا شائد علم نہیں ہے کہ ساری دنیا انہیں بیوقوف، عیاش، بزدل، بے غیرت اور لا پرواہ سمجھ رہی ہے۔پچھلے بیس سالوں سے میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ بیشمار عرب یوروپ اور امریکہ جاتے ہیں، رہتے ہیں اور دوسروں سے ملتے جلتے ہیں مگر  نہ سیاسی حکمت پہچانتے ہیں، نہ معاشی، نہ تعلیمی اور نہ ہی مذہبی اور نہ ہی جمہوریت کے فائدے پہنچانتے ہیں۔صرف عیش و عشرت، زنا اور کھیل تماشے میں اپنا وقت گزارتے ہیں۔جیسے ہی اپنے وطن واپس آتے ہیں ویسے ہی دقیانوسی باتیں شروع کر دیتے ہیں۔ ظلم، دھوکا اور جھوٹ ان کا معمول بن جاتا ہے۔ جو بھی حکمرانوں کے خلاف منھ کھولتا ہے سمجھو وہ اپنی موت کو دعوت دیتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ عرب ممالک میں لوگ ایسی زندگی گزارتے ہیں جیسے پالتو جانور اپنے مالک کے گھر گزارتے ہیں۔ گھاس ڈالے تو کھا لیتے ہیں، مارے تو مار کھا لیتے ہیں، گالی دو تو سن لیتے ہیں ڈراو تو ڈر جاتے ہیں اور قتل کرو  توقتل ہو جاتے ہیں۔ جب مسلم ممالک میں ایسا ہو رہا ہے تو اگر دوسرے ممالک میں ہو تو مسلمان کیوں پریشان ہو سکتے ہیں اور انہیں برا بھلا کیوں کہہ سکتے ہیں؟مسلمان کیوں سوچتے ہیں کہ جمہوریت میں ایسا نہیں ہونا چاہیے۔اقلیتیں اسپرنگ کی طرح ہیں جنہیں جتنا دباو گے وہ اتنی ہی تیزی سے اوپر اچھلیں گے۔ اگر مسلم ممالک کی طرح لیجسلیچر، قانون اور اڈمنسٹریشن جانبدار ہو جائیں تو ہم مسلمانوں کو صرف ان سیکولر غیر مسلموں کا ساتھ دینا ہو گا جو نا انصافی کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ آپ کتنا ہی چیخو چلاو نتیجہ تو صفر ہے کیونکہ حکومت کی اکثریت تو فرقہ پرستوں ہی کی ہے۔ایسے میں راستہ کیا ہے؟ ہم مسلمان بیس فیصد ہیں اور جانتے ہیں کہ ہم جس پلڑے میں بیٹھ جائیں وہ پلڑا جھک جائے گا۔ اس کے باوجود ہم روپیے لے کر ووٹ دیتے ہیں، رشتہ دار جو الیکشن جیت نہیں سکتا اسے   ووٹ دیتے ہیں، آزاد امیدوار جو جیت نہیں سکتا اسے ووٹ دیتے ہیں۔ چھوٹی چھوٹی پارٹیاں جو تین ہزار ووٹ بھی نہیں لے سکتے انہیں ووٹ دیں گے اور تمام ووٹ بانٹ کر بیکار کر دیں گے۔ ایسا کر کے ہم فرقہ پرستوں کو دو تین ہزار ووٹوں سے جتا دیں گے اور بعد میں ہاتھ ملتے رہیں گے۔ متحد ہو کر ووٹ دیں تو ضرور کامیاب ہوں گے اور مصیبتوں سے چھٹکارا پائیں گے۔ دیکھنا ہے کہ مسلمان بہار میں سیکولر گٹھ بندھن کو ووٹ دیتے ہیں یا وہاں بھی ووٹ ضائع کر دیتے ہیں۔ ہندوستان میں  70 فیصد عوام سیکولر ذہین رکھتے ہیں۔ اس لئے ہمیں فکر مند ہونے کے بجائے خاموشی سے ان کا ساتھ دے دینا چاہیے۔اگر کچھ اہم عدالتی فیصلے مسلمانوں کے خلاف ہوں تو غم نہ کریں بلکہ عادت ڈال لیں اور خود کو ہر میدان میں آگے لانے کی کوشش کریں۔جو فیصلے عدالتوں میں خلاف ہوے وہ نتیجہ ہے ہمارے  70 سالوں سے مسلک مسلک اور شریعت شریعت لڑتے رہنے کااور نا اتفاقی کا۔افسوس اس بات کا ہے کہ مذہبی حضرات، مالدار حضرات اور مسلم دانشور وں کو اپنی بربادی اور کمزوری کا احساس نہیں ہے۔ شاید اللہ ہم میں یہ احساس پیدا کر نے کے لئے ہمیں آگ میں تپا رہا ہے۔ بابری مسجد کو توڑنے کا پلان بنانے والے، شر پسندوں کو اکسانے والے اور مسجد کو تڑوانے والے  23 افراد پر مقدمے دائر کئے گئے اور یہ مقدمے   28 برس چلنے کے بعد انہیں بے قصور ثابت کر دیا گیا مگر یہ سزا کیا کم ہے کہ وہ سب  28 سال اس ٹینشن میں مبتلا رہے کہ نہ جانے عدالت ان کے کیا فیصلہ سنائے گی۔ اگر یہ کیس کہیں سپریم کورٹ جاتا ہے تو وہ سب اور دو تین سال اسی ٹینشن میں رہیں گے۔جو حضرات اپنے مذہب کی محبت میں کچھ غیر قانونی کام کر تے ہیں مگر سزا کے ڈر سے اگر اس کا انکار کرتے ہیں تو وہ بزدل اور کائر ہیں، اپنے مذہب کے سچے وفادار نہیں ہیں۔ جو بھی شخص اپنے مذہب کی مقدس کتاب کا مطالعہ نہیں کر تا اور اس پر نہیں چلتا وہ اس مذہب کا سچا وفادار نہیں ہو سکتا

 فون:9980827221

 

Ads